پی ٹی آئی کا اپنا لانگ مارچ کئی روز تک لٹکانے کا منصوبہ

 

 

 

حکومتی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے رابطے میں آنے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ منسوخ کرنے کا امکان تو ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن اگر پھر بھی مارچ کرنے کا حتمی فیصلہ ہوتا ہے تو قیادت نے احتجاجی قافلے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا ہے۔ منصوبے کے مطابق پارٹی قیادت چار اکتوبر کو اسلام آباد نہیں پہنچنا چاہتی بلکہ مختلف قافلوں کی صورت میں ایک مقام پر اکٹھے ہو کر اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

 

تاہم تحریک انصاف کی لیڈرشپ کے لیے اصل امتحان نہ صرف کارکنوں کو سڑکوں پر لانے کا ہے بلکہ انہیں کئی روز تک منظم رکھنے، مختلف مقامات پر قیام و طعام کے ساتھ ٹھہرانے، قافلوں کے درمیان رابطہ رکھنے اور بالآخر پنجاب میں داخل ہونے کا راستہ تلاش کرنے کا ہو گا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کی احتجاجی کال مؤخر کرکے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ مقرر کی تھی، تاہم اب پارٹی کے اندر دوبارہ اس احتجاج پر نظرثانی کی آوازیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے اطلاعات سیکریٹری شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو خط لکھ کر سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ ایمرجنسی کے خدشے کے پیش نظر مارچ مزید مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کا مارچ برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

 

اس دوران پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بتایا ہے کہ ان کے حکومت کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات چل رہے ہیں اور رانا ثنا اللہ خان نے ان کی تصدیق کی ہے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی مشاورتی عمل کے بعد اگر مارچ برقرار رہتا ہے تو ابتدائی روٹ جنوبی خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے شروع کرنے کی تجویز ہے، جہاں سے مرکزی قافلہ لکی مروت، بنوں، کرک اور کوہاٹ سے ہوتا ہوا پشاور پہنچ سکتا ہے۔ اس دوران شمالی و جنوبی وزیرستان، کرم، اورکزئی اور ہنگو سے آنے والے قافلوں کو بھی مرکزی مارچ میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی زیر غور ہے، جبکہ کوہاٹ ٹنل کے راستے پشاور پہنچنے کے بعد خیبر اور مہمند کے قافلے بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس مرحلے کو تقریباً دو روز میں مکمل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

 

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور پہنچنے کے بعد اسلام آباد کی طرف روانگی کا ابھی کوئی پلان نہیں بلکہ مارچ کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق قافلہ پشاور سے نوشہرہ اور پھر خیرآباد کی طرف بڑھ سکتا ہے، جہاں عارضی قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ خیرآباد اس اعتبار سے اہم مقام بن جاتا ہے کہ یہاں دریائے سندھ کے دوسری جانب اٹک اور اس کے بعد پنجاب کی حدود شروع ہوتی ہیں، چنانچہ یہی وہ مقام ہو سکتا ہے جہاں پارٹی قیادت پنجاب میں داخلے اور اسلام آباد کی جانب اگلے مرحلے کے بارے میں حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لے۔

 

اس کے بعد جہانگیرہ کے راستے صوابی پہنچنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جہاں موٹروے ٹول پلازہ کے قریب عارضی خیمہ بستی قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق صوابی کو محض عبوری پڑاؤ کے بجائے ممکنہ طور پر کئی روز کے قیام کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور پارٹی کے اندر پانچ سے چھ روز تک یہاں کارکنوں کو ٹھہرانے اور اس دوران پنجاب میں داخلے کے لیے حالات کا جائزہ لینے کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی مارچ کے پہلے مرحلے میں صوابی پہنچنے اور اس کے بعد آگے بڑھنے کا عندیہ دیا ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہی مرحلہ 4 اکتوبر کے احتجاج کا اصل عملی امتحان بن سکتا ہے کیونکہ ہزاروں کارکنوں کو ایک روز کے بجائے کئی روز تک کسی مقام پر منظم رکھنا ایک بالکل مختلف نوعیت کا انتظامی چیلنج ہوگا۔ صوابی میں طویل قیام کی صورت میں کارکنوں کے لیے خوراک، پانی، رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولت اور سکیورٹی کے مسلسل انتظامات کرنا ہوں گے جبکہ مختلف اضلاع سے آنے والے قافلوں کے درمیان رابطہ اور قیادت کا نظام بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ چنانچہ مارچ کی قوت کا اندازہ صرف پہلے روز سڑکوں پر موجود کارکنوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہوگا کہ پارٹی انہیں کتنے عرصے تک منظم انداز میں برقرار رکھ پاتی ہے۔

