نواز شریف کی وطن واپسی پر فوری گرفتاری کا خطرہ کیسے ٹلا؟

نواز شریف کی وطن واپسی میں حائل رکاوٹیں دور ہونے لگیں۔ 21اکتوبر کو نواز شریف کی وطن واپسی پر فوری گرفتاری کا خطرہ ٹل گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا جبکہ احتساب عدالت نے بھی توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری معطل کردئیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پرسماعت کی۔ دوران سماعت اعظم نذیر تارڑ ے کہا کہ نواز شریف ٹرائل کورٹ میں اشتہاری تھے، اس میں وارنٹ معطل ہوگئے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آپ کے پاس وہ آرڈر ہے؟ اعظم نذیر نے بتایا کہ آرڈر ہوگیا ہے،وکلا ابھی احتساب عدالت سے آرہے ہیں ۔بعد ازاں عدالت نے احتساب عدالت کے حکم کو مد نظر رکھتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں گرفتار کرنے سے روک دیا اور 24 اکتوبر تک ان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کےجج محمد بشیر نے نواز شریف کی توشہ خانہ کیس میں وارنٹ معطلی کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں نواز شریف کے وکیل قاضی مصباح اور نیب پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہو ئے ۔دوران سماعت وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا کہ نواز شریف کے وارنٹ معطلی پر کل درخواست دائر کی تھی، وہ عدالت پیش ہونا چاہتے ہیں اور 21 اکتوبر کو پاکستان آرہے ہیں لہٰذا ان کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیں۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف نے دو ریلیف مانگے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا چاہتے ہیں، نواز شریف آنا چاہتے ہیں تو وارنٹ 24 اکتوبر تک معطل کردیں۔عدالت نے وکیل صفائی اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد نواز شریف کی وارنٹ معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔بعد ازاں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئےنواز شریف کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیے اور کہاکہ اگرنواز شریف 24 اکتوبر کو نہ آئے تو وارنٹ بحال ہو جائیں گے۔خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت مجموعی طور پر اسلام آباد میں 3 کیسز توشہ خانہ، العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں مطلوب تھے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اپریل 2016ء میں پاناما لیکس کے انکشافات ہوئے، پاناما لیکس کے بعد اپوزیشن کے مسلسل احتجاج اور نااہلی کے مطالبے پر سپریم کورٹ نے پاناما کیس سنا اور الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا۔جے آئی ٹی رپورٹ کے نتیجے میں 28 جولائی 2017ء کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا، اس کے بعد نیب میں انہیں ایون فیلڈ، العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا سامنا کرنا پڑا۔

پاناما لیکس میں بیرون ملک شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے ان پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے نااہلی کا مطالبہ کیا۔28 جولائی 2017ء کو جے آئی ٹی رپورٹ کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے تحت نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نا اہل قرار دے دیا۔عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور شریف خاندان کے تمام کیسز نیب میں بھجوانے کا بھی حکم دیا اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کو ان کیسز میں نگران جج مقرر کیا جس کے بعد عدالتوں میں کیسز پر کارروائی کا آغاز ہوگیا۔

جون 2020ء میں توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔توشہ خانہ کیس میں مسلسل عدم پیشی پر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو 8 ستمبر2020ء کو اشتہاری قرار دے دیا۔ تاہم اب ان کے وارنٹ گرفتاری معطل ہو چکے ہیں۔

ایوان فیلد ریفرنس میں احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018ء کو نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 1 سال قید کی سزا سنائی۔احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر عدالت نے سزا معطل کر دی، سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت تھی جب نواز شریف علاج کیلئے بیرون ملک چلے گئے اور اپیلوں کی پیروی کیلئے واپس نہ آئے۔

24 دسمبر 2018ء کو احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری کرتے ہوئے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنا دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلیں زیر سماعت تھیں کہ اسی دوران وہ علاج کیلئے لندن روانہ ہو گئے اور اپیلوں کی پیروی کیلئے واپس نہ آئے، کیس کی مسلسل عدم پیروی پر عدالت نے باعزت بری کرنے کی اپیلیں خارج کر دیں۔ تاہم اب اسلام آ﷽اد ہائیکورٹ نے ان کی 24 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔

چودھری شوگر ملز کیس میں آج تک نیب نے ریفرنس دائر نہیں کیا، نیب نے صرف انکوائری کے دوران نواز شریف کو گرفتار کیا تھا اور 24 جون 2023ء کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں بھی لاہور کی احتساب عدالت نے نواز شریف سمیت دیگر کو مقدمہ سے بری کر دیا تھا۔لاہور کی احتساب عدالت نے پلاٹ الاٹمنٹ کيس ميں بريت کا تفصیلی فيصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی قانون کے مطابق نہیں تھی اور ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ 31 اکتوبر 2019ء کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے میڈیکل گرؤانڈ پر نواز شریف کی دونوں کیسز میں سزائیں معطل کر کے 4 ہفتوں کیلئے بیرون ملک علاج کی اجازت دی اور ساتھ فیصلے میں لکھا کہ اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہ ہو تو فوجداری قانون کی دفعہ 104 کے تحت وہ پنجاب حکومت سے ضمانت میں توسیع کروا سکتے ہیں۔ تاہم 4 سال بعد اب نواز شریف نے 21 اکتوبر کو وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Back to top button