ایران۔امریکہ مذاکرات تعطل کا شکار، امن ڈیل خطرے میں

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل ایک مرتبہ پھر غیر یقینی کی کیفیت کا شکار ہو گیا ہے۔ اگرچہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ دونوں فریقین کے مابین سفارتی رابطے تیزی سے آگے بڑھیں گے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی اور بداعتمادی کو فروغ دینے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جس کے باعث مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستانی کوششوں کے بعد اب قطر اور عمان مسلسل سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی فیصلہ کن پیش رفت میں نہیں ہو سکی۔ امریکی اعلیٰ سطحی وفد دوحہ پہنچ چکا ہے جہاں قطری حکام کے ساتھ مختلف علاقائی امور پر مشاورت ہوگی، لیکن قطری حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اس دورے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی براہِ راست ملاقات یا مذاکرات طے نہیں ہیں۔

قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی وفد کا مقصد صرف قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت کرنا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ براہِ راست رابطے اس دورے کا حصہ نہیں۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم رکھنا اور عالمی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ کسی بھی نئی کشیدگی سے عالمی توانائی کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ ادھر ایران نے بھی واضح پیغام دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں خصوصا جب تک امریکہ اور اسرائیل ایران اور لبنان پر حملوں سے باز نہیں آتے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی وفد دوحہ میں صرف قطر کے ساتھ منجمد اثاثوں اور عبوری انتظامات پر بات کرے گا، جبکہ آئندہ چند روز میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی پروگرام موجود نہیں۔

ایران کے سخت مؤقف کی بنیادی وجہ مفاہمتی یادداشت کی ان شقوں پر عمل درآمد نہ ہونا قرار دیا جا رہا ہے جنہیں تہران مستقبل کے مذاکرات کے لیے لازمی شرط سمجھتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ جب تک یادداشت کی اہم شقوں پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا، ایران کسی نئے مذاکراتی مرحلے یا حتمی معاہدے میں شریک نہیں ہوگا۔
قالیباف کے مطابق ایران جن نکات پر فوری عمل درآمد چاہتا ہے ان میں لبنان میں جنگی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ، آبنائے ہرمز میں امریکی بحری دباؤ کا خاتمہ، ساٹھ روز تک تجارتی جہازوں کو بلا معاوضہ محفوظ گزرگاہ کی فراہمی، ایرانی تیل اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ ان وعدوں پر عملی پیش رفت کے بغیر مذاکرات محض وقت کا ضیاع ہوں گے۔

دوسری جانب امریکہ کا مؤقف اس سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ سفارتی عمل جاری رہنا چاہیے، تاہم امریکی انتظامیہ کے اندر بھی ایران کے معاملے پر مختلف آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جس سے امریکی پالیسی کے بارے میں سوالات جنم لے رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نسبتاً محتاط حکمت عملی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ سفارت کاری کو مزید مشکل بنا رہی ہیں اور امریکہ کو نئی جنگوں میں الجھنے کے بجائے مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے برعکس وزیر خارجہ مارکو روبیو نسبتاً سخت مؤقف رکھتے ہیں اور اسرائیل کی حمایت کو امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیتے ہیں۔ ان کی ترجیح خطے میں امریکی اتحادیوں کا تحفظ اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اندازِ فکر کا یہ فرق مذاکراتی عمل پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس ان اختلافات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پوری انتظامیہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک ہی پالیسی پر عمل پیرا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف بیانات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ ایران سے متعلق حکمت عملی پر کم از کم ترجیحات کا فرق ضرور موجود ہے، جو سفارتی فیصلوں کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی دوران میدانِ عمل میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ امریکہ ایران پر تجارتی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے الزامات عائد کر چکا ہے، جبکہ ایران نے جواباً خلیج میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں، جس کے باعث اعتماد کی فضا مزید کمزور ہو گئی ہے۔
آبنائے ہرمز بھی تنازع کا مرکزی نکتہ بنی ہوئی ہے۔

حالیہ مہینوں میں اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کئی بار متاثر ہوئی، حالانکہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ایران نگرانی سخت کر چکا ہے اور بعض صورتوں میں بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس لینے اور مقررہ راستے سے ہٹنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کے عندیے بھی دے چکا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی برقرار ہے۔ عالمی معیشت بھی اس تعطل سے متاثر ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں جبکہ امریکہ میں بھی معاشی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن بعض معاشی اقدامات کے ذریعے اندرونِ ملک مہنگائی کے اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اس کے لیے مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کی اصل وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔ ایران پہلے عملی اقدامات دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ مذاکرات کو عملی اقدامات سے پہلے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ یہی بنیادی اختلاف دونوں ممالک کو ایک مرتبہ پھر سفارتی تعطل کی طرف دھکیل رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے پیش رفت نہ ہوئی تو مذاکرات طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایران مزید سخت شرائط اختیار کر سکتا ہے، امریکہ اقتصادی اور سفارتی دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی دوبارہ جنم لینے کا خدشہ موجود رہے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خطے کا امن متاثر ہوگا بلکہ عالمی توانائی کی منڈیاں، تیل کی قیمتیں اور بین الاقوامی معیشت بھی ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

Back to top button