 

پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے ایک مرکزی کیمپ کے بجائے مختلف مقامات پر متعدد خیمہ بستیاں قائم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ ابتدائی منصوبے میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے چشمہ، لکی مروت میں میانوالی کے قریب، کوہاٹ میں شکردرہ، نوشہرہ میں خیرآباد اور صوابی میں موٹروے ٹول پلازہ کے قریب کیمپ قائم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد مختلف علاقوں سے آنے والے کارکنوں کو مرحلہ وار منظم رکھنا اور احتجاج کو کسی ایک مقام تک محدود نہ کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم اس صورت میں ہر کیمپ کے لیے الگ انتظامی، مالی اور افرادی وسائل درکار ہوں گے۔

مارچ کے پورے منصوبے میں سب سے پیچیدہ مرحلہ پنجاب میں داخلے کا دکھائی دیتا ہے۔ پارٹی قیادت کو خدشہ ہے کہ بڑی گاڑیوں، بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کو پنجاب میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے، اسی لیے موٹرسائیکلوں سمیت مختلف ذرائع آمدورفت استعمال کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

 

ادھر وفاقی دارالحکومت کی جانب جانے والے راستوں، خصوصاً اٹک اور دیگر داخلی مقامات پر انتظامی رکاوٹیں موجود ہیں اور احتجاجی مظاہرین کو اسلام اباد میں گھسنے سے روکنا اصل ٹاسک ہے۔ اگر پنجاب کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں برقرار رہتی ہیں تو صوابی کے بعد پی ٹی آئی کا حتمی لائحہ عمل کیا ہوگا، یہ سوال ابھی جواب طلب ہے۔ ایسی صورت میں کیا کارکن کئی روز تک صوابی میں قیام جاری رکھیں گے، کیا مختلف قافلوں کو دوسرے راستوں سے آگے بڑھانے کی کوشش ہوگی یا سیاسی رابطوں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گا، اس بارے میں پارٹی قیادت نے ابھی کوئی حتمی منصوبہ سامنے نہیں رکھا۔ اسی دوران وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے، اگرچہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے بنیادی نکات پر اختلاف برقرار ہے۔

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ میں براہ راست موجود رہنے کا فیصلہ بھی اس منصوبے کا اہم پہلو ہے۔ انہوں نے 4 اکتوبر کے مارچ کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کارکنوں کے ساتھ ہوں گے اور مارچ پشاور سے صوابی اور پھر آگے بڑھے گا۔ انکی موجودگی مارچ کو براہ راست سیاسی قیادت فراہم کر سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی موجود رہے گا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی کئی روزہ احتجاجی سرگرمی میں موجودگی کے دوران صوبائی حکومت کے روزمرہ انتظامی اور حکومتی امور کس انداز میں چلائے جائیں گے۔

 

یوں 4 اکتوبر کا اصل سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف کتنے کارکنوں کو ڈیرہ اسماعیل خان سے پشاور، نوشہرہ اور صوابی تک لانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا پارٹی اس پورے سفر کو منظم انداز میں مکمل کر پاتی ہے، صوابی میں کئی روز تک کارکنوں کے قیام کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم کر سکتی ہے، مختلف قافلوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھ سکتی ہے اور پنجاب میں داخلے کی صورت میں کوئی قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کر پاتی ہے یا نہیں۔

پی ٹی آئی اور حکومت کی 7خفیہ ملاقاتیں، اصل سہولتکار کون تھا؟

اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان سے صوابی تک ابتدائی خاکہ نسبتاً واضح ہے، مگر صوابی کے بعد کا مرحلہ بدستور فیصلہ طلب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر احتجاج برقرار رہتا ہے تو اس کی اصل نوعیت کا تعین پہلے دن کے اجتماع سے زیادہ اس کے بعد کے تنظیمی انتظام، سیاسی رابطوں، قیام و طعام اور پنجاب میں داخلے کی صورت حال سے ہوگا۔

Back to top button