آئی جی سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا

سندھ حکومت کے مشیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے آئی جی سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق کیا ہے اور اسے یکطرفہ فیصلہ کہنے والوں کو اس کے بارے میں علم نہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ 23 دسمبر کو وزیر اعلیٰ سندھ کی اسلام آباد میں وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت آئی جی سندھ پر اعتماد کھو چکی ہے اور ہم ان کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ صوبہ سندھ میں قانون کے حوالے سے کوئی بھی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تنقید کا سامنا حکومت وقت کو کرنا پڑتا ہے جس کا وزیر اعظم نے خود بھی اعتراف کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں چیف ایگزیکٹوز کی ملاقات میں یہ طے ہوا کہ آئی جی کو ہٹانے کے لیے پولیس ایکٹ کے تحت طریقہ کار کا آغاز کیا جائے اور اس کا فیصلہ باہمی رضامندی کے ساتھ ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ 23 دسمبر سے 16 جنوری ہوگئی ہے وزیر اعلیٰ سندھ نے انتظار کیا کہ آئی جی سندھ ان کے تحفظاتکو دور کرنے اور جرائم کی روک تھام کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے تاہم محکمہ داخلہ کی جانب سے ارسال کیے گئے خطوط کا کوئی معنیٰ خیز جواب نہیں دیا گیا جس پر وزیر اعلیٰ نے کابینہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کابینہ اجلاس بلائے جانے کے حوالے سے وزیر اعظم ہاؤس سے حتمی مشاورت بھی کی تھی۔
ترجمان حکومت سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ آئی جی سندھ جرائم انڈیکس کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے دوست جو کہہ رہے تھے کہ سندھ حکومت کا یکطرفہ فیصلہ ہے، وہ لاعلمی پر مبنی تھا۔انہوں نے یاد دلایا کہ پنجاب میں موجودہ حکومت کے دور میں 5 انسپیکٹر جنرلز کو تبدیل کیا جاچکا ہے، خیبر پخونخوا میں 4 آئی جی ہٹائے جاچکے ہیں مگر ان سے کوئی سوال نہیں کرتا۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ حکمرانی آئین و قانون کے مطابق چیف ایگزیکٹو یا اس کی کابینہ کرے گی، عثمان بزدار یا محمود خان صاحب فیصلہ کرتے ہیں تو کوئی سوال نہیں اٹھاتا مگر سندھ میں یہ بار بار سوالات اٹھا کر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔انہوں نے آئی جی کو ہٹانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ‘کراچی میں جرائم کے انڈیکس کو دیکھا جائے تو خود مختار ادارے سی پی ایل سی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2018 کے مقابلے میں 2019 میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال میں تنزلی آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 4 وہیل پر چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں 37 فیصد، 4 وہیل پر چوری کی وارداتوں میں 20 فیصد، 2 وہیل پر چوری کی وارداتوں میں 24 فیصد، ہائی وے پر ڈکیتی کی وارداتوں میں 44 فیصد جبکہ قتل کے کیسز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مشیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ پولیس کا بنیادی کام قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے اور جب آئی جی سوال سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ صورتحال بہترین ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی فائرنگ سے شہری جاں بحق ہورہے ہیں حال ہی میں ضلع جنوب میں شہری نبیل ہود بھائی پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا مگر ۔ولیس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی اور جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہماری پولیس کے جواب بھی شہید ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کارکردگی کو بہتر بنانا ان کا کام ہے، پولیس اپنے اختیارات میں خود مختار ہے مگر سیفٹی کمیشن کو جوابدہ ہے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور وفاق دونوں کے قوانین میں لکھا ہے کہ کوئی سرکاری ملازم پریس کانفرنس نہیں کرسکتا مگر سندھ پولیس کو پریس کانفرنسز کرنے کا شوق ہے جس سے کبھی کبھی معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 96 افراد کو قتل کرنے والے بدنام زمانہ ملزم کا پولیس کی تحویل میں ویڈیو بیان ٹی وی پر سامنے آجاتا ہے اور اس بیان میں وزیر اعلیٰ سندھ پر الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں مگر آئی جی سندھ خاموش رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ نے خود وزیر اعلیٰ سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ اگر آپ میری پرفارمنس سے خوش نہیں ہیں تو مجھے ہٹادیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘مشاورت کا عمل اب بھی جاری ہے اور ہم نے قانون کی پیروی کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے اور ہم نے اس کے جواز بھی پیش کردیے ہیں’۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز سندھ کابینہ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دی تھی۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا تھا کہ ‘آئی جی سندھ کلیم امام کو 13 دسمبر 2019 کو لکھے گئے آخری خط میں بتا دیا گیا تھا کہ جس طرح وہ رولز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں صوبائی حکومت اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھنے پر غور کر رہی ہے، اسی کے تناظر میں آج کا اجلاس ہوا۔
بعد ازاں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے سینئر رہنما فردوس شمیم نقوی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘جس طرح ماضی میں پولیس افسران اور ڈی سی کے ساتھ مل کر انتخابات میں دھاندلی کرائی جاتی تھی مذکورہ تبادلہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات قریب آرہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button