میرے خاندان نے عمران خان کو سپورٹ کرنے کی قیمت چکائی

https://youtu.be/iiPNmJ_ImuM
لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گینگ ریپ ہونے والی خاتون نے وزیراعظم سے دونوں جنسی درندوں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اور میرا خاندان عمران خان کی تحریک انصاف کے حامی تھے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ ہمیں تبدیلی کی قیمت ساری زندگی چکانی ہوگی۔
متاثرہ خاتون نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ اور ایس ایچ او تھانہ گجر پورہ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا یہ پولیس افسر کیس کو خراب کردیں گے اس لیے ان کو تبدیل کیا جائے۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے 15 ستمبر کے روز ایک مرتبہ پھر سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی برطرفی کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسے بھرپور سپورٹ کریں اور کامیاب بنایئں۔ یاد رہے کہ سی سی پی او لاہور کی سربراہی میں پولیس کئی روز گزرنے کے باوجود موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے اور عوام مسلسل عمر شیخ کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم نے ریپ کے ملزمان کو نامرد کرنے کی سزا تو تجویز کی ہے لیکن اس سی سی پی او کو مسلسل تحفظ فراہم کیے جا رہے ہیں جس نے یہ واہیات بیان دیا تھا کہ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کو رات کے وقت موٹروے پر سفر نہیں کرنا چاہیے تھا۔
سنیئر صحافی اور اینکر پرسن فریحہ ادریس نے ایک مرتبہ پھر ریپ کا شکار ہونے والی خاتون سے گفتگو کے بعد بتایا ہے کہ متاثرہ خاتون نے وزیراعظم عمران خان کے نام خصوصی پیغام بھجوایا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسے بربریت کا نشانہ بنانے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے اور پاکستان میں حقیقی تبدیلی انکو فوری انصاف کی فراہمی کے ذریعے نظر آنی چاہیئے۔ خاتون نے یہ بھی بتایا کہ وہ اور ان کے خاندان کے افراد تحریک انصاف کے حامی ہیں لیکن اس تبدیلی نے ان کی زندگی تباہ کردی ہے۔ خاتون نے فریحہ ادریس کو بتایا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس کے ساتھ جو ہوا وہ کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ خاتون نے کہا کہ اب ان کی پوری فیملی کو عمر بھراس تبدیلی کی قیمت چکانا ہوگی۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان کو پھانسی کی سزا دینے سے ہی ان کی روح کو سکون ملے گا، ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و جبر کا ازالہ ممکن ہو سکے گا۔ ایسے ملزمان کے لیے کوئی بھی نرمی برتنے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔متاثرہ خاتون نے اپنے پیغام میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جماعت انصاف کی بات کرتی ہے لہذا میرے حوالے سے سی سی پی او کے منفی ریمارکس کے حوالے سے بھی انصاف ضرور ہونا چاہیے۔ عمر شیخ کے خلاف سخت ترین انضباطی کارروائی ہونی چاہیے۔ خاتون نے کہا کہ پوری قوم کی طرف سے عمر شیخ کی برطرفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن اسے لانے والے اپنی ناک کا مسلہ بنائے بیٹھے ہیں۔
دوسری جانب لاہور موٹر وے پر خاتون سے ڈکیتی کے بعد زیادتی کیس میں مفرور مرکزی ملزم عابد علی کے محلے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے تمام اہل علاقہ والے ہی نفرت کرتے تھے۔ وہ اپنے محلے کی خواتین کو بھی جنسی طور پر ہراساں کرتا تھا اور اسکی اپنے محلے میں بھی شہرت جرائم پیشہ فرد جیسی ہے۔ لاہور شیخوپورہ روڑ پر قلعہ ستار شاہ کے پسماندہ محلہ غازی کوٹ کے رہائشی جنسی درندے عابد علی کے محلے داروں کا کہنا ہے کہ وہ مسلح ہو کر گھومتا تھا اور لوگوں کو دھمکیاں دیتا تھا، ہم ڈرتے تھے کہ کہیں وہ ہماری بچیوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ وہ آس پاس گھروں میں رہنے والی خواتین کو بھی جنسی ہراساں کرتا تھا لیکن لوگ خاموش اس لیے رہتے تھے کہ وہ اسلحہ دکھاتا اور دھمکیاں دیتا تھا۔ اہل محلہ کا کہنا ہے کہ وہ اکثر رات کے وقت گھر سے غائب رہتا اور دن میں گھر پر ہوتا۔ اس نے اڑھائی سال پہلے یہاں تین مرلے خرید کر مکان تعمیر کیا تھا۔ اکثر محلے والے جانتے تھے کہ اس گھر میں سارا سامان چوری کا ہے کیوں کہ سب کو پتہ تھا کہ یہ رات کو سامان اور پیسے لوٹ کر لاتا ہے۔ اہل محلہ کا کہنا ہے کہ ایک بار پہلے بھی پولیس اسے پکڑ کر لے گئی تھی لیکن اس کے بعد وہ ٹھیک ہونے کی بجائے مزید وحشی ہو گیا۔
جنسی درندے عابد کے محلے کی بعض خواتین کے بقول عابد اوراس کی بیوی دونوں کا رویہ ناقابل برداشت تھا۔ عابد ہمیں بھی گھورتا رہتا تھا۔انہوں نے کہا کہ عابد کے ساتھ محلہ میں کسی کا کوئی لین دین نہیں تھا۔ وہ ابتدا سے ہی مشکوک تھا اور سب سے الگ الگ رہتا تھا تاکہ اس کی اصلیت کسی کو پتہ نہ چل سکے۔ عابد علی ماضی میں بھی پولیس کے راڈار پر کئی مرتبہ آیا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر سزا سے بچتا رہا۔ 2013 میں بھی ملزم نے فورٹ عباس کی ایک گاؤں میں ڈکیتی کے دوران ایک مکان میں 14 سالہ لڑکی پر جنسی حملہ کیا تھا البتہ پولیس نے اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا اور اسے سزا نہ ہو سکی۔ تب بھی ملزم نے متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دیں اور بعد میں وہ محفوظ مقام پر منتقل ہوگیا۔ حالیہ دنوں میں اسے 8 اگست کو شیخوپورہ میں چوری کی ایک واردات میں گرفتار کیا گیا لیکن وہ ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ عابد کم از کم 10 مقدمات میں پنجاب پولیس کو مختلف علاقوں میں مطلوب ہے۔ شناختی کارڈ پر ملزم عابد کا پتہ بہاولنگر درج ہے جبکہ وہ اہل علاقہ کے مطابق اڑھائی سال سے وہ اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ قلعہ ستار شاہ کے محلہ غازی کوٹ میں مقیم تھا۔ تاہم واقعے کے بعد سے وہ اپنی بیوی کے ساتھ مفرور ہے جبکہ اس کی بیٹی پولیس کی تحویل میں ہے۔
