نیب کا پرویزالہٰی کیخلاف مزید شکنجہ کسنے کا فیصلہ

نیب نے صدر تحریک انصاف چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس الٰہی کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔نیب نے متعلقہ حکام سے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی جائیدادوں، گاڑیوں سمیت تمام اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔نیب نے پرویز الٰہی ، ان کی اہلیہ، مونس اور راسخ الٰہی کی پراپرٹیز کا ریکارڈ بھی مانگ لیا، پرویز الٰہی کی بیٹی اور بہوؤں کے اثاثوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔قومی احتساب بیورومونس الٰہی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری بھی شروع کرے گا۔
دوسری جانب اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی نے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ پرویزالہٰی نے نہ صرف جیل کے ڈاکٹر سے گالم گلوچ کی۔ بلکہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو بھی مغلظات سے نوازا۔ اڈیالہ جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل کے ڈاکٹر نے پرویز الٰہی کا طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں جیل سے باہر علاج کی غرض سے بھجوانے کا لکھا۔ جس پر پرویز الٰہی سیخ پا ہو گئے اور جیل کے ڈاکٹر پر برس پڑے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بالکل فٹ ہیں اور انہیں کسی صورت بھی جیل سے باہر نہیں جانا۔ انہیں یہ خوف تھا کہ انہیں جیل سے باہر بھجوا کر کسی ادارے کو دے دیا جائے گا۔
اڈیالہ جیل کے ذرائع نے اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ، 26 جولائی کی سہ پہر میں اڈیالہ جیل کے ڈاکٹر نے چوہدری پرویز الٰہی کا روٹین سے طبی معائینہ کیا اور انہیں ریکمنڈ کیا کہ وہ جیل سے باہر کسی بڑے سرکاری اسپتال میں ایک بار چیک اپ کے لیے جائیں اور اپنے تمام ٹیسٹ کرائیں۔ کیوں کہ ان کا شوگر لیول اور بلڈ پریشر کافی زیادہ تھا۔ جب کہ ان کی اسی سی جی بھی ٹھیک نہیں۔چوہدری پرویز الٰہی کو بتایا گیا کہ انہیں شام کو جیل سے باہر پمز یا بے نظیر اسپتال بھجوا دیا جائے گا۔ یہ سنتے ہیں پرویز الٰہی ہتھے سے اکھڑ گئے اور انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹر کو بلوا کر اس پر برس پڑے۔ پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ان کی طبعیت بالکل ٹھیک ہے اور وہ کسی صورت بھی جیل سے باہر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے سیکورٹی وارڈ میں ہنگامہ کھڑا کردیا۔ جیل کے کافی اہلکار اکھٹے ہوگئے۔
اس موقع پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اکرم نے آکر انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن انہوں نے اسے بھی بھگا دیا۔ جس کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل سے رابطہ کیا گیا اور انہیں بلوایا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے پہلے ڈاکٹر سے ملاقات کی اور اس کے بعد سیکورٹی وارڈ میں جاکر پرویز الٰہی سے گزارش کی کہ آپ کی صحت کے مسائل کے پیش نظر آپ کو کسی بڑے اسپتال بھجوانا ضروری ہے۔ لیکن پرویز الٰہی نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا کہ، تم مجھے جیل سے باہر بھجوا کر ایجنسیوں کے حوالے کرنا چاہتے ہو۔ اس پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ، جیل سے اس طرح کسی کو باہر نہیں بھجوایا جاسکتا۔ یہ تمام پروسیجر کاغذوں پر تحریر کر کے اور ایک ضابطے کے تحت ہوگا۔ اگر آپ کہتے ہیں تو ہم اس حوالے سے باقاعدہ عدالتوں سے درخواست کر سکتے ہیں کہ آپ کا جیل سے باہر بھجوانا ضروری ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ موجودہ جیل سپرنٹنڈنٹ چوہدری پرویزالٰہی کے وقت سے اس جیل میں تعینات ہیں اور ان کے آرڈر بھی چوہدری پرویز الٰہی کے سابقہ دور حکومت میں مونس الٰہی نے کرائے تھے۔ اب بھی پرویز الٰہی کے لیے تین وقت کا کھانا جیل سپرنٹنڈنٹ کے گھر سے لایا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک دن بھی جیل کے لنگر سے کھانا نہیں کھایا۔ اس کے باوجود پرویزالٰہی اپنے قریب سمجھے جانے والے جیل سپرنٹنڈنٹ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ تقریباً تین گھنٹے تک چوہدری پرویز الٰہی کی منت سماجت کی جاتی رہی کہ وہ جیل سے باہر بڑے اسپتال منتقل ہو جائیں۔ لیکن پرویز الٰہی کی ایک ہی رٹ تھی کہ وہ بالکل صحت مند ہیں اور جیل ڈاکٹر سے ہی علاج کرائیں گے۔
