حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں کیا کچھ ہوا؟ اجلاس کے دوران کن معاملات پر اختلافات سامنے آئے اور عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کیسے زیر بحث آیا؟ مذاکرات کی اندرونی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوتے ہی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ پیش کردی۔
محسن نقوی نے صوبے میں ٹی ٹی پی کے حملوں اور امن و امان کی خراب صورت حال کو خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
ذرائع کےمطابق علامہ ناصر عباس نے خیبرپختونخوا حکومت اور سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ کو مکمل طور مسترد کرتےہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں،آپ مذاکرات کو دہشت گردی سے جوڑ رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایاکہ علامہ ناصر عباس نے کہاکہ آپ کے ادارے ارکان اسمبلی کو گرفتار کر رہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟آپ اپنی قیادت کی اجازت کےبغیر کچھ نہیں کرسکتے لیکن عمران خان سے ملاقات کےبغیر پی ٹی آئی رہنماؤں سے فیصلوں کی توقع کیوں کی جاتی ہے۔
ذرائع کےمطابق علامہ ناصر عباس نے کہاکہ مسائل کا حل تب نکل سکتا ہےجب محمود خان اچکزئی اور میری ملاقات عمران خان سے ہوگی، اس پر پیپلز پارٹی کی شیری رحمان نے کہاکہ اس کی کیا گارنٹی کہ ملاقات کرلیں تو مسائل حل کرلیں گے، اس پر ناصر عباس نے کہاکہ ہم اس کی ذمہ داری لیتےہیں جب ہماری عمران خان سے ملاقات ہوگی تو حالات بہتر ہوں گے،جب تک ملاقات نہیں ہوتی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ پہلے سیشن میں محسن نقوی،علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے بات کی،بیرسٹرگوہر نے محمود اچکزئی کے بتائےنکات کو حکومتی ٹیم کے سامنے رکھا۔
