ایران دوست ممالک کے پاس پڑے اپنے منجمد اثاثے بحال کروانے میں ناکام کیوں؟

ایران کے بیرونِ ملک منجمد اربوں ڈالر کے اثاثے ایک بار پھر عالمی سیاست اور معاشی سفارت کاری کا مرکز بن گئے ہیں۔ بظاہر یہ رقوم چین، عراق، انڈیا، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کے بینکوں میں موجود ہیں، لیکن ان تک رسائی کا اختیار صرف ان ممالک کے پاس نہیں۔ امریکی پابندیوں، عالمی مالیاتی نظام اور پیچیدہ قانونی ضوابط نے اس معاملے کو اس قدر الجھا دیا ہے کہ فنڈز رکھنے والے ممالک بھی واشنگٹن کی منظوری کے بغیر ایران کو رقم منتقل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالیہ ایران۔امریکہ مفاہمتی یادداشت نے اس مسئلے کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے اور یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ آخر اربوں ڈالر موجود ہونے کے باوجود ایران اپنی ہی دولت استعمال کیوں نہیں کر پاتا۔
مبصرین کے مطابق ایران کئی دہائیوں سے بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے اربوں ڈالر بیرونِ ملک مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منجمد ہیں۔ ان اثاثوں کی مجموعی مالیت کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، جو تقریباً 27 ارب سے 100 ارب ڈالر تک بتائے جاتے ہیں۔ ان رقوم میں تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی، بجلی اور گیس کی فروخت، بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس میں موجود رقوم اور مختلف قانونی تنازعات میں پھنسے اثاثے شامل ہیں۔ ماہرین کے بقول زیادہ تر ایرانی فنڈز امریکہ میں نہیں بلکہ چین، عراق، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک میں موجود ہیں۔ چین کے پاس ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی بڑی رقم موجود ہے، جبکہ عراق کے پاس گیس اور بجلی کی برآمدات کی مد میں اربوں ڈالر جمع ہیں۔ جنوبی کوریا نے بھی کئی برس تک ایرانی فنڈز اپنے پاس رکھے، جن میں سے کچھ رقم بعد ازاں قطر منتقل کی گئی، تاہم ایران کو اس تک بھی مکمل رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
اگرچہ ان اثاثوں کا بڑا حصہ امریکہ میں موجود نہیں، لیکن عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر اور امریکی بینکاری نظام کی مرکزی حیثیت واشنگٹن کو غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے عائد ثانوی پابندیاں ایسے کسی بھی بینک، کمپنی یا حکومت کو نشانہ بنا سکتی ہیں جو امریکی منظوری کے بغیر ایران کے ساتھ مالی لین دین کرے۔اسی لیے چین، عراق، انڈیا یا کوئی اور ملک ایران کو رقم منتقل کرنے سے پہلے ممکنہ امریکی پابندیوں، بھاری جرمانوں یا امریکی مالیاتی نظام سے اخراج کے خطرات کو مدنظر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اپنی خواہش کے باوجود آزادانہ طور پر یہ فنڈز جاری نہیں کر سکتے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے اثاثے پہلی مرتبہ 1979 میں امریکی سفارت خانے کے بحران کے بعد منجمد کیے گئے تھے۔ بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی خدشات کے باعث 2011 اور پھر 2018 میں پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں، جب امریکہ جوہری معاہدے سے الگ ہو گیا۔ ان اقدامات نے ایران کو عالمی بینکاری نظام سے بڑی حد تک الگ کر دیا، جس کے نتیجے میں اس کی بیرونی آمدن مختلف ممالک میں پھنستی چلی گئی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت میں منجمد اثاثوں تک محدود رسائی، تیل کی برآمدات اور بعض مالیاتی شعبوں میں نرمی جیسے نکات شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا، کیونکہ امریکی پابندیوں کا ایک بڑا حصہ کانگریس کے قوانین سے جڑا ہوا ہے، جنہیں مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے صرف صدارتی اختیار کافی نہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ ایران کو بعض فنڈز صرف مخصوص مقاصد، مثلاً خوراک، ادویات، بنیادی ڈھانچے یا انسانی ضروریات کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، جبکہ رقم براہِ راست تہران منتقل نہ ہو۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر ایران کو اپنے منجمد اثاثوں کا قابلِ ذکر حصہ بھی مل جاتا ہے تو اس سے قلیل مدت میں ریال کی قدر کو سہارا مل سکتا ہے، درآمدات میں آسانی آ سکتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو سکتے ہیں اور مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ صرف مالی وسائل معیشت کو مکمل طور پر بحال نہیں کر سکتے۔ ایران کو سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی بحالی، مالیاتی اصلاحات، افراطِ زر پر قابو اور سیاسی و سکیورٹی استحکام جیسے بنیادی چیلنجز سے بھی نمٹنا ہوگا۔
ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ صرف بینکوں میں پڑی رقم کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست، امریکی پابندیوں، بین الاقوامی مالیاتی نظام اور سفارتی تعلقات کا پیچیدہ امتزاج ہے۔ جب تک پابندیوں میں واضح نرمی، قانونی یقین دہانی اور سیاسی اعتماد بحال نہیں ہوتا، چین، انڈیا، عراق یا دیگر ممالک کے لیے بھی ایران کو اس کی مکمل رقم واپس کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اربوں ڈالر موجود ہونے کے باوجود ایران اپنی معیشت کو مطلوبہ مالی سہارا فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
