سولر کے بغیر بلوں میں کمی ممکن، نئی ٹیکنالوجی نے دھوم مچا دی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے مسلسل بڑھتے ہوئے نرخوں نے صارفین کو کم خرچ اور مؤثر توانائی حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے میں ایک نئی سمارٹ بیٹری ٹیکنالوجی توجہ کا مرکز بن رہی ہے، جو بغیر سولر پینلز کے بھی بجلی کے اخراجات کم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ نظام بجلی پیدا نہیں کرتا بلکہ کم نرخوں والے اوقات میں گرڈ سے بجلی ذخیرہ کر کے مہنگے اوقات میں استعمال کرتا ہے، جس سے بجلی کے مجموعی بل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور اب بجلی کی بچت کے لیے صرف سولر پینلز ہی واحد حل نہیں رہے۔ سمارٹ انرجی اسٹوریج سسٹمز یا جدید لیتھیم بیٹریاں ایسے صارفین کے لیے ایک نیا متبادل بن کر سامنے آئی ہیں جو بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان ہیں لیکن سولر سسٹم لگانے کی استطاعت یا سہولت نہیں رکھتے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سمارٹ انرجی اسٹوریج سسٹم کیا ہے؟ ماہرین کے مطابق یہ سسٹم دراصل جدید لیتھیم بیٹریوں اور ہائبرڈ انورٹر پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خود بجلی پیدا نہیں کرتا بلکہ قومی گرڈ سے کم نرخوں والے اوقات، یعنی آف پیک آورز میں بجلی ذخیرہ کرتا ہے اور بعد میں مہنگے اوقات میں اسی ذخیرہ شدہ توانائی کو استعمال کرتا ہے۔توانائی کے شعبے میں اس طریقہ کار کو لوڈ شفٹنگ (Load Shifting) یا انرجی آربٹریج (Energy Arbitrage) کہا جاتا ہے، جس کا مقصد سستی بجلی خرید کر مہنگی بجلی کے استعمال سے بچنا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بجلی کے نرخوں میں آف پیک اور پیک آورز کے درمیان مناسب فرق موجود ہو اور بیٹری کا استعمال درست انداز میں کیا جائے تو بجلی کے بل میں تقریباً 10 سے 30 فیصد تک کمی ممکن ہے۔البتہ اس بچت کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے، جن میں صارف کی بجلی کی کھپت، بیٹری کی گنجائش، بجلی کے ٹیرف اور استعمال کے اوقات شامل ہیں۔ تاہم یہ بچت ہر صارف کے لیے یکساں نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار بجلی کے استعمال، بیٹری کی گنجائش، مقامی ٹیرف اور روزمرہ کی کھپت پر ہوتا ہے۔

سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر کرائے کے گھروں، فلیٹس اور ان رہائشی علاقوں کے لیے زیادہ موزوں ہے جہاں سولر پینلز نصب کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ صارفین بھی اس سسٹم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو لاکھوں روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری کے بغیر بجلی کے بلوں میں کمی چاہتے ہیں۔

تاہم توانائی کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سمارٹ بیٹریاں سولر انرجی کا مکمل متبادل نہیں ہیں۔ چونکہ یہ خود بجلی پیدا نہیں کرتیں، اس لیے ان سے حاصل ہونے والی بچت کا انحصار مکمل طور پر بجلی کے نرخوں اور استعمال کے طریقہ کار پر ہوتا ہے۔ اگر آف پیک اور پیک آورز کے نرخوں میں نمایاں فرق نہ ہو تو اس ٹیکنالوجی سے مالی فائدہ بھی محدود رہ سکتا ہے۔پاکستان میں اس مقصد کے لیے زیادہ تر لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LiFePO₄) بیٹریاں استعمال کی جا رہی ہیں، جو طویل عمر، بہتر کارکردگی اور نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔ مارکیٹ میں پانچ کلو واٹ آور صلاحیت کی بیٹری کی قیمت عموماً دو سے تین لاکھ روپے جبکہ دس کلو واٹ آور بیٹری کی قیمت تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے ساڑھے پانچ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگر ہائبرڈ انورٹر، وائرنگ اور دیگر ضروری آلات بھی شامل کیے جائیں تو مکمل سسٹم کی لاگت کئی لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں جیسے جیسے سمارٹ گرڈ، سمارٹ میٹرنگ اور وقت کے حساب سے بجلی کے نرخوں کا نظام مزید فروغ پائے گا، سمارٹ انرجی اسٹوریج سسٹمز کی اہمیت بھی بڑھتی جائے گی۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بجلی کے بل کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ توانائی کے زیادہ مؤثر اور دانشمندانہ استعمال کو بھی فروغ دے گی۔

Back to top button