باکسنگ کنگ انسپکٹر عابد باکسر پولیس کےنرغے میں کیسے آیا؟

ایک زمانے میں شہر لاہور میں کئی بدنام زمانہ بدمعاشوں کے گروہ سرگرم تھے جن میں حنیفا بابا اور شفیقا بابا، ہمایوں گجر، عاطف چوہدری، امیر الدین عرف بلا ٹرکاں والا، ججی بٹ اور گوگی بٹ اور بھولا سنیارا جیسے نام شامل تھے۔ عام لوگ ان جرائم پیشہ افراد کے نام سے ڈرتے تھے اور اجرتی قتل، ریپ، ڈکیتی اور بھتہ خوری کی وارداتیں عام تھیں۔ ان سب میں ایک قدر مشترک تھی کہ یہ تمام لوگ سویلین بدمعاش تھے لیکن لاہور میں کچھ بدمعاش ایسے بھی پیدا ہوئے ہیں جن کا تعلق پولیس سے تھا اور جنہوں نے اپنی وردی کو پیسہ کمانے اور بدمعاشی کے لیے استعمال کیا۔ ان میں سب سے مشہور نام جو آج بھی زندہ ہے عابد حسین عرف عابد باکسر کا ہے جسے پولیس سروس کے دوران انکاونٹر سپیشلسٹ بھی کہا جاتا تھا۔ عابد باکسر نے اپنے پولیس کیریئر کے دوران کئی نشیب و فراز دیکھے۔ ایک زمانے میں وہ اپنے باسز کی آنکھوں کا تارا ہوتا تھا کیونکہ تمام مطلوب ترین اشتہاری مجرموں کو اگلے جہاں رخصت کرنے کی ذمہ داری اسی کو سونپی جاتی تھی خواہ وہ قید میں ہوں یا آزاد۔ عابد باکسر اپنی یہ ڈیوٹی بڑی تندہی سے انجام دیتا تھا۔ پھر ایک وقت آیا جب عابد باکسر پر یہ الزام لگنا شروع ہو گیا کہ اس نے اپنی وردی کا غلط استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور پیسے لیکر لوگوں کے مخالفین کو جھوٹے مقابلوں میں مارنے کے علاوہ زمینوں پر قبضے کرنے اور چھڑانے بھی شروع کر دیے ہیں۔ پھر وقت کا پہیہ گھوما۔ اس پر عروج کے بعد زوال آ گیا اور وہ دن بھی آیا جب عابد باکسر پولیس کی نوکری سے نکال دیا گیا اور گرفتاری کے بعد اسکے اپنے پولیس مقابلے میں مارنے کے احکامات جاری کر دیئے گے۔ اسے آخری مرتبہ وضو کرنے کے لئے بھی کہہ دیا گیا۔ پھر اس کی جان کیسے بچی۔ آئیے جانتے ہیں عابد کی زندگی کی کہانی کیسے آگے بڑھی۔
1992-93 میں عابد باکسر کی تعیناتی سٹاف افسر کے طور پر اس وقت کے ایس پی سٹی لاہور اور بعد ازاں ایڈیشنل آئی جی کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے میر زبیر محمود کے ساتھ ہوئی۔ یہ اس کے پولیس کریئر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ میر زبیر کے ساتھ تعیناتی کے دوران ہی عابد حسین نے عابد باکسر بننے تک کا سفر طے کیا اور یہ تبدیلی پھر زندگی بھر اس کے ساتھ جڑ گئی۔ میر زبیر کے ساتھ تعیناتی کے دوران ہی عابد باکسر نے ایک انتہائی مطلوب شدت پسند عبدالکریم کو لاہور میں انجینئر یونیورسٹی کے سامنے ایک مقابلے میں ہلاک کیا جسکے بعد اسنے سینکڑوں جرائم پیشہ افراد کو مقابلوں میں پار کیا۔ اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے عابد باکسر نے بتایا کہ عبدالکریم کو 1991 میں ایک پولیس ناکے پر پکڑا گیا تھا۔ ’اسے اس وقت کے اے ایس پی میر زبیر کے پاس لے جایا گیا تو وہ کہنے لگا کہ صاحب مجھے ایک بھی جوتا پڑا تو میں آپ کا گھر بم سے اڑا دوں گا۔ میر زبیر نے سمجھا شاید یہ مذاق کر رہا ہے لیکن دوبارہ پوچھنے پر اس نے گذشتہ چند برس میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفصیلات دیں اور کہا کہ وہ بم اس نے نصب کیے تھے۔ جب پولیس اہلکاروں کو اس بات کی تصدیق کے لیے اس کے گھر بھیجا گیا تو وہاں سے واقعی بم برآمد بھی ہوئے۔ وہ جیل چلا گیا اور 1993 میں لشکرِ جھنگوی کے شدت پسند ریاض بسرا کی مدد سے جیل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر اس نے میر زبیر کو فون کیا کہ میں باہر آ گیا ہوں اب آپ اپنی فکر کریں۔ انھوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ اسے ڈھونڈوں۔ میں نے دو ماہ تک اس کی ریکی کی اور پھر ایک روز جب میں رکشے میں ریکی کر رہا تھا تو یو ای ٹی کے سامنے وہ ایک موٹر سائیکل سے اترا اور میرے رکشے کے سامنے آ گیا۔ یعنی میں اس کی اور وہ میری ریکی کر رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی دیکھا کہ میں رکشے میں ہوں تو گولی چلانے لگا لیکن اس سے پہلے میں نے فائر کر دیا اور اسے مار ڈالا۔

