نیوزی لینڈ ٹیم نے پچھلا دورہ ادھورا کیوں چھوڑا تھا؟

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکورٹی خدشات کے باعث 17 ستمبر 2021 کو پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 19 سال پہلے بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کراچی میں اپنے ہوٹل کے سامنے فرانسیسی انجنیئرز کی بس پر ہونے والے دھماکے سے خوفزدہ ہوکر پاکستان کا دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس چلی گئی تھی۔ 8 مئی 2002 کی صبح کراچی کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے نیوزی لینڈ کے کرکٹرز کو سٹیڈیم لے جانے والی بس تیار کھڑی تھی کہ اچانک ان کے ہوٹل کے سامنے ہی واقع شیریٹن ہوٹل کی سڑک پر زور دار دھماکہ ہوا۔ یہ ایک کار بم دھماکہ تھا جس کا ہدف فرانسیسی انجینئرز تھےجو شیریٹن ہوٹل سے نکل کر اپنی بس میں سوار ہوئے تھے۔ یہ فرانسیسی انجنئیر آگسٹا آبدوز کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان آئے ہوئے تھے اور اس دھماکے کے نتیجے میں گیارہ فرانسیسی انجینئرز سمیت سترہ افراد لقمہ اجل بنے۔
دھماکے کے بعد نیوزی لینڈ کے کرکٹرز خوف کے عالم میں ہوٹل کے سوئمنگ پول کے سامنے جا بیٹھے اور پھر آئی سی سی میچ ریفری مائیک پراکٹر، پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر بریگیڈئر ریٹائرڈ منور رانا اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کے منیجر جیف کروو نے ہنگامی طور پر طلب کردہ پریس کانفرنس میں یہ دورہ ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا تھا ۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے کرکٹرز کے لیے یہ ایک خوفناک صورتحال تھی اور وہ آج بھی یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے لرز جاتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی اس ٹیم میں اوپنر مارک رچرڈسن بھی شامل تھے۔ رچرڈسن بتاتے ہیں کہ ان کی بس پانچ منٹ بعد سٹیڈیم کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔’اگر یہ دھماکہ پانچ منٹ بعد ہوتا تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہم بھی براہ راست اس کی زد میں آجاتے۔ مارک رچرڈسن کہتے ہیں: ‘میں اپنے کمرے میں تھا اور نیچے جانے کے لیے تیار تھا کہ یہ دھماکہ ہوا اور شیشے کا دروازہ نیچے آ گرا۔ خوش قسمتی سے میں محفوظ رہا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق ڈائریکٹر بریگیڈئر منور رانا کہتے ہیں اس واقعے کے بعد ہمیں مغربی ذرائع ابلاغ اور آئی سی سی میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا حالانکہ بورڈ نے سکیورٹی کے انتظامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور وہ خود اس کی نگرانی کر رہے تھے۔ ‘مجھے یاد ہے کہ اس واقعے کے فوراً بعد میں نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو مارٹن سنیڈن سے فون پر بات کی تھی اور انھیں بتایا تھا کہ اس واقعے کا کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، کوئی اور اس حملے کا ہدف تھا۔ لیکن میں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ یہ واقعہ اتنا بڑا ہے اور تمام کرکٹرز کے سامنے ہوا ہے لہٰذا اگر اپ اس دورے کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ منور رانا اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں کہ اس واقعے کے کچھ دیر بعد ہی آئی سی سی میچ ریفری مائیک پراکٹر نے پریس کانفرنس کر کے دورہ ختم کرنے کا اعلان کرنے میں جلد بازی کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ٹیمیں نیشنل سٹیڈیم پہنچ جاتیں اور ٹاس ہونے کے بعد میچ شروع ہو جاتا اور پیچھے یہ واقعہ ہوا ہوتا تو پھر شاید نیوزی لینڈ والوں کو یہ یقین دہانی کرانی آسان ہوتی کہ وہ محفوظ ہیں۔’لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کے باوجود نیوزی لینڈ والے کھیلنے کے لیے تیار نہ ہوتے کیونکہ اس واقعے کا بہت گہرا اثر ہوا تھا۔’
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اگرچہ خوش قسمتی سے کبھی بھی براہ راست کسی بھی دہشت گرد حملے کا نشانہ نہیں بنی لیکن ساتھ ہی قسمت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی نظروں کے سامنے ہونے والے اس قسم کے واقعات کی وجہ سے ان کی کرکٹ ضرور متاثر ہوئی ہے۔ کراچی کے واقعے سے پہلے 1987 میں بھی انھیں سری لنکا کا دورہ اس وقت ادھورا چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا تھا جب دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل کولمبو میں ٹیم ہوٹل کے قریب بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور نیوزی لینڈ ٹیم کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا کہ وہ فوری طور پر وطن واپس لوٹ جائے۔ اس واقعے کے بعد سری لنکا پانچ سال تک کسی بین الاقوامی میچ کی میزبانی نہیں کر سکا تھا اور جب 1992 میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوئی تو نیوزی لینڈ ہی وہ ٹیم تھی جس نے سری لنکا کا دورہ کیا۔ لیکن بد قسمتی سے دورے میں بھی دہشت گردی کا ایک اور واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں اگرچہ نیوزی لینڈ ٹیم کا دورہ جاری رہا لیکن اس کے پانچ کھلاڑیوں نے دورہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا اور وطن واپس چلے گئے۔ ستمبر 2001 میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے پاکستان کے دورے پر روانہ ہوئی تھی اور ابھی وہ سنگاپور پہنچی تھی کہ نائن الیون کا واقعہ پیش آ گیا جس کے نتیجے میں یہ دورہ ختم کر دیا گیا اور ٹیم وہیں سے وطن واپس لوٹ گئی۔ نیوزی لینڈ کرکٹ حکام کو نائن الیون کے واقعے کے پیش نظر خاص طور پر پشاور میں کھیلنے پر سخت تحفظات تھے جہاں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا جانا تھا۔
