میشا نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام کیوں لگایا تھا؟

معروف گلوکار علی ظفر نے دعویٰ کیا ہے کہ گلوکارہ میشا شفیع نے ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے سے پہلے انہیں دھمکی دی تھی کہ وہ ان کے ساتھ کچھ بہت بُرا کرنے جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ علی ظفر پر معروف اداکارہ صبا حمید کی بیٹی میشا شفیع نے اپریل 2018 میں جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ گلوکار نے انہیں تب نشانہ بنایا جب وہ بچوں کی ماں بن چکی تھیں۔

علی ظفر نے ایکسپریس ٹی وی کے شو’ دی ٹاک ٹاک میں میشا شفیع کے الزامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دراصل ان پر تب الزامات لگائے گئے جب انہیں ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے میوزک کا بہت بڑا پروجیکٹ دیا جس کی فیس کروڑوں روپے میں تھی۔ علی ظفر کے مطابق وہ منصوبہ پہلے کسی اور بڑے گلوکار کے پاس تھا مگر کمپنی نے اس کے ساتھ معاہدہ ختم کیا اور انہیں دینے کا فیصلہ کیا۔ گلوکار نے دعویٰ کیا کہ اس ملٹی نیشنل کمپنی نے جیسے ہی ان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔

سوشل میڈیا پر کچھ جعلی اکاؤنٹس بنا کر ان کے حوالے سے نامناسب باتیں لکھی جانے لگیں۔ علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ ملٹی نیشنل کمپنی سے معاہدہ ہونے کے بعد انہیں باضابطہ طور پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی اور انہیں دھمکی دی گئی کہ وہ معاہدے سے الگ ہوجائیں، ورنہ ان کے ساتھ غلط کیا جائے گا۔ علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ کام شروع کر دیا، کیونکہ اس معاہدے کی رقم کروڑوں روپے میں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جیسے ہی انہوں نے کمپنی کے منصوبے کی شوٹنگ شروع کی، اسی دن ہی انکے خلاف میشا شفیع نے ایک ٹوئٹ کی، جس نے ان کی پوری زندگی ہی بدل کر رکھ دی۔

علی ظفر کے مطابق اس ٹوئٹ کے بعد انہیں تمام منصوبوں سے الگ کر دیا گیا اور انہیں کام بھی نہیں دیا گیا اور وہ کم از کم دو سال تک بغیر کام کے گھر بیٹھے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ علی ظفر کو کوئی مالی نقصان نہیں پہنچا، وہ ان کا ٹیکس ریکارڈ دیکھ لیں، انہیں حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ علی ظفر نے بتایا کہ جیسے ہی ان پر الزامات لگے، لوگ ان سے نفرت کرنے لگے لیکن پھر آہستہ آہستہ لوگوں کو سمجھ آئی اور ان کی عزت بحال ہوئی۔ گلوکار نے الزام لگانے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ان پر الزامات نہ لگاتے تو وہ زندگی کو اچھی طرح سمجھ نہیں پاتے اور اس میں بھی کوئی خدا کی حکمت ہوگی کہ انہیں ایسے مشکل امتحان میں ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انکا کیس پانچ سال سے لٹکا ہوا ہے، لیکن الزام لگانے والی محترمہ جرح کے لیے عدالت آنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بار بار عدالت جاتے ہیں، کیوں کہ وہ سچ پر ہیں جب کہ محترمہ عدالت سے بھاگتی رہتی ہیں، کیوں کہ وہ جھوٹی ہیں۔

یاد رہے کہ میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر کے خلاف ٹوئٹ میں جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے جانے کے بعد گلوکارہ نے گورنر پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا مگر ان کی درخواستیں مسترد ہوگئی تھیں کیونکہ وہ اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہوگئی تھیں۔ میشا کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد علی ظفر نے ان کے خلاف لاہور کی مقامی عدالت میں خود کو بدنام کرنے کے الزامات کے تحت ہتک عزت کا کیس 2018 میں ہی دائر کیا تھا جو تاحال زیر سماعت ہے اور پانچ سال گزر جانے کے باوجود اس کا کوئی حل نہیں نکلا۔ اس دوران میشا پاکستان چھوڑ کر کینیڈا جا بسیں اور فوری واپس آنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس کیس کے علاوہ بھی علی ظفر اور میشا شفیع نے ایک دوسرے کے خلاف متعدد کیسز دائر کر رکھے ہیں جب کا کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

مبینہ جنسی ہراسانی کے الزام کے خلاف دائر کردہ کیس میں علی ظفر اور ان کے گواہوں کے بیانات مکمل ہوچکے ہیں جب کہ ان سے جرح بھی کی جا چکی ہے، تاہم میشا شفیع اور ان کے کچھ گواہوں کی جرح باقی ہے جو ان کہ عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو پا رہی۔

Back to top button