ایران امریکہ جنگ میں عرب ممالک کو شکست کیسے ہوئی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری عسکری کشیدگی کو اگرچہ کم کر دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی خطے کی نئی سیاسی اور سکیورٹی حقیقتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ خلیجی عرب ممالک، جو برسوں سے اپنی سلامتی کے لیے امریکی حمایت پر انحصار کرتے رہے ہیں، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں انہیں نہ صرف ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ بلکہ واشنگٹن کی بدلتی ترجیحات کا بھی سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کیا اس تنازع میں اصل نقصان عرب ریاستوں کا ہوا، یا یہ مفاہمت ان کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے؟
مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور مفاہمتی یادداشت کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس سے جنگ کے فوری خطرات میں کمی آئی ہے، لیکن خلیجی ممالک کے لیے کئی نئے خدشات بھی جنم لے چکے ہیں۔ ان ریاستوں کو خوف ہے کہ اگر ایران کو زیادہ اقتصادی اور سفارتی رعایتیں ملتی ہیں تو خطے میں اس کا سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی واضح پابندی عائد نہیں کی گئی۔ یہی وہ ہتھیار ہیں جنہیں خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران ان میزائلوں اور ڈرون حملوں نے کئی اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد عرب ریاستوں نے اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک اب صرف امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، جدید میزائل دفاعی نظام، مقامی دفاعی صنعت اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے اور علاقائی استحکام برقرار رہے۔کیا واقعی عرب ممالک سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں؟اس سوال پر ماہرین کی آرا مختلف ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک کو جنگ کے دوران معاشی اور سکیورٹی نقصانات ضرور اٹھانا پڑے، تاہم طویل جنگ ٹل جانے سے وہ کہیں بڑے بحران سے بچ گئے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس پورے تنازع میں سب سے زیادہ سفارتی اور سیاسی نقصان اسرائیل کو ہوا، جبکہ عرب ممالک نے اپنی سفارتی اہمیت برقرار رکھی اور امریکہ کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کی۔ ماہرین کے بقول ایک اور اہم پہلو ایران کی تعمیر نو کے لیے مجوزہ 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا ہے، جس میں خلیجی ممالک کے مالی کردار کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ایران بھی جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک ایران سے اپنے نقصانات کے معاوضے کی بات کر رہے ہیں۔یوں ایک ایسی صورتحال سامنے آ سکتی ہے جس میں خلیجی ممالک کو جنگ کے نقصانات کے ساتھ ساتھ امن کے قیام کی مالی قیمت بھی ادا کرنا پڑے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز آج بھی عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔ ایران اس آبی گزرگاہ کو مذاکرات میں ایک اہم سفارتی اور تزویراتی عنصر کے طور پر استعمال کرتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک آزاد اور محفوظ جہاز رانی کو اپنی معاشی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل برآمدی راستے تیار کیے ہیں، لیکن قطر اور کویت جیسے ممالک اب بھی بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث اس راستے میں کسی بھی کشیدگی کے براہِ راست معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حالیہ پیش رفت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں روایتی اتحاد تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ عرب ممالک اب صرف فوجی تحفظ کے بجائے اقتصادی تعاون، سفارتی توازن اور علاقائی شراکت داری کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنا رہے ہیں۔کئی ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک پر مشتمل ایک وسیع علاقائی سکیورٹی فریم ورک خطے میں استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے سیاسی اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت نے اگرچہ فوری جنگ کے خطرات کو کم کیا ہے، لیکن خلیجی عرب ممالک کے لیے نئے سکیورٹی، سفارتی اور معاشی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ اس تنازع کے سب سے بڑے نقصان اٹھانے والے ثابت ہوئے ہیں، تاہم اتنا ضرور واضح ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور عرب ریاستوں کو اپنی سلامتی، معیشت اور خارجہ پالیسی کو نئی علاقائی حقیقتوں کے مطابق ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔
