میجر جنرل آصف غفور کی فراغت کی اندرونی کہانی

عسکری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی اپنے عہدے سے فراغت کی بنیادی وجہ ان کی جانب سے مسلسل غیر ذمہ دارانہ اور غیر مہذب زبان پر مبنی ٹوئیٹس تھیں جن میں انہوں نے مسلسل ایسی زبان استعمال کی جو بطور فوجی ترجمان نہایت غیر مناسب تھی اور فوج کے ادارے کے شایان شان نہیں تھی۔
یاد رہے کہ 16 جنوری کے روز میجر جنرل آصف غفور کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ میجر جنرل بابر افتخار کو نیا فوجی ترجمان مقرر کر دیا گیا۔ حالیہ دنوں میں میجر جنرل آصف غفور نے مختلف ٹی وی اینکرز اور صحافیوں کی ٹویٹش کے جواب میں ایسی ٹویٹس کی تھیں جن پر فوج کے اندر سے بھی سخت ردعمل آیا تھا۔ اعتراض یہ تھا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے ذاتی اکاؤنٹ @peaceforchange سے کی گئی ٹویٹس پر سے فوج اور اس اھم عہدے کی تکریم میں کمی آئی ہے۔
یاد رہے کہ میجر جنرل آصف غفور آئی ایس پی آر کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ @OfficialDGISPR کے علاوہ ایک ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ @peaceforchange بھی رکھتے ہیں۔ اگر ان کے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ٹویٹس میں وہ آوارہ کتوں کا ذکر کرتے ہیں، کبھی جلی ہوئی اور جھلسی ہوئی جلد کی دوا برنول کے بارے میں، اور کبھی ایسی مبہم مگر معنی خیز ٹویٹس کرتے تھے جن کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ وہ شاید کچھ لوگوں کو اشارتاً پیغام یا کوئی تنبیہ دینا چاہ رہے ہیں، جسے ٹوئٹر کی زبان میں ‘سب ٹویٹ’ کرنا کہتے ہیں۔
حال ہی میں میجر جنرل آصف غفور کی جو ٹویٹ وائرل ہوئی وہ ان کا پاکستانی صحافی ثنا بُچہ کے ساتھ ہونے والا سائبر ٹاکرا تھا۔ صحافی ثنا بُچہ نے 12 جنوری کو آئی ایس پی آر کے بارے میں کی گئی طنزیہ ٹویٹ میں کہا کہ ‘دوپٹوں کی رنگائی کے ساتھ پیکو کا کام بھی تسلی بخش کیا جاتا ہے۔‘
اس ٹویٹ کا پس منظر بنا تھا جیو نیوز چینل کی وہ ٹویٹ جس میں موٹروے کے افتتاح کی خبر آئی ایس پی آر سے منسوب کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں 13 جنوری کی شب ڈھائی بجے میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کی کہ ’آپ نے شاید اپنے طور پر یہ کام شروع کیا جب آپ کو آئی ایس پی آر سے معاوضہ دیا گیا تھا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نےاس ٹویٹ میں مزید لکھا کہ ’اگر آپ کے کوئی بقایاجات ہیں تو آپ ثبوت دیکھا کہ حاصل کر سکتی ہیں لیکن آپ کے نجی کاروبار کے عوض کوئی معاوضہ نہیں دیا جا سکتا۔‘
لیکن معاملہ یہاں نہیں تھما، اور ثنا بُچہ نے فوجی ترجمان کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بلا وجہ پنگے بازی نہ کریں اور اپنے عہدے اور اپنے ادارے کی عزت کا خیال کریں، جس پر میجر جنرل آصف غفور نے جواباً کہا کہ ’میں نے کوئی لڑائی شروع نہیں کی تھی اور آپ کی جانب سے کی گئی ٹویٹ نے مجھے مجبور کیا کہ میں جواب دوں‘ اور مزید لکھا کہ وہ اپنی رات والی ٹویٹ حذف کر رہے ہیں۔
اس سے ایک روز قبل میجر جنرل آصف غفور کو اپنی ایک اور ٹویٹ حذف کرنی پڑی تھی جس میں انھوں نے انڈین اداکارہ دپیکا پاڈوکون کو نئی دہلی میں طلبہ کی جانب سے دیے گئے ایک مظاہرے میں شرکت کرنے پر داد دی تھی۔انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟
اسی طرح 12 جنوری کو بھی فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے مبہم انداز میں سوال اٹھایا کہ ‘کیا ایک بار ذبح ہونے والوں کو دوبارہ ذبح کیا جائے؟’ لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ ٹویٹ بھی انھوں نے بغیر کسی وضاحت کے حذف کر دی۔
سات جنوری کو انھوں نے صحافی اور تجزیہ کار سرل المائیڈا کی جانب سےترمیم شدہ آرمی ایکٹ کی منظوری اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر کیے گئے تبصرے کے جواب میں ٹویٹ کی کہ آپ وقت کی پروا کیے بغیر شراب نوش کریں کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ سابق فوجی ترجمان لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے عہدے کے دوران ٹوئٹر کو استعمال کرنا شروع کیا تھا اور وہ رابطے کا اتنا موثر ذریعہ تھا کہ ان کے اپنے فالوؤرز لاکھوں کی تعداد میں پہنچ گئے تھے۔ جب میجر جنرل آصف غفور نے دسمبر 2016 میں اپنا عہدہ سنبھالا تو اپنے پیشرو کے برعکس، انھوں نے سرکاری ہینڈل کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی ہینڈل بھی استعمال کرنا شروع کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کو بڑھاتے چلے گئے جس کی وجہ سے انھیں کئی بار تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
