نیب کے لیے اثاثے ڈھونڈنے والی فرم نیب ہی کے گلے پڑ گئی

ماضی میں نیب کے لیے بیرون ملک پاکستانی سیاستدانوں کے خفیہ اثاثے ڈھونڈنے والی کمپنی براڈ شیٹ الٹا قومی احتساب بیورو کے گلے پڑ چکی ہے اور اب اسی سے جرمانے پر جرمانہ وصول کئے چلے جا رہی ہے۔
خفیہ اثاثے تلاش کرنے والی امریکی کمپنی براڈشیٹ ایل ایل سی نے قومی احتساب بیورو کے وکلا کو ایک خط میں یونائیٹیڈ بینک کی لندن برانچ سے 29 ملین ڈالرز بطور جرمانہ وصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے نیب سے مزید 2.1 ملین ڈالرز طلب کرلئے ہیں۔ نیب کے پاکستانی وکلا کی کمپنی Allen & Overy کو بھیجے گئے خط کی ایک کاپی یونائیٹیڈ بینک کی لندن برانچ کو بھی بھیجی گئی ہے جس میں براڈ شیٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے ایک برطانوی عدالت کے 17 دسمبر 2020 کے احکامات کے مطابق حکومت پاکستان سے 29 ملین ڈالرز وصول کرلئے ہیں۔
لندن میں مقیم سینئر پاکستانی صحافی مرتضی علی شاہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق.براڈ شیٹ کے خط کے مطابق اس ادائیگی سے برطانوی عدالت کے احکامات کی جزوی طورپر تکمیل ہوگئی ہے لیکن انہی احکامات کے پیراگراف 3 کے مطابق 1,180,799.66 ڈالرز سود کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔ خط میں مذید لکھا گیا یے کہ اس کے علاوہ عدالت نے ہمارے موکل کے حق میں 30,000 پونڈ جو کہ40,677 ڈالر کے مساوی ہوتے ہیں، اخراجات کی ادائیگی کا بھی حکم دیا ہے جو کہ priority of the Judgment Debts کے علاوہ ہے اور یومیہ بنیادوں پر سود کو ملا کر یکم جنوری 2021 تک یہ رقم مجموعی طورپر 1,221,476.66 بنتی ہے۔ خط میں لکھا گیا یے کہ ہمارے موکل نے برطانوی عدالت کے سرسری تخمینے کے علاوہ بھی اضافی اخراجات کئے ہیں جو کہ 900,000 ڈالر سے زیادہ ہیں اور اس کابنیادی سبب آپ کے موکل کا 17 دسمبر 2020 سے قبل عدالت اور ہمارے ساتھ رابطہ نہ کیاجانا ہے۔
براڈ شیٹ کے وکلا نے نیب کے وکلا کو لکھاہے کہ آپ کے موکل نے تمام واجبات ادا کرنے پر رضامندی کااظہار کیاتھا لہٰذا برائے مہربانی اس بات کی تصدیق کریں کہ آپ کاموکل ہمارے موکل کو بلاتاخیر 2,100,000 ڈالرز مذید ادا کرے گا۔ براڈشیٹ نے نیب کو تصفیے کی شرائط طے کرنے کی بھی دعوت دی ہے جس کا اطلاق Tomlin آرڈر کے تحت ہوگا جس کے مطابق آپ کا موکل ہمارے موکل کو فیصلے کے تحت عائد ہونے والے تمام اخراجات 14 دن کے اندر یعنی 8 جنوری2021 تک ادا کرنے کاپابند ہے۔
مرتضی علی شاہ کی رپورٹ کے مطابق نیب کو براڈشیٹ کمپنی کے وکلا کا یہ خط مل گیا ہے اور اس پر غور کیاجارہا ہے۔ یاد ریے کہ یوبی ایل لندن برانچ نے نیب کے کیس ہارنے کے 10 دن کے اندر براڈشیٹ کے اکائونٹ میں 29ملین ڈالر منتقل کردئے تھے۔
خیال رہے کہ ایک برطانوی عدالت نے حکومت پاکستان اور نیب کو اثاثے ڈھونڈنے والی امریکی کمپنی کے ساتھ یکطرفہ طور پر اچانک پاکستانی سیاستدانوں کے اثاثے ڈھونڈنے کا معاہدہ ختم کرنے کی بنا پر بھاری جرمانہ عائد کیا تھا۔ برطانوی عدالت کے حکم کے مطابق لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے یونائیٹڈ بینک اکاؤنٹ سے جرمانے کی رقم ادا کر دی گئی ہے لیکن ابھی سود کی رقم اور خرچے کے اخراجات کی وصولی باقی ہے۔
براڈ شیٹ کا موقف رد کرتے ہوئے برطانوی عدالت نے ایک علیحدہ حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ شریف فیملی کے لندن کے فلیٹ اس مقدمے میں اٹیچ نہیں کئے جاسکتے۔ اس سے پہلے نیب کے مشورے پر براڈشیٹ کمپنی نے برطانوی عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ شریف خاندان کے لندن کے فلیٹس کو اٹیچ کرکے اسے وہ رقم ادا کر دی جائے جو نیب نے اسے دینی ہے۔ برطانوی عدالت کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں ایک احتساب عدالت نے شریف خاندان کی لندن کی تمام جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم برطانوی عدالت نے پراڈکٹ کا یہ موقف مسترد کر دیا اور حکومت پاکستان کو یہ جرمانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔ یاد رہے کہ نیب کو برطانوی عدالت کے حکم کے مطابق تقریبا ساڑھے سات ارب روپے جرمانہ کیا گیا جو کہ پاکستانی عوام کی جیبوں سے ادا کرنا پڑے گا۔
دوسری طرف نیب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیاہے کہ حکومت پاکستان نے لندن کی فرم کے ساتھ نیب کے ذریعے ملزمان کے غیر ملکی اثاثوں کا پتہ چلانے کیلئے 20 جون 2000 کو ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کی سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے منظوری دی تھی۔ نیب کی نااہلی کی وجہ سے اربوں روپے کے جرمانے کی ادائیگی پر قومی احتساب بیورو کے اعلی حکام شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں اور لوگوں کا کہنا ہے کہ نیب نے آج دن تک اتنی رقم ریکوری
نہیں کی جتنی ایک عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان کو جرمانے کے طور پر ادا کرنا پڑ گئی یے۔