بعد ازاں عابد باکسر کے مقامی جرائم پیشہ گروپ کے سرغنہ عاطف چوہدری کے ساتھ بھی تین مرتبہ مقابلے ہوئے جن میں وہ زخمی تو ضرور ہوا لیکن بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ عاطف چوہدری کے ساتھ ان پولیس مقابلوں کی وجہ سے ہی عابد حسین، عابد باکسر کے نام سے مشہور ہوگیا۔ عابد باکسر کی پولیس مقابلوں میں اچھی کارکردگی نے اسے لاہور پولیس میں اس وقت ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ سکواڈ‘ کے نام سے مشہور گروپ میں شامل کروا دیا جن میں اس وقت کے ڈی ایس پی عاشق مارتھ، ڈی ایس پی رانا فاروق، ڈی ایس پی طارق کمبوہ، انسپکٹر نوید سعید اور انسپکٹر عمر ورک شامل تھے۔

یہ پولیس افسران اور اہلکار 1999 تک بہت سے ایسے پولیس مقابلوں میں شامل رہے جن میں جرائم پیشہ عناصر کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق صرف شہباز شریف کے پہلے دور وزارت اعلیٰ (1997-99) کے دوران ایک ہزار کے قریب جرائم پیشہ افراد ایسے پولیس مقابلوں میں مارے گئے جن کے حقیقی ہونے پر سوال اٹھتے رہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 1993 سے 1999 کے دوران صرف عابد باکسر کے ہاتھوں 70 سے زائد ایسے پولیس مقابلوں میں 100 سے زیادہ جرائم پیشہ افراد مارے گئے، جبکہ 160 سے زیادہ پولیس اہلکار اور 20 سے زیادہ عام شہری بھی ان مقابلوں کی نذر ہو گئے تھے۔ 90 کی دہائی میں عابد باکسر کے ساتھ کام کرنے والے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ جو بھی انکاؤنٹرز عابد باکسر نے کیے ہیں وہ سب اصلی ہی تھے۔ باقی پولیس والوں کی طرح عابد نے بھی بہت سے جرائم پیشہ لوگ ماورائے عدالت مارے ہیں اور اس وقت یہ تھوڑا ہی دیکھا جاتا تھا کہ انکاؤنٹرز اصلی ہیں یا جعلی، بس ایسے لوگوں کو پار کر کے جان چھڑانے کی پالیسی ہی رائج تھی۔‘کہا جاتا ہے کہ جب عابد باکسر تھانہ دھرم پورہ میں تعینات تھا تو عمیر راجہ نامی جرائم پیشہ شخص جس پر ریپ اور قتل کے مقدمے تھے اسے باکسر نے ایک کیس کی ’تفتیش‘ کے لیے ریمانڈ پر لے کر اگلے روز پولیس انکاؤنٹر میں مار دیا۔

