نئے ISI چیف کا جنرل فیض کے کورٹ مارشل سے کیا تعلق ہے؟

پاکستانی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک پریس کانفرنس کے ذریعے آئی ایس آئی کو غیر سیاسی کرنے کا اعلان کرنے والے لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم بالاخر اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا ہے۔ ندیم انجم کے عہدے کی معیاد ایک برس پہلے ختم ہو گئی تھی تاہم ایک کے بعد دوسرا سیاسی بحران درپیش ہونے کی وجہ سے وہ ابھی تک بطور ڈی جی ائی ایس ائی فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی آئیں کہ ندیم انجم کی ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس میجر جنرل فیصل نصیر سے چپقلش چل رہی ہے جو ایجنسی کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا تھا کہ ندیم انجم کو مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کی حمایت حاصل تھی اور اسی وجہ سے انہیں ابھی تک تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔
آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل لیفٹنٹ جنرل محمد عاصم ملک کا تعلق ایک فوجی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد جنرل غلام محمد ملک راولپنڈی کے کور کمانڈر رہ چکے ہیں جنہیں جنرل جی ایم کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ عاصم ملک نے 80ویں لانگ کورس سے آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی جب کہ ان کے والد نے 1950 میں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اپنی نئی تعیناتی سے پہلے عاصم ملک جی ایچ کیو میں بطور ایڈجوٹینٹ جنرل خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ یاد رہے کہ فوج کی جیگ برانچ، جسے جج ایڈوکیٹ جنرل برانچ بھی کہا جاتا ہے، ہمیشہ ایڈجوٹئنٹ جنرل کے ماتحت کام کرتی ہے اور کورٹ مارشل جیسے اہم ترین امور بھی دیکھتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق چیف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید بھی ایک زمانے میں ایڈجوٹنٹ جنرل رہ چکے ہیں اور اب اسی برانچ کے تحت ہونے والے کوٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک 30 ستمبر 2024 کو بطور ایڈجوٹنٹ جنرل اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر آئی ایس آئی چیف کا نیا عہدہ سنبھالیں گے۔ سرگودھا کی تحصیل شاہ پور سے تعلق رکھنے والے عاصم ملک اس سے پہلے بلوچستان میں انفنٹری ڈیویژن اور وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کمانڈ کر چکے ہیں۔ عاصم اپنے کورس میں اعزازی شمشیر بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک ماضی میں چیف انسٹرکٹر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور انسٹرکٹر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ عاصم فورٹ لیون ورتھ اور رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز برطانیہ کے گریجویٹ بھی ہیں۔
کیا عسکری قیادت عمراندار ججز کو قابوکرنے میں کامیاب ہوگی؟
واضح رہے کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو 6 اکتوبر 2021 کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم ان کے عہدے کی معیاد ستمبر 2023 میں ختم ہو گئی تھی لیکن انہیں کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔ یاد رہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل کی تعنیاتی وزیراعظم کی صوابدید ہوتی ہے لیکن وزیراعظم، ہمیشہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی آرمی چیف کی مشاورت سے کرتے ہیں۔
