میں پہلے اس لئے نہیں آیا کہ اب میں وزیر اعظم ہوں

وزیر اعظم عمران خان نے ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والے ظلم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔
کوئٹہ کے دورے پر قبائلی عمائدین اور ہزارہ لواحقین سے ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحہ مچھ کے متاثرین کا خیال رکھیں گے اور برداری کو بھرپور تحفظ فراہم کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کرانے کی کوشش کی اور مارچ میں ہی کابینہ کو بھارت کی پاکستان میں فرقہ وارانہ تصادم کی کوششوں سے آگاہ کردیا گیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم داعش کو بھارت کی مکمل اور بھرپور مدد اور حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دہشت گرد گروپوں اور داعش کا اتحاد ہوچکا ہے۔علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ افغان جہاد ختم ہونے کے بعد عسکری گروہوں نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا صفایا کرچکی ہیں لیکن صرف 35 سے 40 دہشت گرد موجود ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کا ایک سیل بن رہا ہے جس کا مقصد ہزارہ برادری کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقصد متاثرہ خاندان اور پوری برادری کو اعتماد دلانا تھا کہ ہماری حکومت کی جانب سے برادری کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے شرکا سے کہا کہ ‘آپ کو سمجھنا چاہیے کہ وزیراعظم کے لیے اور چیز ہوتی ہے، بطور عام شہری میں خود آپ کے پاس آیا تھا لیکن بطور وزیراعظم سارے ملک کے اندر کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ ایسا سانحہ نہ ہو’۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس لیے میں نے متعدد مرتبہ پیغام دیا کہ آپ تدفین کردیں اور آپ کے دکھ اور درد میں شریک ہونے کے لیے فوری آؤں گا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ شرط لگائیں گے تو آج میں اور کل دوسرا وزیراعظم ہوگا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں’۔انہوں نے کہا کہ میں وفاقی وزرا سمیت سیکیورٹی کے اداروں سے سانحہ مچھ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں مسلسل رابطے میں تھا۔
عمران خان نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ آپ نے ہمارے بات مانی اور شہیدوں کو سپرد خاک کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شعیہ سنی فساد پیدا کرنے والوں سے واقف ہیں، میرا مقصد صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک میں اتحاد پیدا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات بحال کرنے کی بہت کوشش کیں۔
یاد رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں مسلح افراد نے بندوق کے زور پر کمرے میں سونے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔اس واقعے کے فوری بعد سے ہرازہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر اپنے پیاروں کی میتیں رکھ کر احتجاج شروع کردیا تھا۔انتہائی سخت سردی میں دیے گئے اس دھرنے میں حکومت نے متعدد مرتبہ مذاکرات کی کوشش کی تھی تاہم ابتدائی طور پر یہ ناکام رہے تھے، بعد ازاں رات گئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، وفاقی کابینہ کے 2 اراکین علی زیدی، زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ایک مرتبہ پھر شہدا کمیٹی اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے نمائندوں سے مذاکرات کیے تھے۔جس کے بعد لواحقین کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کی کامیابی کے بعد دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین کا اعلان کیا گیا تھا، ساتھ ہی حکومتی ٹیم نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وزیراعظم عمران خان کسی بھی وقت ’جلد‘ کوئٹہ آئیں گے۔رات گئے جو حکومت کی جانب سے جن مطالبات کو تسلیم کیا گیا ان میں جے آئی ٹی کا قیام، عہدیداروں کی معطلی و دیگر شامل ہیں۔
کوئٹہ میں ڈیجیٹل میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یقین رکھیں کہ فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا اور اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خواجہ آصف وزیر دفاع اور وزیر خارجہ ہوتے ہوئے باہر کی ایک کمپنی کی ملازمت کررہا تھا جب کہ نوازشریف، احسن اقبال اور خواجہ آصف نے بیرون ممالک کے اقامے لے رکھے تھے، ملک کا وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ باہر کی کمپنیوں میں ملازمت کررہے تھے، اقامے لینے کا مقصد لوٹے ہوئے پیسے کا تحفظ تھا، اقاموں کی وجہ سے بیرون ملک منتقل کی گئی رقم کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر کرپٹ ٹولے کو این آر او دے دوں تو زندگی آسان ہوجائے گی، میں نے این آر او نہ دینے کے مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے، مشرف ان دونوں جماعتوں سے بہتر تھا لیکن اس نے ان کو این آر او دے کر غلط کیا، میں نے مشرف کے دونوں این آر اوز کی مخالفت کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک نچلے طبقے کی کرپشن سے نہیں حکومت اور حکمرانوں کی کرپشن سے تباہ ہوتے ہیں، پی ڈی ایم چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ ہے تاہم یہ فیصلہ کن جنگ ہے اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکوں گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کے معاملے میں اپوزیشن کی پالیسی منافقانہ تھی، کورونا کی پہلی لہر میں مجھ پر مکمل لاک ڈاؤن کا دباؤ ڈالا گیا، دوسری لہر زیادہ خطرناک ہے لیکن یہ اب جلسے جلوس کرتے پھررہے ہیں، دنیا بھر میں جہاں جلسے جلوس ہوئے وہاں کورونا تیزی سے پھیلا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان انہیں جماعتوں کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں آیا، یہ ملک کو بلیک لسٹ کرانا چاہتے تھے، ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر مجھے بلیک میل کیا گیا، مجھ سے تحریری طور پر این آر او مانگا گیا، آج زرداری اور نوازشریف اکھٹے ہوچکے ہیں، میں بہت پہلے جانتا تھا کہ یہ ایک ہوجائیں گے، ان کی کرپشن پر تو کئی ڈاکومنٹریز بن چکی ہیں اور پوری دنیا میں ان کی کرپشن کے چرچے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ یقین رکھیں کہ فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا، اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، یہ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دو، نوازشریف باہر بیٹھ کر فوج میں بغاوت کرانا چاہتا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جمہوری دور میں اداروں کو اس طرح بدنام کیا جارہا ہے، پہلے ہمیشہ مارشل لا میں فوجی قیادت پر تنقید ہوتی تھی لیکن موجودہ جمہوری دور میں فوجی قیادت کو کیوں نشانہ بنارہے ہیں، اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو بچانے کے لیے اداروں پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔
