انڈیا کو پاکستان کے ہاتھوں دوبارہ منہ کی کھانی پڑ گئی

بھارت کو تب ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ہاتھوں منہ کی کھانی پڑ گئی جب اس کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن پوری دنیا کے سامنے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہو گیا۔ انڈیا کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک پاکستانی شہری اور سابق فوجی محمد آصف کو لشکرِ طیبہ کا کمانڈر قرار دے کر مارنے کا دعویٰ تب سفید جھوٹ ثابت ہوا جب پاک فوج کے ترجمان نے مارے جانے والے شخص کو زندہ حالت میں میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔
یاد رہے کہ بھارتی میڈیا نے محمد آصف کو لشکر طیبہ کا مقتول کمانڈر قرار دے کر اس کا پاکستانی شناختی کارڈ ثبوت کے طور پر دکھایا تھا۔ یوں بھارتی فوج اور میڈیا کی جانب سے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے بارے میں کیے گئے دعوے سراسر بے بنیاد نکلے۔
سرینگر میں تعینات بھارتی فوج کی چنار کور نے دعویٰ کیا تھا کہ 29 ستمبر کی رات بڈگام کے علاقے یوس مرگ کے قریب کوراگ اور پال میدان کے جنگلات میں ایک مشترکہ آپریشن کے دوران لشکرِ طیبہ کے ایک انتہائی مطلوب کمانڈر کو ماردیا گیا، جس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر کی گئی۔ بھارتی حکام کے مطابق کارروائی میں فوج، جموں و کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستے شریک تھے جبکہ مقابلے کے بعد مبینہ عسکریت پسند کی لاش اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔
بھارتی فوج کے دعوے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے محمد آصف کو پاکستانی فوج کے سابق ایس ایس جی کمانڈو کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا اور انکا سروس ریکارڈ، شناختی دستاویزات اور ذاتی کوائف بھی نشر کر دیے۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے دعویٰ کیا کہ محمد آصف 2000 میں پاک فوج میں بھرتی ہوئے، بعد ازاں ایس ایس جی میں شامل ہوئے اور 2023 میں حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، جبکہ انہیں مقبوضہ کشمیر میں کئی بڑے حملوں سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔
بھارتی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا کہ ہاشم موسیٰ اپریل 2025 کے پہلگام حملے سمیت کئی اہم حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے اور ان کا تعلق مئی 2024 میں پونچھ میں بھارتی فضائیہ کے قافلے پر حملے سمیت دہشت گردی کے کئی واقعات سے تھا۔ بھارتی سرکاری اداروں اور وزارت داخلہ کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے دعووں کو آگے بڑھایا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ بھارتی ریاستی ادارے ایک مربوط بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔
تاہم پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات نے ان دعووں کے بنیادی حصے یعنی مقتول کی شناخت پر ہی سوال کھڑے کر دیے۔ اس صورت حال نے تب ڈرامائی رخ اختیار کیا جب یکم اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بھارتی فوج اور میڈیا کی جانب سے محمد آصف کے حوالے سے پیش کیے گئے دعووں اور شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے ایک شخص کو صحافیوں کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ یہی وہ آصف ہیں جنہیں بھارتی میڈیا نے کشمیر میں مرا ہوا قرار دیا ہے۔ اسکے بعد آصف نے خود میڈیا کو بتایا کہ وہ اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کے رہائشی ہیں اور بھارتی دعووں کے برعکس زندہ ہیں۔
آصف کے مطابق بھارتی میڈیا پر اپنی موت کی خبر دیکھ کر ان کے جاننے والوں نے انہیں فون کرکے دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں، بعد ازاں انہیں بھارت سے بھی کئی نامعلوم نمبروں سے فون آنے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یہ معاملہ اپنی سابق یونٹ کے علم میں لائے، جس کے بعد آئی ایس پی آر نے ان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس وقت اپنے گھر پر موجود تھے جبکہ بھارتی میڈیا انہیں کشمیر میں مارے جانے کی خبر نشر کر رہا تھا۔ آصف نے بتایا کہ وہ 2000 میں پاک فوج میں شامل ہوئے، بعد ازاں سپیشل سروسز گروپ میں خدمات انجام دیں اور 2023 میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں ملازمت کی اور اس وقت اپنے خاندان کے ساتھ اٹک میں مقیم ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارتی میڈیا میں نشر کیے جانے والے شناختی کارڈ میں بھی محمد آصف کا پتہ پنڈی گھیب، ضلع اٹک درج بتایا گیا تھا، جس سے بھارتی دعوے کے ایک اہم حصے پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی کارروائی کو ایک اور فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج، حکومت اور میڈیا نے محمد آصف کے حوالے سے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس کی بنیاد ایک ایسے شخص کی شناخت پر تھی جو پاکستان میں زندہ موجود ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بھارتی میڈیا کی رپورٹس، سرکاری بیانات اور محمد آصف کے مبینہ سروس ریکارڈ کو یکجا کرکے پیش کیا اور کہا کہ اس واقعے سے بھارتی دعووں کی ساکھ صفر ہو گئی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے اس موقع پر بھارت پر پاکستان کے خلاف فالس فلیگ کارروائیوں اور شدت پسندی سے متعلق بیانیے تشکیل دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت اپنے موقف کو تقویت دینے کے لیے میڈیا کے ذریعے مخصوص کہانیاں آگے بڑھاتی ہے۔
محمد آصف کو زندہ حالت میں میڈیا کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد سب سے اہم سوال یہ بن گیا ہے کہ اگر بھارتی فوج کا دعویٰ کردہ مقتول شخص واقعی وہی سابق فوجی تھا جس کا نام، شناختی دستاویز اور سروس ریکارڈ بھارتی میڈیا نے نشر کیا، تو پھر وہ پاکستان میں زندہ کیسے موجود ہے؟
