نقیب اللہ محسود کے قاتل SSP راؤ انوار کے بری ہونے کا امکان

پشتون قوم پرست جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام کی وجہ بننے والے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں نامزد ملزمان کو تین برس گزرنے کے بعد بھی سزا نہیں مل پائی اور اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے شاید بااثر ملزمان بشمول سابق ایس ایس پی راؤ انوار سمیت تمام نامزد ملزمان صاف بچ جائیں۔
نقیب اللہ قتل کیس کے وکیل اور معروف سماجی کارکن جبران ناصر نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نقیب اللہ سمیت سینکڑوں بے گناہوں کے قاتل اور عالمی پابندیوں کا شکار انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار کو عدالت بری کر دے۔ یاد رہے کہ امریکی اور برطانوی حکومتوں نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس کے اثاثے ضبط کرنے اور ان دونوں ملکوں میں اسکے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ دوسری طرف کراچی پریس کلب میں نقیب اللہ محسود کی تیسری برسی کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ جنوری 2018 میں نقیب اللہ محسود سمیت 4 نوجوانوں کے کراچی میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہونے والے قتل کیس میں 30 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے راؤ انوار سمیت 5 ملزمان ضمانت پر رہا ہیں، 18 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج ہو چکی ہیں اور وہ جیل میں ہیں جبکہ 7 ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اطلاعات نائب کے قتل کے واقعے کے پہلے سال ہی سامنے آ گئی تھیں کہ پولیس کے دو مرکزی گواہان اپنے بیانات سے منحرف ہورہے ہیں، انیون نے کہا کہ اب تک 5 ملزمان ایسے ہیں جو کہ اپنے بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں، یہ کیس گواہیوں کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا اور اگر باقی گواہان بھی اپنے بیانات سے منحرف ہو جاتے ہیں تو تمام ملزمان بری ہو جائیں گے اور نقیب محسود کا خون رائیگاں جائے گا۔ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ اس کیس میں یون لگ رہا ہے کہ ریاست، پراسکیوشن اور پولیس تینوں مل کر راؤ انوار کو بری کرنے کی پوری تیاری کر چکے ہیں، اور اگر راؤ انوار اس کیس سے بری ہوگیا تو وہ عملی طور پر 444 انکاؤنٹرز میں ہونے والے قتلوں سے بڑی ہو جائے گا۔
جبران ناصر نے کہا کہ ‘جس پولیس افسر نے اس قتل کیس کی ابتدائی انکوائری رپورٹ بنائی تھی، اور جس کے بعد یہ معاملہ ازخود نوٹس کی طرف گیا اور سپریم کورٹ نے اخک جے آئی ٹی بنائی، اس افسر کا نام ثنااللہ عباسی ہے، اور سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ کوئی بے ایمان شخص نہیں جو اہنے پیٹی بند پولیس افسران کو جھوٹے کیس میں پھنساتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عباسی کوئی نااہل افسر ہوتا تو اسے پہلے گلگت بلتستان اور پھر خیبر پختونخوا کا آئی جی نہ بنایا جاتا۔ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ اگر راؤ انوار کو بری کیا گیا تو یہ پوری ریاست کی ناکامی ہوگی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دو سابق وزرائے اعظم، قومی اسمبلی میں موجودہ قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بھیج دیا گیا، لیکن راؤ انوار کو کبھی گرفتار نہیں کیا گیا جس کے بعد ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ راؤ انوار تگڑا اور ریاست کمزور ہے۔
جبران نے کہا کہ انہوں نے راؤ انوار کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کے آغاز کےلیے نیب میں درخواست جمع کرائی، ایک سال بعد احتساب کے ادارے نے مزید شواہد مانگے جو انہوں نے فراہم کیے لیکن اب تک تحقیقات کا آغاز نہیں ہوا۔
انہوں نے حکومت سندھ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے وزرا نے شکارپور میں چند پولیس رپورٹس کی بنا پر ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان احمد کے خلاف پریس کانفرنس کی، جو نقیب کیس کے تفتیشی افسر تھے۔ اس موقع پر مقتول نقیب اللہ محسود کے چھوٹے بھائی عالم شیر محسود نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف، سابقہ و موجودہ وزرائے اعظم اور تمام جماعتوں کے سربراہان نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ نقیب اللہ محسود کے والدین اور بچوں کو انصاف ملے گا، میرے مرحوم والد اس امید پر دنیا سے رخصت ہوگئے اور اب والدہ، نقیب کی اہلیہ، بچے اور پوری قوم انصاف کے منتظر ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہم عدالت سے ناامید ہیں، راؤ انوار دہشت گرد تھا اور ہے، میرے والد وفات سے قبل کہتے رہے کہ نقیب صرف میرا نہیں ملک کے 22 کروڑ عوام کا بیٹا ہے، اس کے خون پر سودے بازی ملک کے عوام کی سودے بازی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کراچی اور اسلام آباد میں احتجاجی دھرنوں میں بذات خود شریک ہوئے اور آپ نے انصاف کے حصول میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ عالم شیر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نقیب اللہ محسود کے نام پر ضلع جنوبی وزیرستان میں ان کے آبائی گاؤں میں کالج کے قیام کا اعلان کیا تھا، لیکن اب تک اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
یاد ریے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والا نقیب اللہ محسود ان 4 مشتبہ افراد میں شامل تھا، جنہیں جنوری 2018 میں کراچی میں سابق انکاؤنٹر اسپیشلسٹ ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کی ٹیم کی جانب سے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں ‘جعلی مقابلے’ میں مار دیا گیا تھا۔ راؤ انوار کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مارے گئے افراد کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے تھا لیکن اس کالعدم تنظیم کے جنوبی وزیرستان چیپٹر کے ترجمان نے راؤ انوار کے اس دعوے کو ‘بے بنیاد’ قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ نقیب اللہ کا ان کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نقیب اللہ کے اہل خانہ نے بھی سابق ایس ایس پی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے 27 سالہ بیٹے کا کسی عسکری تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
