حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات کا پہلا روزبغیرنتیجہ ختم،کل دوسرا دور ہوگا

سیاسی معاملات کو بات چیت سے حل کے لیے اپوزیشن اور حکومتی وفد کی بیٹھک سپیکر چیمبر میں ہوئی تاہم پہلے روز فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور کل دوبارہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اپوزیشن وفد کا سپیکر چیمبر پہنچنے پر سردار ایاز صادق نے استقبال کیا، اپوزیشن کی جانب سے علامہ راجا ناصر عباس، بیرسٹرگوہر، اسد قیصر،عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجا شریک ہوئے۔

حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، شیری رحمان، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری شامل تھے۔ اس کے علاوہ اعجاز جاکھرانی، نوید قمر، رانا ثناء اللہ اور امیر مقام بھی حکومتی وفد کا حصہ تھے۔

ذرائع کا بتانا ہے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم کا مؤقف تھا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے، آپ لانگ مارچ کریں دھمکیاں دیں، اڈیالہ پر حملے کا کہیں تو یہ درست نہیں، لچک کا مظاہرہ صرف حکومت نے نہیں اپوزیشن نے بھی کرنا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ مذاکرات میں کئی بار تحریک انصاف اور حکومتی ٹیم میں گرما گرمی ہوئی جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تر خاموش رہے۔

اسپیکر کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے مذاکرات میں ماحول کشیدہ ہوگیا، عدالتی معاملات پر رانا ثناءاللہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی اور حکومتی اقدامات پر تنقید کی۔ رانا ثناءاللہ بولے عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں، لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل کرائیں گے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے فریقین پر افہام و تفہیم سے آگے بڑھنے پر زور دیا اور دونوں فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے وفد کے درمیان پہلے روز کے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیرہو گئے ہیں اور فریقین نے کل دوپہر دوبارہ بیٹھک لگانے پر اتفاق کیا ہے۔

 

Back to top button