مکہ معاہدہ ،سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں، اقوام متحدہ چارٹر بھی اس طرح کے اتحاد کو کارروائی کی اجازت دیتا ہے، نیٹو بھی اسی طرز پر کام کر رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے کہا کہ دستاویز بھی کہتی ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے افینسیو نیچر کا نہیں، 6 سے زائد ممالک اس میں شمولیت کا خواہشمند ہیں۔
امریکا ایران کشیدگی پر انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر پزشکیان اور عراقچی دونوں کی خواہش ہے کہ کسی طرح یہ معاملہ ختم ہو، اس میں فریقین کی کوشش ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کریں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم افغانستان کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں، ہمارا کابل سے صرف یہ مطالبہ ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کےخلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ انہیں دکھانا ہوگا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان کیخلاف کاروائی کی گئی ہے، اکتوبر سے ہماری سرحدیں بند ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ فصلیں تباہ ہوئی ہیں، ہم یہ کہتے ہیں کہ ورلڈ وار کے بعد بھی آپ کو بیٹھنا پڑا۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا جو حرمین شریفین کے لیے جان قربان کرنے کو تیار نہ ہو، اگلےہفتے مکہ معاہدے کے تحت ایمرجنسی میٹنگ ہوگی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سعودی عرب میں جوحالات ہیں وہ ایمرجنسی میٹنگ میں زیر غور ہوں گے، سعودی عرب پر 17 سے 18 حملے ہو چکے ہیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں، اقوام متحدہ چارٹر بھی اس طرح کے اتحاد کو کارروائی کی اجازت دیتا ہے، نیٹو بھی اسی طرز پر کام کر رہی ہے۔
