مولانا کی ن لیگ اورپی پی پی کے بغیر ایک اورحکومت مخالف تحریک

مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک کیلے سولو فلائٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد آزادی مارچ میں علامتی طور پر اکٹھی اور عملاً الگ الگ نو جماعتی اپوزیشن اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے نو جماعتی اپوزیشن اتحاد میں سے صرف چھ جماعتوں کو حقیقی اپوزیشن قرار دے دیا ہے۔ ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دینے کے فیصلے پر مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے راستے جدا کر لئےہیں۔ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کرنے پر سربراہ جے یو آئی نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئےدونوں جماعتوں کے قائدین کو مستقبل کی حکمت عملی پر مشاورت کے عمل سے نکال دیا ہے اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو عطار کے لونڈے قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے ملکر ایک دفعہ پھر حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے 19 مارچ سے حکومت مخالف ‘آئین پاکستان تحفظ تحریک’ کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔
حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے حوالے سے جے یو آئی ف، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، جے یو پی، قومی وطن پارٹی، نیشنل پارٹی اور مرکزی جمیعت اہلحدیث کی مرکزی رہنماوں کا مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں 20 جنوری کو مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی قیادت کے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ دونوں جماعتوں سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا فضل الر حمان نے آزادی مارچ، اے پی سیز اور آرمی ایکٹ کی حمایت کرنے پر پی پی اور ن لیگ کے کردار سے سخت مایوسی کا اظہار کیا۔
اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘آرمی ترمیمی ایکٹ پر اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دیا اور ووٹ کی عزت کو پامال کیا اور ووٹ کو عزت کے بیانیے کی نفی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کا اجلاس بلایا گیا جس میں طے ہوا ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، آٹا مہنگا ہو رہا ہے، وزرا عام آدمی کا مذاق اڑا رہے ہیں، ہم آزادی مارچ سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے 19 مارچ کو لاہور سے ‘آئین پاکستان تحفظ تحریک’ کا آغاز کیا جارہا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘کوئی ہمارے ساتھ نہ کھڑا ہو تب بھی یہ جماعتیں مل کر جدوجہد کریں گی اور عوام کی خاطر ہم کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ‘پیپلز پارٹی سے لوگ مایوس ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی ہمارے ساتھ آن بورڈ نہیں تھی نہ ہے جبکہ ہم قوم کے لیے خود راستے بنائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو تحریک میں شامل ہونے کی دعوت سے متعلق سوال کے جواب میں سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ ‘ہم انہی سے مایوس ہوئے کیا اسی عطار کے لونڈے سے دوا مانگیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ ‘آزادی مارچ میں دونوں جماعتیں علامتی طور پر شرکت نہ کرتیں تو یقین دہانیوں کی صورتحال کچھ اور ہوتی، اب ہماری تحریک چولہا جلاؤ ان کو بھگاؤ کے نعرے پر چکے گی۔
اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نواز شریف کے بیانیہ ‘ووٹ کو عزت’ کے ساتھ آج بھی ہیں لیکن انہیں کو اب کیا ہوا اس کی تحقیقات کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم ہر اس قوت کے ساتھ ہیں جو پارلیمان کی بالادستی اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنی حدود میں رہنے کی بات کرے، جو اس بیانیہ کے ساتھ نہیں افسوس کہ ہمارا اب اس سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ نواز شریف کو ووٹ کو عزت دیتے ہوئے اچانک کیا ہوا۔
یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے حوالے سے طلب کئے گئے مشاورتی اجلاس میں اجلاس میں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔
