مہمند: پہاڑی تودہ گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں ماربل کی کان میں پہاڑی تودہ گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 17 تک پہنچ گئی جب کہ ریسکیو حکام نے مزید 6 لاشوں کو ملبے سے نکال لیا۔
ایک بیان میں صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ اب تک 9 زخمیوں کو نکالا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کےلیے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور پشاور سے 5 ایمبولنسز اور ایک ریکوری وہیکل مہمند بھیج دی گئی ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ حکام، ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
وہیں ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ انہیں میں سے 2 مہمند اسپتال میں دوران علاج چل بسے جب کہ 5 اب بھی ملبے تلے ہیں۔
آئندہ اس طرح کے حادثات کی روکتھام کے لیِئے جلد و موثر اقدام اٹھائے جائیں: بلاول بھٹو زرداری
ریاست یہ یقینی بنائے کہ دو وقت کی روٹی کی قیمت مزدور کی جان نہ بنے: بلاول بھٹو زرداری
— PPP (@MediaCellPPP) September 8, 2020
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملبے تلے پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کےلیے اپنی ذمہ داری پوری کرے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی انہوں نے پارٹی ورکرز کو کہا کہ وہ ریسکیو آپریشن میں مدد کریں۔
مہمند میں سترہ مزدور پہاڑی تودہ گرنے سے شہید ہو گئے، مزدوروں کے کام کرنے کے حالات انتہائ تلخ ہیں، صوبائ حکومتیں لیبر قوانین کا سختی سے اطلاق کریں امید ہے صوبائ حکومت ان خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہو گی اور دکھ کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) September 8, 2020
ادھر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ مزدوروں کےلیے کام کرنے کی حالت انتہائی خراب ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ‘صوبائی حکومتوں کو مزدور قانون پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے، امید ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے ساتھ کھڑی ہوگی’۔
واضح رہے کہ پیر کو قبائلی ضلع مہمند کی تحصیل صافی میں زیارت ماربل پہاڑ کے بڑے حصے قریبی کانوں پر آگرے تھے۔ ابتدائی طور پر 11 لاشوں اور 5 زخمیوں کو ملبے سے نکال کر غالانئی اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ ریسکیو 1122 کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ مزید لوگوں کا ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تودہ گرنے کے بعد سے کم از کم 25 افراد لاپتا ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ کی کوریج بھی نہیں ہے۔ ریسکیو 1122 نے کہا تھا کہ مہمند ٹیم سرچ آپریشن کر رہی ہے تاکہ لاپتا لوگوں کو تلاش کیا جاسکے، مزید یہ کہ پشاور اور چارسدہ سے مزید لوگوں کو بھی وہاں بھیجا جارہا۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں کان کنی اور پہاڑوں سے معدنیات کے ذخائر نکالنے کے دوران اکثر حادثات پیش آتے ہیں۔ فروری میں خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں ماربل کی کان میں تودہ گرنے سے 9 مزدور جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے تھے۔