گذشتہ سال جنوری میں خبر سامنے آئی کہ ‘سکیورٹی کے خدشات’ کے باعث فوجی افسران پر ذاتی اور سرکاری حیثیت میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد لاگو کر دی گئی ہے جس میں واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ شامل ہیں۔ بعد ازاں فوجی ذرائع نے بھی بی بی سی کو اس خبر کی تصدیق کی تھی۔
تاہم میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کا استعمال جاری رکھا اور اپنی پریس کانفرنسز میں مسلسل اس بات کا اعادہ کرتے رہے کہ پاکستان روایتی جنگ کے علاوہ ففتھ جنریشن وار فئیر کا سامنا کر رہا ہے جس سے نپٹنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال ضروری ہے۔
تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی حالیہ ٹویٹس پر کئی حلقوں میں سوالات اٹھے کہ آیا پاکستان فوج کے اتنے اہم ادارے کا سربراہ کا سرکاری حیثیت کے بجائے ذاتی حیثیت میں ٹویٹ کرنا غیر مناسب تو نہیں؟ نشریاتی ادارے بی بی سی نے جب اس حوالے سے حال میں ہی آئی ایس پی آر کو فوجی ترجمان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے بارے میں چند سوالات بھیجے تو وہاں سے جوابات دینے سے معذرت کی گئی اور کہا گیا کہ فوجی ترجمان ذاتی حیثیت میں اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ٹویٹس کرتے ہیں لیکن فوج سے اعلیٰ عہدے پر ریٹائر ہونے والے ایک افسر کا کہنا تھا کہ ‘اس عہدے اور اس حیثیت میں کام کرنے والے کے لیے کوئی چیز ذاتی نہیں ہوتی، اس لیے ذاتی اکاؤنٹ کا بہانہ درست نہیں ہے۔’
صحافی اور تجزیہ کار سرل آلمائیڈا، جن پر میجر جنرل آصف غفور نے ماضی میں ٹوئٹر پر جملے کستے رہے ہیں، نے فوجی ترجمان کے سوشل میڈیا کے رویے پر کہا کہ ‘میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹس بے مقصد نہیں ہیں۔ وہ اُن لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو سویلین ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آیر اُن لوگوں کے خلاف تند مزاج رویہ نہیں رکھتے جو کسی وزیر کی اولاد ہوں، یا سابق فوجی ہوں، یا فوجی خاندان سے تعلق رکھنے والے صحافی ہوں۔ صرف وہ شہری ان کے زیر عتاب آتا ہے جس کی کوئی سفارش نہ ہو۔’
جب صحافی ثنا بُچہ سے اسی بابت سوال کیا تو انھوں نے میجر جنرل آصف غفور کا نام لیے بغیر موقف اختیار کیا کہ بیانیے کے بارے میں بات کرنا آسان نہیں ہے۔ ‘ہمارے ملک میں سویلینز اور فوج کے درمیان تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے آئی ایس پی آر کو خاص خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن گذشتہ چند ماہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ باقاعدگی سے نشانہ بنا کر لوگوں کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہیں جو اسی ادارے کی زیر نگرانی ہو رہا ہے۔’ ثنا بُچہ نے مزید کہا کہ اس طرح کے طرز عمل سے نہ صرف اختلاف رائے کا اظہار کرنے کی جگہ کم ہوتی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر، ‘بالخصوص خواتین کے خلاف پُر تشدد رویے اور منظم طریقے سے ٹرولنگ میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے اور بھونڈے قسم کے ہیش ٹیگ ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں۔’
انھوں نے کہا کہ ‘کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جب میں صبح اٹھ کر ٹوئٹر دیکھتی ہوں تو میری ٹائم لائن پر میرے خلاف غلاظت کا طوفان ہوتا ہے، صرف اس لیے کہ میں نے ٹی وی پر اپنی مرضی کا تبصرہ کیا تھا۔’ ان کا کہنا تھا کہ اتنے حساس اور اہم عہدے پر فائز شخص کو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ تاہم یہی وہ وجوہات تھیں جن کی بنا پر آصف غفور کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button