پاکستان میں ٹک ٹاک ایک نشہ کیوں بن گیا؟

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خاص مقبولیت رکھنے والی ایپ ٹک ٹاک کی ایک الگ ہی دنیا وجود میں آ چکی ہے۔ اگر آپ اس موبائل اپلیکیشن کے یوزر نہیں تو شاید آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ اس ’نئی دنیا‘ نے کتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنا عادی بنا لیا ہے اور یہ نشے کی حد تک ان کی زندگی میں شامل ہو چکی ہے، جس کے بعد اس ایپ کے نقصانات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
جی ہاں! ٹک ٹاک کا اپنا الگ ہی نشہ ہے۔ محبوب کی یاد میں رونا ہو یا سلو موشن میں گھومنا بس فلٹر لگایا اور بن گئے آپ بھی مکمل ہیرو یا ہیروئین۔
اس اپلیکیشن کے اپنے آئیڈیل اور ہیروز ہیں۔ دس بارہ لڑکے لڑکیاں مل کر گروپ میں بھی اس پر ویڈیوز بنا دکتے ہیں۔ یہ ایپ صرف نوجوانوں کی پسندیدہ نہیں بلکہ ٹک ٹاک ہر عمر کا فرد استعمال کرتا ہے۔
لڑکیاں اس ایپ پر اگر کسی آدمی کی آواز پر ویڈیو بناتی ہیں تو اپنے کپڑوں سے لے کر داڑھی مونچھوں تک پر بھر پور محنت کرتی ہیں۔اور اسی طرح لڑکے اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ خواتین کے ڈائلاگز پر ایکٹنگ کرتے ہوئے اس کردار کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں۔ ساڑھی باندھتے ہیں،میک اپ کرتے ہیں۔ تاہم اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کہ آج کل نوجوان نسل کی تفریحی پسند فیس بک یا یو ٹیوب نہیں بلکہ ٹک ٹاک ہے ۔ اس ایپ کا استعمال کرنے والے ایک نوجوان صارف نے حال ہی میں ٹک ٹاک پر اپنی ایک ویڈیو بنائی جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں رونے والی ویڈیوز کے لیے "وکس” کا استعمال کرتا ہوں لیکن شاید گزشتہ ویڈیو میں زیادہ لگ گئی اور انکھوں میں جلن زیادہ ہے اسی بات پر لائیک اور شئیر تو بنتا ہے۔ تاہم دیگر ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے ہونے والی تنقید کی وجہ سے انہوں نےیہ ویڈیو ہٹا دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button