میجر جنرل آصف غفورتبدیل، بابر افتخار نئے ڈی جی آئی ایس پی آر تعینات

پاک فوج میں تقرر اور تبادلے کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کو شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب میجر جنرل آصف غفور کا تبادلہ کرکے انہیں جی او سی 40 ڈویژن (اوکاڑہ) تعینات کردیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق میجر جنرل آصف غفور کی جگہ میجر جنرل بابر افتخار کو پاکستان کی فوج کا نیا ترجمان مقرر کر دیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ادارے کے نئے ڈائریکٹر جنرل اس تعیناتی سے قبل ملتان میں ایک ڈویژن کی کمان کر رہے تھے جبکہ آصف غفور کو اب اوکاڑہ میں ڈویژن کی کمان سونپی گئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے علاوہ دوسری اہم تبدیلی فوج کے انٹیلی جنس کے شعبے میں کی گئی ہے اور میجر جنرل اظہر وقاص کو نیا ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس تعینات کیا گیا ہے۔
نئے تعینات ہونے والی ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار کا تعلق 81ویں لانگ کورس اور آرمرڈ کور سے ہے اور 2018 میں انھیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ میجرجنرل بابر افتخار اس سے قبل نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں انسٹرکٹر بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹوریٹ میں بھی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
ماضی میں ان کے ساتھ کام کرنے والے افسران کا کہنا ہے کہ میجر جنرل بابر افتخار کو فوج میں ایک سخت گیر افسر کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن وہ اختلاف رائے کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
آرٹلری کور سے تعلق رکھنے والے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو اوکاڑہ میں اہم انفنٹری ڈویژن کی کمان سونپی گئی ہے۔ انھوں نے تبادلے کے بعد جمعرات کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کامیابی کے ساتھ اس عہدے پر اپنی مدت پوری کی ہے۔ انھوں نے میڈیا اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور نئے ڈی جی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
خیال رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور ایسے وقت اس عہدے پر تعینات ہوئے تھے جب عسکری حکام نے ففتھ جنریشن وارفیئر کی جانب اپنی توجہ مبذول کی تھی۔ وہ فوج کے ترجمان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے علاوہ ذاتی اکاؤنٹ سے بھی ٹویٹ کرتے رہے اور انھی میں بعض ٹویٹس نے متنازعہ شکل بھی اختیار کی۔ انھیں کئی حلقوں نے ان ٹویٹس پر تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کئی نے انھیں پاکستان کی آن لائن جنگ میں کامیابی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔
انھوں نے آئی ایس پی آر کی سربراہی ایسے دور میں کی جب پاکستان کے انڈیا کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہوئے اور انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا گیا۔ میجر جنرل آصف غفور کی تبدیلی کی خبریں جمعرات کو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں اور وہ اکاؤنٹس جو فوج پر تنقید کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، انھوں نے کریڈٹ لیا کہ ان کی وجہ سے یہ تبدیلی عمل میں آئی تاہم فوجی ذرائع کے مطابق میجر جنرل آصف غفور اس عہدے پر تعیناتی کی مدت پوری کر چکے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی فوج میں بطور میجر جنرل چھ سالہ مدت میں ایک افسر تین سال کمان کے عہدے پر رہتا ہے جبکہ باقی تین سال سٹاف اپوائنٹمنٹ پر تعینات رہتا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور سے پہلے اوکاڑہ کی اِسی ڈویژن کی کمانڈ کرنے والے میجر جنرل اظہر وقاص کو فوج کے انٹیلی جنس ادارے ایم آئی کی سربراہی سونپی گئی ہے۔ میجر جنرل اظہر وقاص 84 ویں لانگ کورس سے تعلق رکھنے والے انفنٹری افسر ہیں جبکہ میجر جنرل بابر افتخار کی طرح وہ بھی ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بطور کرنل وہ 12 پنجاب کی یونٹ کمانڈ کر چکے ہیں۔ میجر جنرل اظہر وقاص سے متعلق بات کرتے ہوئے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ ایک ’نہایت سخت گیر اور پیشہ ور افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں‘۔
میجر جنرل آصف غفور نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر آئی ایس پی آر کے اکاؤنٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ الحمداللہ، ان سب کا شکریہ جن کے ساتھ میں اپنے دور میں منسلک رہا، میں تمام میڈیا کا شکر گزار ہوں، پاکستانی عوام کی محبت اور سپورٹ پر ان کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔انہوں نے نئے ڈی جی آیس پی آر کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
Alhamdulillah.
Thanks to everyone I have remained associated with during the tenure. My very special thanks to Media all across. Can’t thank enough fellow Pakistanis for their love and support.
Best wishes to new DG ISPR for his success.#PakArmedForcesZindabad#PakistanZindabad— DG ISPR (@OfficialDGISPR) January 16, 2020
علاوہ ازیں انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاونٹ پر ایک پیغام میں کہا کہ آپ کی محبت اور حمایت کا شکریہ، مضبوط رہتے ہوئے پاکستان کے لیے اپنا کام جاری رکھیں۔
Thanks for your love & support. Stay strong, continue doing your bit for Pakistan.Stay blessed
آپکی محبت اورحمایت کاشکریہ۔ مضبوط رہتے ہوۓ پاکستان کے لئے اپنا کام جاری رکھیں۔ Stay blessed.— Asif Ghafoor (@peaceforchange) January 16, 2020
