نیب کےصوبائی وزیر سندھ سہیل سیال کی رہائشگاہوں پر چھاپے

نیب نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں سہیل انور سیال کی رہائشگاہ پر چھاپے مارے ہیں۔ چار گھنٹے تک صوبائی وزیر کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ حکام نے اہم دستاویزات تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا ہے. دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر آب پاشی، زکوٰۃ وعشر اور اوقاف سہیل انور سیال نے نیب کے دعوؤں کے مطابق کسی قسم کے دستاویزات برآمد ہونے کی سختی سے تردید کی ہے اور قومی احتساب بیورو کے لاڑکانہ میں ان کے گھر پر چھاپے کو اپنے ‘والد کی قبر’ کے خلاف ٹرائل قرار دے دیا۔
نیب حکام نے لاڑکانہ کے علاقے فرید آباد میں سہیل انور سیال کے بنگلے پر چھاپہ مارا، اس موقع پر نیب کے ہمراہ لیڈی پولیس اہلکار بھی موجود تھیں۔نیب حکام نے سہیل سیال کے بنگلے پر چھاپے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بنگلے کے اندرونی حصوں کی تلاشی لی گئی۔ نیب کے مطابق نیب سکھر نے لاڑکانہ میں سہیل انور سیال کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے جن میں پہلا چھاپا سیال ہاؤس لاڑکانہ سٹی، دوسرا انورپیلس گاؤں فرید آباد تحصیل باقرانی اور تیسرا چھاپا سیال پیلس گاؤں فرید آباد تحصیل باقرانی میں مارا گیا۔
نیب کے مطابق سہیل انور سیال کےقریبی ساتھی اسد کھرل کے گھرپربھی چھاپا ماراگیا اور چھاپوں کےدوران تمام رہائش گاہوں میں ایک ایک کمرےکی تلاشی لی گئی جب کہ تمام رہائش گاہوں سےاہم دستاویزات تحویل میں لی گئیں ہیں۔ نیب نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران رہائش گاہوں کی پیمائش بھی کی گئی جس میں سیال ہاؤس فرید آباد 4 ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور اس کا ایک حصہ سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیب ٹیم نے لاڑکانہ میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں صوبائی وزیر سہیل انور سیال کی دو رہائشگاہوں سمیت ان کے فرنٹ مین کے گھر پر چھاپہ مارا اور اہم دستاویزات حاصل کر لی ہیں۔نیب سکھر کی ٹیم نے پہلی کارروائی سہیل سیال کے آبائی گھر فرید آباد میں کی جہاں صوبائی وزیر موجود نہیں تھے۔ نیب ٹیم نے 4 گھنٹوں سے زائد گھر کی تلاشی لی۔نیب ذرائع کے مطابق انہیں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں اہم دستاویزی ثبوت کارروائی کے دوران مل گئے ہیں۔ نیب سکھر کی ٹیم نے سہیل انور سیال کے مبینہ فرنٹ مین اور باقرانی ٹی ایم اے کے ملازم اسد کھرل کی باقرانی روڈ کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا جہاں اسد کھرل موجود نہیں تھے، تاہم ان کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کی گئی۔نیب ذرائع کے مطابق اسد کھرل کے گھر سے بھی اہم دستاویزات مل گئی ہیں۔ نیب کی جانب سے تیسری کارروائی صوبائی وزیر سہیل انور سیال کی لاڑکانہ شہر میں واقع رہائش گاہ پر کی گئی جہاں نیب ٹیم نے سارے گھر کی تلاشی لی اور اہم دستاویزات ملنے کا دعویٰ بھی کیا۔ نیب کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری ان کے ساتھ موجود رہی جبکہ لیڈی پولیس اہلکار بھی نیب ٹیم کے ہمراہ گھروں کے اندر موجود رہیں۔
دوسری جانب سہیل انورسیال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس پر ہائیکورٹ سے ضمانت پر ہوں…جس گھر پر چھاپہ مارا گیا وہ والد کے نام پر ہے. یہ بےنامی جائیداد نہیں میرے والد کی ایف بی آر میں ڈکلیئرڈ جائیداد ہے۔صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ میرے والد کا انتقال 2018میں ہوا تھا، میرے والد زندہ نہیں ہیں،ان کی ڈکلیئرڈ پراپرٹی کوبےنامی ظاہرکیاجارہاہے، میرے پاس فی الحال کوئی تفصیل نہیں اسوقت میرپور خاص میں ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ نیب کی ٹیم نے آمد سے قبل کوئی نوٹس نہیں دیا، مجھے صرف اپنے گھر سے فون آیا ہے کی نیب کی ٹیم گھر پر موجود ہے. لاڑکانہ والے گھر سے دستاویزات ملنے کی خبر سراسر غلط ہے، نیب کو کوئی دستاویزات نہیں ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘نیب اب انتقامی حربے استعمال کررہا ہے’۔خیال رہے کہ سندھ کے صوبائی وزیر کو نیب میں آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے کا سامنا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نیب نے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ اپریل 2019 میں میرے خلاف انکوائری شروع کی گئی جبکہ والد صاحب کا انتقال اس سے قبل ہوچکا تھا۔ سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ نیب کی یہ کارروائی میرے والد کی قبر کا ٹرائل ہے، جس گھر پرچھاپہ مارا گیا وہ گھر ایف بی آر کے ریکارڈ میں ڈکلئیر کیاگیا تھا۔صوبائی وزیر کے آبائی گھر میں چھاپے سےمتعلق نیب نے کوئی بیان جاری نہیں کیا لیکن میڈیارپورٹس کے مطابق ایک ٹیم نے سہیل انور سیال کے گھر میں چھاپہ مارا اورکئی گھنٹوں تک تفتیش کی اور اہم دستاویزات قبضے میں لے لیں۔
یاد رہے کہ نیب سکھر نے گزشہ برس متعلہ اداروں اور محکموں سے سہیل انور سیال، ان کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کی تھی۔نیب ان کے خلاف مبینہ طور پر 5 کروڑ روپے کے صوبائی ترقیاتی فنڈ کے غلط استعمال پر انکوائری کررہا تھا۔بعد ازاں سہیل نور سیال نے سندھ ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری منظور کروالی تھی جبکہ اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ نیب سکھر نے سہیل انور سیال کو تحقیقات کے لیے طلب کیا تھا لیکن وہ نیب سکھر میں پیش ہونے کے بجائے سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئے اور عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کردی۔سندھ ہائی کورٹ نے نے سہیل انور سیال کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے عبوری ضمانت منظور کرلی تھی۔عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کردیا تھا اور ساتھ ہی سہیل انور سیال کو نیب سے تحقیقات میں تعاون کی ہدایت کی تھی اور صوبائی وزیر نے کہا تھا کہ نیب سے تعاون کے لیے تیار ہیں تاہم گرفتاری سے روکا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button