حکومت پاکستان میں مقیم افغانوں کے خلاف شکنجہ کسنے لگی

خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف حکومتی کارروائی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی موبائل سمیں بلاک کر دی ہیں، جبکہ 10 جولائی کے بعد ایسے افراد کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے جائیں گے جو مؤثر ویزا یا قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم ہوں گے۔ اس سلسلے میں صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے، پشاور کو پانچ آپریشنل سیکٹرز میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور پولیس کے ساتھ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے منصوبے پر عمل درآمد تیز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ کی ہدایات کے تحت خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف مرحلہ وار کارروائیاں جاری ہیں، جنہیں آئندہ چند دنوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔

ابتدائی مرحلے میں ایک لاکھ سے زائد افغان باشندوں کی موبائل سمیں بلاک کر دی گئی ہیں، جبکہ حکام کے مطابق 10 جولائی کے بعد ایسے تمام افراد کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے جائیں گے جن کے پاس کارآمد ویزا یا دیگر قانونی سفری دستاویزات موجود نہیں ہوں گی۔

پشاور میں آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے شہر کو پانچ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ غریب آباد، فقیر آباد، کارپوریشن کالونی، فیصل کالونی، افغان کالونی، لطیف آباد، زریاب کالونی اور مدینہ کالونی سمیت مختلف علاقوں کو الگ الگ سیکٹرز میں شامل کر کے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ کے مراسلے میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ 10 جولائی کے بعد بغیر قانونی ویزا یا دستاویزات کے پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو گرفتار کر کے وطن واپسی کے عمل کا حصہ بنایا جائے۔ متعلقہ اداروں کو غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی، گرفتاری اور واپسی کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ مضافاتی علاقوں میں بھی سرچ آپریشن کیے جائیں گے، کیونکہ اطلاعات ہیں کہ بعض غیر قانونی مقیم افراد شہروں سے نکل کر اپنے رشتہ داروں یا جاننے والوں کے ہاں منتقل ہو رہے ہیں۔ ایسے افراد کو پناہ یا سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔ادھر نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی، ایبٹ آباد، ہری پور، سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف اضلاع سے اطلاعات ہیں کہ پولیس نے دن اور رات کے اوقات میں ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے شروع کر دیے ہیں۔ کاروباری مراکز، مارکیٹوں اور دیگر مقامات پر بھی چیکنگ کا عمل جاری ہے۔ اکوڑہ خٹک، جہاں افغان باشندوں کی بڑی تعداد مقیم ہونے کی اطلاعات ہیں، وہاں بھی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مقررہ ڈیڈ لائن سے قبل یا اس کے فوری بعد وہاں بھی بھرپور کارروائی متوقع ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق اور قانونی معاونت کے حوالے سے بھی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ مشاورتی اجلاس میں افغان باشندوں کو قانونی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں خصوصی افغان ڈیسک قائم کرنے اور مفت قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق رضاکارانہ واپسی کے مراکز پر رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور بڑی تعداد میں افغان باشندے اپنے وطن واپس جا چکے ہیں، تاہم غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیوں میں آئندہ دنوں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

Back to top button