ن لیگ میں نظریاتی گروپ کو نواز شریف نے شکست دی

آرمی ترمیمی ایکٹ پر فیصلہ سازی کے دوران مسلم لیگ کی ’اولڈ گارڈ‘ اور نئی نظریاتی قیادت میں باقاعدہ کشمکش کے بعد مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی گروپ کو تب شکست ہوگئی جب شہباز شریف اور خواجہ آصف گروپ نوازشریف کا فیصلہ کن ووٹ اپنے پلڑے میں ڈلوانے میں کامیاب ہوگیا اور پھر ترمیمی ایکٹ کی حمایت کرکے ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
نون لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت یا مخالفت مسلم لیگ ن کی سیاسی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا جس پر روایتی سوچ رکھنے والی اولڈ گارڈ نے نظریاتی سوچ رکھنے والی قیادت کو چاروں شانے چت کردیا۔ اولڈ گارڈ دہائیوں کی سیاسی عرق ریزی کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دوبارہ اقتدار کی غلام گردش میں قدم رکھنے کےلیے اس سے موثر اور بروقت فیصلہ کیا نہیں جا سکتا۔ دوسری طرف نظریاتی گروپ سے تعلق رکھنے والے رہنماوں میں تشویش ہے، بے اصولی اور بے وفائی کا صدمہ ہے۔ نظریاتی گروپ
سمجھتا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فیصلہ کن ضرب اب بھی نہ لگی تو دوبارہ موقع نہ مل پائے گا۔ اب اس قدم کے دفاع کی نہ ان میں ہمت ہے اور نہ ہی تحریک۔ نواز لیگ کی اندرونی اسٹیبلشمنٹ یعنی پرانی قیادت اور نئی سوچ کے درمیان جاری کشمکش اب ڈرائنگ رومز سے نکل کر ٹیلی وژن اسکرینز اور سوشل میڈیا پر آچکی ہے۔ واضح طور پر نئی پود اور نظریاتی کی نمائندگی اور قیادت مریم نواز کے پاس ہے۔ مگر ن لیگ کی اندرونی اسٹیبلشمنٹ مریم نواز کی قیادت کو تسلیم اور اس پر اعتماد کرنے سے کھلم کھلا انکاری ہے۔
ایسے حالات میں جب نوازشریف اپنی سیاسی وراثت مریم نواز کے سپرد کرنے کے واضح اشارے دے چکے ہیں، ن لیگ کے ’انکلز‘ کا مریم نواز کو تسلیم اور نظر انذاز کرنا دونوں ہی مشکل ہیں۔ صرف شاہد خاقان عباسی ہی پرانی قیادت میں سے مزاحمت کے نمائندے کے طور پر سامنے آئے ہیں اور طویل القامت عباسی کا سیاسی قد بھی ہم عصروں میں بڑھ چکا ہے ورنہ باقی تمام نئی حقیقت کے ساتھ سمجھوتہ کر چکے ہیں۔
کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ باقی انکلز نے نظریات سے نظر چرا کر اپنا وزن شہباز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی طرح مریم نواز کو بھی اپنی سیاسی قیادت کو ’انکلز‘ کے بیچ تسلیم کرانے کےلیے بھرپور تگ ودو کرنی ہے۔ اولڈ گارڈ پرانے ووٹر کی نمائندہ ہے جس کو شاید ن لیگ کے اس یو ٹرن سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، مگر وہی نیا ووٹر جس کو عمران خان کی تحریک کے مقابلے میں اپنے حلقہ اثر میں لایا گیا، سوشل میڈیا اور یوتھ کنونشنز میں متحرک کیا گیا اور ان سے ووٹ کی عزت کے نعرے لگوائے گئے وہ شاید اس نظریاتی گھاؤ سے جانبر نا ہو سکے۔
بہر حال اس وقت معروضی حالات تو یہ ہی بتاتے ہیں کہ ن لیگ سیاست کا محور اگلے کچھ عرصے تک شہباز شریف اور خواجہ آصف ٹائپ کے اولڈ گارڈ ہی ہوں گے۔ شہباز شریف ہمیشہ سے سیاست میں بتانے سے زیادہ چھپانے اور سامنے سے زیادہ پس منظر کے قائل ہیں۔ ان حالات میں جب تک ن لیگ کی رسائی وفاق یا پنجاب میں ایوان کے اپوزیشن بینچوں سے سرکاری بینچوں تک نہیں ہوتی اس اولڈ گارڈ کے پاس کارکنوں کو دکھانے کےلئے کچھ خاص نہیں ہے۔
مسلم لیگ ن میں نئی سوچ رکھنے والوں کو مستقبل قریب میں مایوسی نظر آرہی ہے، جس مزاحمتی سیاست کے ان کو خواب دکھائے گئے تھے وہ تعبیر سے پہلے ہی ٹوٹ گئی اور ن لیگ کی قیادت نے مشاورت پر تابعداری کو ترجیح دی ہے۔ تاہم کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ اس فیصلے میں چاہے بے دلی سے سہی، لیکن مریم نواز شامل ہیں۔ وہ لاکھ تاثر دینے کی کوشش کریں کہ مشاورتی عمل کا حصہ نہیں تھیں لیکن ان کے اپنے ہم نوا بھی اس پر قائل نہیں ہو پار ہے۔ فی الحال تو مریم نواز کی منزل لندن اور ان کے زیر سایہ نئی پود کی سیاست خاموش ہی لگ رہی
جو لڑائی مسلم لیگ نواز نے اسٹیبلشمنٹ سے لڑنا تھی اب اس کا میدان اور مقام تبدیل ہوچکا ہے۔ اب یہ لڑائی ن لیگ کے اندر منتقل ہوگئی ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ جو پانامہ کیس سے الیکشن تک ن لیگ میں کوئی واضح دراڑ نہیں ڈال سکی تھی، اس ایک عمل کے ذریعے وہ اندرونی تناؤ کو منظرعام پر لے آئی ہے۔ اس اندرونی جنگ میں کون سا دھڑا بازی لے گا اور کون قصہ ماضی بنے گا؟ اس کا فیصلہ اب دور نہیں ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ کٹہرے میں اب سمجھوتے کی سیاست کرنے والے اولڈ گارڈ ہی ہیں۔
