انمول عرف پنکی منشیات کے کیسز سے بری کیوں ہونے لگی؟

کچھ عرصہ پہلے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی انمول عرف کوکین کوئین پنکی ایک ایک کرکے اپنے خلاف درج منشیات فروشی کے مقدمات سے بری ہو رہی ہے، یوں بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر صاف بچ نکلے گی۔

پنکی کے خلاف درج کیسز کراچی کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور پراسیکیوشن نے اس کی بریت کے فیصلوں کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج  کرنا شروع کر دیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول پنکی کے خلاف مجموعی طور پر 21 مقدمات درج کیے گئے، جن میں 19 منشیات سے متعلق دفعات کے تحت ہیں، جبکہ ایک مقدمہ قتل اور ایک غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا۔ یہ مقدمات 2019 سے 2026 کے دوران کراچی کے مختلف تھانوں میں درج ہوئے اور گرفتاری کے بعد پولیس نے ان مقدمات میں اس کی باقاعدہ گرفتاری بھی ظاہر کی۔

انمول پنکی کے خلاف درج 21 مقدمات میں سے 14 کے چالان پولیس پہلے ہی عدالتوں میں پیش کر چکی ہے، جنہیں عدالتوں کی جانب سے منظور کیے جانے کے بعد ٹرائل کے لیے سیشن عدالتوں کو منتقل کردیا گیا۔ ان مقدمات میں زیادہ تر منشیات کے کیسز شامل ہیں جبکہ قتل بالسبب کا مقدمہ بھی انہی مقدمات میں شامل ہے۔ دوسری جانب چار مقدمات کی تفتیش مکمل ہونے کے باوجود ان کے چالان تاحال عدالتوں میں جمع نہیں کرائے جاسکے، جس پر عدالتوں نے تفتیشی حکام کو آئندہ سماعتوں پر چالان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پولیس کے مطابق ان چار مقدمات میں بعض کیسز 2019، 2021 اور 2025 کے ہیں اور ان کا تعلق بوٹ بیسن، گزری اور دیگر تھانوں سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں انمول پنکی گرفتاری کے وقت مفرور تھی، تاہم بعد ازاں گرفتاری کے بعد اسے ان کیسز میں بھی شامل تفتیش کیا گیا۔ پولیس کے مطابق کیمیکل رپورٹس اور دیگر شواہد مکمل ہونے کے باوجود چالان پیش نہ ہونے پر عدالتوں نے تفتیشی حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعتوں پر پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

کراچی پولیس کی جانب سے عدالتوں میں جمع کرائے گئے چالان میں انمول پنکی پر منشیات کی تیاری اور مختلف شہروں میں رائیڈرز کے ذریعے فروخت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تفتیش کے دوران اس کی نشاندہی پر منشیات برآمد ہوئیں اور اس کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پولیس کے مطابق اس کے پاس سے 850 صارفین کی فہرست بھی برآمد ہوئی۔ تاہم یہ تمام الزامات ابھی عدالتی جانچ کے مرحلے میں ہیں اور پولیس چالان میں کسی ملزم کو قصوروار قرار دینا حتمی طور پر جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔

انمول پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج مقدمہ بھی تفتیش کے دوران ایک مختلف رخ اختیار کرگیا۔ پولیس کے مطابق ایک شخص کی لاش ملنے کے تقریباً ایک ماہ بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم بعد میں کیمیکل رپورٹ سامنے آنے پر قتل کی دفعہ ختم کردی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق متوفی کی موت نشہ آور مواد کے استعمال کے باعث ہوئی تھی، جبکہ متوفی کی شناخت بھی نہیں ہوسکی اور ڈی این اے ٹیسٹ بھی ممکن نہیں تھا، جس کے بعد انمول پنکی کے خلاف قتل کے بجائے قتل بالسبب کی دفعہ کے تحت کارروائی جاری رکھی گئی۔ انمول پنکی کے علاوہ ان مقدمات میں اس کے بھائی کامران اور سہولت کار سہیل، ذیشان سمیر، ناصر، فہد، عمر اور اویس بیگ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق چھ مبینہ سہولت کار تاحال گرفتار نہیں ہوسکے، جن میں فیاض، حمزہ، اعزاز، زید جبکہ دو خواتین صابرہ اور اینا شامل ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ان افراد کی گرفتاری سے تفتیش میں مزید شواہد سامنے آسکتے ہیں اور ان کے کردار کا تعین بھی کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب انمول پنکی کو گزری تھانے میں درج منشیات کے تین مقدمات میں عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا جاچکا ہے۔ انمول پنکی کی جانب سے دائر بریت کی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان مقدمات میں نامزد شریک ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے ہیں اور استغاثہ اس کے خلاف مقدمات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسے صرف شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا۔ عدالت نے تینوں مقدمات میں اسکی بریت کی درخواستیں منظور کرلیں، تاہم پراسیکیوشن نے ان فیصلوں کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

انمول پنکی کو گرفتاری کے بعد پولیس نے نو روزہ جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں رکھا تھا، جس کے بعد 2 مئی 2026 کو اسے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ تاحال جیل میں ہے اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسے متعلقہ عدالتوں میں براہ راست پیش کرنے کے بجائے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شامل کیا جاتا ہے۔ یوں انمول پنکی کے خلاف قانونی کارروائی اس وقت بیک وقت کئی مراحل میں جاری ہے۔ تین مقدمات میں اسے بری کیا جاچکا ہے، جن کی بریت کو پراسیکیوشن نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، 14 مقدمات ٹرائل کے مرحلے میں ہیں جبکہ چار مقدمات کے چالان تاحال عدالتوں میں پیش ہونا باقی ہیں۔ اس کے علاوہ چھ مبینہ سہولت کار بھی گرفتار نہیں ہوسکے۔ چنانچہ اگرچہ انمول پنکی کو بعض مقدمات میں ریلیف مل چکا ہے، تاہم اس کے خلاف باقی مقدمات کا حتمی انجام عدالتوں میں پیش کیے جانے والے شواہد اور عدالتی فیصلوں سے ہی طے ہوگا۔

Back to top button