نور کے قاتل کو سہولتیں دینے کے لیے امریکہ کا رابطہ


اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے نور مقدم کے سفاک قاتل ظاہر جعفر کو جیل میں بہتر کلاس اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ پاکستانی حکام سے رابطہ کر لیا ہے کیونکہ اس کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے، ملزم اور اس کے والدین نے بھی جیل حکام سے بہتر کلاس اور سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک سابق سفارتکار نور مقدم کی بیٹی کو بیہمانہ طریقے سے قتل کر کے اس کا سر دھڑ سے الگ کرنے کے الزام میں گرفتار مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو
جیل میں بہتر سہولتیں اور بہتر کلاس دینے کے لئے امریکی سفارتخانے نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے امریکی سفارتخانے کے حکام نے اڈیالہ جیل میں ظاہر جعفر ملاقات کی تھی۔
تاہم امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں یہ بھی واضح کہا تھا کہ کسی بھی ملک میں امریکی شہری اس ملک کے قوانین کے تابع ہوتے ہیں، امریکی سفارت خانہ کسی کیس میں عدالتی کارروائی پر اثر انداز نہیں ہو سکتا ۔ تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ پرائیوسی کے مسائل کی وجہ سے وہ اس کیس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
دوسرئ جانب ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں امریکی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ جب امریکیوں کو بیرون ملک گرفتار کیا جاتا ہے تو سفارت خانہ ان کی خیریت معلوم کر سکتا ہے اور وکلاء کی فہرست فراہم کر سکتا ہے لیکن انہیں قانونی مشورے نہیں دے سکتا۔ یاد رہے کہ ظاہر جعفر کو اسلام آباد پولیس نے 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف سیون میں سابق پاکستانی سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نورمقدم کے قتل کے الزام میں اپنے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے قتل کے بعد مقتولہ کا سر کاٹ کر بدن سے جدا کر دیا تھا۔چند دن بعد پولیس نے اعانت جرم کے الزام میں ظاہر جعفر کے والدین کو بھی گرفتار کر لیا تھا، ملزم ظاہر جعفر کے والدین کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعات 109 اور 176 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 اعانت مجرمانہ سے متعلق ہے یعنی کوئی جرم سرزد ہونے میں ملزم کی معاونت کرنا جبکہ 176 جائے وقوعہ پر شہادتوں کو مسخ کرنے اور حقائق کو چھپانے سے متعلق ہے۔
اڈیالہ جیل حکام کے مطابق ابھی ظاہر جعفر کو جیل میں دس فٹ چوڑے اور دس فٹ لمبے کمرے میں دو دیگر قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے تاکہ وہ خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ اسے رات کو سونے کے لیے کمبل دیا جاتا ہے جبکہ ٹوتھ برش سمیت دیگر اشیا اس لیے نہیں فراہم کی جا رہیں کہ وہ ان سے خود کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ظاہر جعفر اور ان کے والدین کو عام قیدیوں کے ساتھ کھانا دیا جاتا ہے جس میں ہفتے میں چھ بار چکن کے علاوہ سبزی ، دال، روٹی اورچاول شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ مرکزی ملزم کی والدہ عصمت آدم جی نے جیل میں کینٹین کے کھانے اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل نے دونوں میاں بیوی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔ تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کا قتل کیا، تحقیقات میں مزید کردار سامنے آئے، ریکارڈ کے مطابق ملزم نے نور مقدم کو تشدد کا نشانہ بنایا، بہیمانہ قتل کیا اور سر دھڑ سے الگ کر دیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزم ذاکر جعفر قتل کی واردات کے دوران اپنے بیٹے سے مسلسل رابطے میں تھا، ملزمان ذاکر اور عصمت کو قتل میں شریک ثابت کرنے کے لیے ریکارڈ پر کافی مواد موجود ہے۔ ملزم اور اس کے والد کے درمیان کال ڈیٹیل ریکارڈ، والد ذاکر جعفر کو بھی قتل میں شریک مجرم ثابت کرتا ہے۔ عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ والدین قتل کی واردات کے وقت بیٹے سے مسلسل رابطے میں تھے، اور جان بوجھ کر پولیس کو بر وقت اطلاع نہ دے کر مرکزی ملزم کو قتل میں سہولت فراہم کی، جج کا کہنا تھا کہ وقوعہ کے بعد شواہد چھپانے کی بھی کوشش کی گئی، ایسا کوئی مواد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں کہ مدعی پارٹی اور ملزمان کے درمیان کوئی دشمنی تھی۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے اپنے شہری ظاہر جعفر کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی درخواست کے بعد بعد اس سفاک قاتل کو کون سی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں؟

Back to top button