1988 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں باکسنگ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرکے باکسر کے نام سے مشہور ہونے والے عابد حسین کا کہنا ہے کہ ان پر لوگوں کو پیسے لے کر مارنے اور زمینوں پر قبضے کروانے اور چھروانے کے الزامات جھوٹے ہیں اور انہوں نے پولیس سروس کے دوران جو بھی کیا اپنے باسز کے کہنے پر کیا۔ جعلی پولیس مقابلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے عابد باکسر کا کہنا تھا کہ ’جرائم پیشہ لوگوں کو پار کرنے کی پالیسی ہمیشہ اوپر سے آتی ہے اور یہ کوئی تحریری شکل میں نہیں ہوتی۔ ایسی پالیسی کا گاڑی کی طرح چیسی نمبر نہیں ہوتا۔‘ اس کا کہنا تھا کہ ’جب کسی مریض کا شوگر یا کینسر کی بیماری کا لیول آخری سٹیج پہ چلا جائے تو پھر علاج ڈسپرین سے نہیں کرتے بلکہ آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے۔‘عابد باکسر نے یہ بھی کہا کہ ’یہ تاثر کہ پولیس والے بندے اس لیے مارتے تھے کہ بڑا انعام یا ترقیاں ملتی تھیں، حقیقت نہیں ہے۔ میں نے کئی ایسے لوگوں کو بھی مارا جن پر لاکھوں روپے انعام تھا لیکن مجھے محکمے سے آج تک ایک روپیہ بھی نہیں ملااور نہ ہی کوئی ترقی ملی۔‘
تاہم پھر حالات کچھ ایسے بدلے کہ خود عابد باکسر پہ مقدمات قائم ہونے کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور چند برس کے اندر اس پر جعلی پولیس مقابلوں، قتل، زمینوں پر قبضے جیسے الزامات کی بنیاد پر ایک درجن کے قریب مقدمات درج ہو گئے۔ عابد باکسر پر پہلی ایف آئی آر 1999 میں طاہر پرنس نامی شخص کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی بنیاد پر درج ہوئی اور پھر یہ سلسلہ چلتا چلا گیا۔ اکتوبر 1999 میں جنرل پرویز مشرف کی نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی وجہ سے پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت بھی ختم ہوئی تو جہاں مبینہ پولیس مقابلوں کا سلسلہ جہاں تھما وہیں ایسے پولیس مقابلوں کے لیے بدنام پولیس اہلکار جو جرائم پیشہ عناصر کی ہٹ لسٹ پہ تھے ایک ایک کر کے مارے جانے لگے۔

ان افسران اور اہلکاروں میں سے صرف عمر ورک اور عابد باکسر ہی ایسے دو پولیس افسران ہیں جو زندہ بچے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ انھیں مارنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ عابد باکسر کی زندگی میں وہ لمحے بھی آئے جب اسے محسوس ہوا کہ ایک ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کو شاید ایک انکاؤنٹر میں ہی مار دیا جائے گا۔عابد باکسر نے بتایا کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب ’باغ بچہ اراضی کیس‘ میں وہ تین ماہ سے زیر حراست تھے۔ ’11 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے ایس ایس پی چوہنگ لاہور میر زبیر نے مجھے بتایا کہ آرڈر آگئے ہیں، ایک دو روز میں تمھیں مار دیں گے۔ اسی روز سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل نے بھی آ کر یہی بتایا کہ اب پولیس والے تمہیں مار دیں گے۔ میں ساری رات پریشانی کے عالم میں سو نہ سکا اور سوچتا رہا کہ میرے بچوں کا کیا بنے گا۔‘ ’اگلے روز شام کے وقت کچھ اہلکار آئے اور کہنے لگے وضو کر لیں، تفتیش کے لیے لے کر جانا ہے۔ تب میں سمجھ گیا کہ مجھے مارنے کے لیے لے جانے لگے ہیں ورنہ وضو کروا کر کون تفتیش کرتا ہے۔ میں نے دعا کی یاﷲ میرے بچوں کی حفاظت کرنا۔ تاہم تھوڑی دیر بعد جیل سپرٹنڈنٹ دوبارہ بھاگتا ہوا آیا کہ مارشل لا لگ گیا ہے اور فوج آ گئی ہے۔ اس طرح اس روز میری جان بچی۔‘عابد باکسر کے مطابق 2008 میں جب دوست محمد کھوسہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے تو مجھے پھر اطلاع دی گئی کہ مجھے مار دیا جائے گا تو میں اسی رات دبئی نکل گیا۔ اس کے بعد دس برس کا عرصہ اس نے دبئی اور برطانیہ میں گزارا۔
عابد باکسر 2018 میں الیکشن سے قبل گرفتار کر کے پاکستان واپس لایا گیا۔ اس کی آمد کے موقع پر یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ اسے شہباز شریف کے خلاف استعمال کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ تاہم اس بارے میں عابد باکسر کا کہنا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں تھی اور وہ پاکستان اس لیے واپس آیا کیونکہ وہ طویل جلاوطنی کاٹ چکا تھا اور مقدمات کا سامنا کر کے اپنا نام صاف کروانا چاہتا تھا۔ تاہم یہ سچ نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اسے گرفتار کرکے پاکستان لایا گیا اور لمبا عرصہ زیر حراست رکھ کر تفتیش کی گئی۔ بعد ازاں بھائی لوگوں کے کہنے پر اس کو چھوڑ دیا گیا جسکی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے جو دنیا کو معلوم نہیں۔ لیکن اب وہ آزاد ہے۔عابد باکسر کے بقول اب اس پر کوئی مقدمہ نہیں ہے اور پہلے درج کیے گئے مقدموں میں سے دو میں اسے بری کر دیا گیا ہے جبکہ باقی خارج ہو گئے۔

