پاکستان اور افغانستان کے مابین کھلی جنگ کا خطرہ

پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے ٹھکانوں پر شدید بمباری نے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین کھلی جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر فضائی حملوں، سرحدی خلاف ورزیوں اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ کشیدگی پر بروقت قابو نہ پایا گیا اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل نہ کیا گیا تو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کھلی جنگ کے امکانات کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ بحران کا آغاز کراچی میں رینجرز کے ایک کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہوا، جس میں تین اہلکار شہید ہوئے۔ تحریک طالبان سے علیحدہ ہو جانے والی جماعت الاحرار نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ زخمی حالت میں گرفتار ایک دہشت گرد افغان شہری ہے جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اسے افغانستان میں تربیت دی گئی اور حملے کی منصوبہ بندی بھی وہیں کی گئی تھی۔ اسی واقعے کے بعد اسلام آباد نے کابل سے سخت احتجاج کرتے ہوئے افغان ناظم الامور کو طلب کیا اور احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق دہشت گرد حملے کے بعد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان کے صوبوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ سرکاری مؤقف ہے کہ ان حملوں میں تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے تین اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں تقریباً 25 شدت پسند مارے گئے اور بھاری مقدار میں اسلحہ تباہ کیا گیا۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے پاکستانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح یہ الزام عائد کیا کہ فضائی حملوں میں شدت پسندوں کے بجائے خواتین، بچوں اور دیگر عام شہریوں سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد افغان وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائیہ نے بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان، خیبر پختونخوا کے قمبرخیل اور چترال کی شاہ سلیم وادی میں داعش کے تربیتی مراکز پر فضائی حملے کیے۔ افغان طالبان حکومت کے مطابق یہ وہ مقامات تھے جہاں سے افغانستان کے خلاف حملوں اور تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی لیکن اس کارروائی کے دوران کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔

ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے افغان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے چار سادہ نوعیت کے ڈرونز کو بلوچستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت شناخت کر کے تباہ کر دیا۔ فوجی ترجمان کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کی خودمختاری کے دفاع اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔ آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج کے مطابق اگر مستقبل میں سرحد پار کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کی گئی تو اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ اس سخت مؤقف نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری طرف بلوچستان کے ضلع پشین میں ایک ڈرون گرنے سے دو افراد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ پشاور کے مضافاتی علاقے حسن خیل میں ایک ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔ اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات لگا رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ اسلام آباد کے مطابق اس حوالے سے متعدد مرتبہ افغان طالبان حکومت کو شواہد بھی فراہم کیے گئے، جبکہ قطر اور ترکیہ سمیت دوست ممالک سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ کابل پر دباؤ ڈالیں تاکہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنائی جا سکے، تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد توقع تھی کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن عملی صورت حال اس کے برعکس رہی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق طالبان حکومت کے قیام کے بعد خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق گرفتار دہشتگرد عثمان علی نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اس کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے اور اسے افغانستان میں خودکش جیکٹس تیار کرنے سمیت مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی تربیت دی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اسلام آباد کا یہ بھی مؤقف ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے اور بعض دہشت گرد گروہوں کو مبینہ مالی اور عسکری معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم بھارت ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود جب دہشت گردی میں کمی نہ آئی تو سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں ناگزیر ہو گئیں۔ حکام کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہر خودمختار ریاست کو اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے، خصوصاً جب اسے سرحد پار دہشت گردی کے مسلسل خطرات کا سامنا ہو۔
دفاعی اور علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی صرف دو ہمسایہ ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، تجارت اور سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ طورخم سمیت اہم سرحدی راستوں کی بندش، سفارتی تعلقات میں تناؤ اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے مذاکرات، اعتماد سازی اور مشترکہ انسداد دہشت گردی کے لائحہ عمل کی طرف پیش رفت نہ کی تو صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران میں سب سے اہم ضرورت کشیدگی کو کم کرنے، سفارتی رابطوں کو بحال رکھنے اور دہشت گردی کے مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ہے۔ بصورت دیگر سرحد پار حملوں، جوابی کارروائیوں اور سخت بیانات کا موجودہ سلسلہ کسی بڑے عسکری تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن، معیشت اور علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔

Back to top button