موہنجو داڑو کے تاریخی کھنڈرات سیلاب سے بری طرح متاثر

ایک صدی پہلے 1922 میں سندھ میں دریافت ہونے والے موہنجو ڈرو کے کھنڈرات کو حالیہ سیلاب کے نتیجے میں آنے والی تباہی کے بعد عالمی محکمہ آثار قدیمہ نے عالمی ثقافتی ورثے کی لسٹ سے نکالنے کا امکان ظاہر کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے موہنجوداڑو کے کھنڈرات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اگر ان کے تحفظ اور بحالی کے لیے فوری اقدام نہ کیے گے تو اس تارٰیخی مقام کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالا جا سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ موہن جو داڑو کے کھنڈرات میں 16 سے 26 اگست کے دوران 780 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس سے کھنڈرات کو سخت نقصان پہنچا ہے اور بہت ساری شکستہ عمارات منہدم ہو گئی ہیں۔
مسلسل بارش کے باعث میں مشہور زمانہ سٹوپا گنبد کی حفاظتی دیوار بھی جزوی طور پر گر گئی ہے حالانکہ اس کے اوپر حفاظتی ترپال بھی ڈالی گئی تھی۔ چنانچہ عالمی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے مقرر کردہ موہن جو داڑو کے نگران نے ڈائریکٹر ثقافت، نوادرات اور آثار قدیمہ کو لکھے خط میں کہا یے کہ ہم نے اپنے وسائل سے اس مقام کی حفاظت کے لیے کوششیں کی ہیں لیکن احتیاطی تدابیر نہ کئے جانے کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ عالمی ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیے محکمہ آبپاشی، محکمہ شاہرات اور محکمہ جنگلات سمیت دیگر محکموں کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ علاوے کے زمینداروں اور کسانوں نے موہن جو داڑو کے صدیون پرانے نالے میں سیلاب کا پانی نکالنے کے لیے نہ صرف پائپ ڈالے ہوئے تھے بلکہ نہروں اور سڑکوں کو بھی کاٹ دیا تھا۔ لہازا ان محکموں کی لاپرواہی کی وجہ سے قریبی زرعی زمینوں سے نکالے جانے والے بارش کے پانی نے موہن جو داڑو کے نالے کو بھر دیا جس سے پانی کھنڈرات میں داخل ہوگیا۔ خط میں کہا گیا کہ اس کے بعد یہاں سے پانی کی نکاسی میں غیر ضروری تاخیر ہوئی جس نے موہنجو داڑو کی چار دیواری اور اندرونی عمارتوں کو مزید شکستہ کر دیا۔
موہن جو داڑو کی سائٹ پر موجود اہلکاروں کا کہنا یے کے ابھی دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ موجود ہے جس سے قدیم تاریخی کھنڈرات کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن متعلقہ حکام خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ حکام نے موہن جو داڑو کے قریب واقع حفاظتی بند کی مرمت، نہر کی ٹوٹ پھوٹ اور پانی کے پائپوں کو ہٹانے کے لیے محکمہ آبپاشی اور محکمہ شاہرات سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ موہن جو داڑو کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے ماہرین بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ تاہم سندھ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ موہن جو داڑو کے کھنڈرات کے لیے متعین آثار قدیمہ کے لوگ اس تاریخی مقام کے تباہ شدہ حصوں کی مرمت اور بحال کا کام شروع کر چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج سے کئی ہزار سال پہلے موہنجو داڑو کے علاقے میں موجود انسانی آبادی بھی بارشوں سے آنے والے خوفناک سیلاب کے ہاتھوں ہی تباہ ہوئی تھی۔ اس زمانے میں موہنجو داڑو دریا اس شہر کے کنارے آباد تھا جبکہ آج وہی دریا شہر سے تین کلومیٹر کی دوری پر بہتا ہے۔ نیشنل جیو گرافک کی ایک ڈاکومنٹری میں موئن جو داڑو کو دنیا کا پہلا اور قدیم ترین باقاعدہ شہر قرار دیا گیا تھا۔ یہ شہر اڑھائی ہزار سال قبل قبل مسیح تک 500 ایکڑ پر آباد تھا جو آج کے ویٹی کن سٹی سے پانچ گنا بڑا تھا۔ اسی دور میں دریائے نیل کے کنارے اہرام مصر تعمیر ہو رہے تھے۔ یہ شہر دو حصوں پر مشتمل تھا یعنی بالائی شہر اور زیریں شہر۔ بالائی شہر بڑی بڑی عمارات پر مشتمل تھا جس میں 900 مربع فٹ کا ایک سوئمنگ پول بھی تھا جس کو دریائے سندھ کے پانی سے بھرا جاتا تھا۔ شہر کے تمام گھر ایک منظم سیورج سسٹم سے جڑے ہوئے تھے۔ موہنجو داڑو میں 700 کنویں موجود تھے۔ رومن باتھ 70 عیسوی میں بنائے گئے تھے جبکہ ان سے تقریباً اڑھائی ہزار سال پہلے موئن جو داڑو میں یہ موجود تھے۔ موئن جو داڑو کی ایک اور عجیب بات یہ بھی ہے کہ اس میں نہ کوئی مذہبی عبادت گاہ ملتی ہے نہ کوئی محل ہے نہ ہی کوئی شاہی مقابر ہیں جس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ مصر اور میسو پوٹامیا کی طرز کا معاشرہ نہیں تھا بلکہ اس کی بنیادیں مساوات اور جمہور پر استوار تھیں۔ یہاں تک کہ اس کا زیریں شہر جہاں 20 سے 40 ہزار لوگ بستے تھے وہاں بھی دو سے تین منزلہ گھر تھے جو ایک ترتیب سے بنے ہوئے تھے جن کی گلیاں پختہ تھیں۔ پھر ایک دن یہ شہر ایک خوفناک سیلاب کی نذر ہو گیا۔ 1922 میں ماہرین آثار قدیمہ نے اس علاقے میں کھدائیاں کیں تو موئنجوداڑو کے آثار دریافت ہوے مگرآج سو سال گزرنے کے باوجود ماہرین اس کے رسم الخط کو سمجھنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے اس کی تاریخ کے کئی گوشے ابھی تک منظر عام پر نہیں لائے جا سکے۔
موئن جو داڑو کی زندگی کیسی تھی اور پھر یہ شہر صفحہ ہستی سے کیسے مٹ گیا؟ اس حوالے سے بالی وڈ کی ایک فلم ’موئن جو داڑو‘ کے نام سے 2016 میں منظر عام پر آئی تھی جسے اشو توش گواریکر نے لکھا تھا جبکہ سدھارتھ رائے اس کے پروڈیوسر تھے۔ اس فلم میں بتایا جا تا ہے کہ ہڑپہ کا ایک امیر تاجر جو سونے کا بزنس کرتا ہے، وہ موئن جو داڑو پر قابض ہو جاتا ہے۔ ایک روز وہ منصوبہ بناتا ہے کہ اگر ہم دریا پر ایک بند باندھ دیں تو اس سے نکالے جانے والے سونے کی مقدار کئی گنا بڑھ جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے دریا پر بند باندھ کر اسے کا بہاو روک لیا جاتا ہے۔ پھر اس کی ایک سمت سے نہر نکالی جاتی ہے لیکن اسی دوران ایک روز دریا میں اتنا ذیادہ پانی آ۔جاتا ہے کہ بند ٹوٹ جاتا ہے اور پانی شہر کے اوپر سے گزر جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس فلم کی کہانی تخیلاتی ہے، لیکن ماہرین آثار قدیمہ کی اکثریت اسی نظریے کو مانتی ہے کہ موئن جو داڑو سیلاب سے ہی تباہ ہوا تھا اور اب اس کے کھنڈرات بھی سیلاب کے ہاتھوں مٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