پولیس کیریئر کے دوران جعلی پولیس مقابلوں کے علاوہ مختلف سکینڈلز اور الزامات بھی عابد باکسر کی ذات کے ساتھ جڑتے رہے۔ سٹیج اداکارہ نرگس کے ساتھ اس کے تعلقات کی خبریں اور پھر اختلافات کی بنیاد پر اداکارہ کا سر منڈوانے کا واقعہ مہینوں تک خبروں میں رہا۔ نرگس کے ساتھ اپنے افیئر کے متعلق بات کرتے ہوئے عابد باکسر نے کہا جب وہ سبزہ زار تھانے میں بطور ایس ایچ او تعینات تھا تو وہاں نرگس کے خاوند کی ایک کیس میں تفتیش کے دوران اُس سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ ’لیکن میں نے نرگس کے بال نہیں منڈوائے تھے۔ اسے ڈانٹا ضرور تھا۔ انسان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ اس واقعے پر نرگس اور اپنے گھر والوں سے معافی مانگ چکا ہوں اور 2002 کے بعد سے میرا نرگس سے کوئی رابطہ نہیں ہے‘۔

پولیس مقابلوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے عابد باکسر کی نجی زندگی بھی متاثر ہوئی۔ اس کے مطابق ’برسرِ روزگار اور والدین کا اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود اسے کوئی رشتہ دینے پہ راضی نہ ہوتا بلکہ لڑکی والے ان کا نام سن کر بھاگ جاتے تھے۔‘ عابد باکسر نے بتایا ’1997 میں جب میں ایس ایچ او لوہاری تعینات تھا تو ایک روز ایک بڑی اچھی فیملی سے رشتہ آیا۔ لڑکی نے ایم بی بی ایس کیا ہوا تھا، وہ بھی خوش تھے کہ ایک ہی بیٹا ہے، انسپکٹر ہے اور گھر بار بھی ٹھیک ہے۔ میں انھیں پسند آ گیا اور پھر میری منگنی ہو گئی۔‘

اسں نے بتایا کہ ’کچھ روزبعد انھوں نے فون کر کے پوچھا کہ بیٹا آپ کا اصل نام کیا ہے۔ میں نے کہا جی عابد حسین، انھوں نے کہا کہ آپ کو ویسے کیا کہتے ہیں، میں نے کہا جی کہ مجھے عابد حسین ہی کہتے ہیں تو وہ بولے تو بیٹا یہ عابد باکسر کون ہے۔ تب تک میں سمجھ گیا تھا کہ معاملہ گڑبڑ ہے،میں نے جواب دیا کہ میں ہی عابد باکسر ہوں۔ اس پر انھوں نے کہا بیٹا اپنا لائف سٹائل تبدیل کریں اور وہ رشتہ توڑ دیا۔عابد باکسر کے مطابق ’ایک فیملی تو میرے مخافظوں کی تعداد دیکھ کر دروازے سے ہی بھاگ گئی اور دوسری میرا نام سُن کر۔ اس کے بعد جب بھی کوئی فیملی رشتہ دیکھنے گھر پر آتی تو ہم سب سے پہلے بندوقیں چھپا دیتے اور ساتھ ہی دعا کرتے کہ رشتہ ہو جائے۔ جہاں میری شادی ہوئی وہ لوگ جب مجھے پسند کر کے چلے گئے تو میں نے اپنے ماموں کو کہا کہ منگنی کی بجائے نکاح کرتے ہیں ایسا نہ ہو کہ انھیں بھی پتا چل جائے کہ میں عابد باکسر ہوں اور یہ بھی رشتہ ٹوٹ جائے۔‘ ’انھیں بعد میں پتا تو چل گیا لیکن اس وقت تک نکاح ہو چکا تھا اور ہم نے انھیں اعتماد میں بھی لے لیا تھا کہ بہت سے باتیں بس ویسے ہی عابد باکسر کے ساتھ جوڑ دی گئی ہیں جن میں سچائی نہیں ہے‘۔ عابد باکسر کے بقول ’1999 میں ہدایت کار سید نور نے کہا کہ میں آپ پر فلم بنانا چاہتا ہوں اسی طرح مولا جٹ کے پروڈیوسر ملک یونس نے بھی کہا کہ آپ پر فلم بنانا چاہتا ہوں لیکن میں نے دونوں بار منع کر دیا تھا۔

عابد نے دعویٰ کیا کہ وہ نوکری پر دو سال قبل بحال بھی ہو گیا تھا لیکن فورس دوبارہ جوائن نہیں کی کیونکہ وہ ایک اچھا دور گزار چکا ہے چنانچہ اب واپس آ کر کیا کرنا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس سروس کے دوران وہ اتنا پیسہ کما چکا ہے کہ اسے اب اس چھوٹی سی نوکری کی ضرورت نہیں۔

Back to top button