ن لیگ کو سینیٹ الیکشن میں 5 منحرف اراکین کی یاد ستانے لگی

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چوہدری برادران کو سینیٹ میں ایک نشست دلوانے کے وعدے کے بعد اب پی ٹی آئی نے ق لیگ سے مل کر ن لیگ کے پانچ منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں جس سے ن لیگ سینیٹ کے انتخابی معرکے میں مشکلات کا شکار نظر آتی ہے۔
مسلم لیگ ن کے پانچ اراکین کے منحرف ہو جانے سے پارٹی کو عددی تعداد میں کمی کا سامنا ہے جو کہ سینٹ کے الیکشن میں اس کے امیدواروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا یے اس نئی صورت حال میں سے سینیٹ نوازلیگ کی قیادت شش و پنج کا شکار ہے کہ پارٹی سے نکالے جانے والے پانچ منحرف ارکان سے کس طرح ووٹ مانگا جائے خصوصا جب منحرف اراکین کے سر پر لوٹے رکھ کر پنجاب اسمبلی کے احاطے میں ان کے خلاف نعرے بازی کر کے انہیں نشانہ عبرت بنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ میاں نواز شریف کی جانب سے اپنی تقاریر میں فوجی قیادت پر شدید تنقید کے بعد پنجاب اسمبلی کے پانچ منتخب اراکین نے اپنی جماعت سے بغاوت کر دی تھی۔ یہ لوگ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں اور اب ان کی ہمدردیاں اور سپورٹ تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔ اسی وجہ سے اب حکمران جماعت بھی ان اراکین کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ن لیگ کے منحرف اراکین تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہی ووٹ دیں گے۔ نواز لیگ کے لوٹوں پر مشتمل منحرف گروپ کے بانی اشرف انصاری کا کہنا ہے کہ وہ متحد ہیں اور سینیٹ انتخابات کا لائحہ عمل مشترکہ طور پر بنایئں گے ۔ دوسری جانب ق لیگ بھی اپنے سینیٹ امیدوار اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل کامل علی آغا کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے جوڑ توڑ میں مصروف ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ سینٹ کے الیکشن میں کامل علی آغا کو پی ٹی آئی اور ق۔لیگ کے مشترکہ امیدوار کو ووٹ ڈالیں گے بھی اور ووٹ ڈلوائیں گے بھی۔
پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں چار آزاد ممبران، سات پیپلز پارٹی اور ق لیگ کی دس نشستوں کے ساتھ ن لیگ یا حکمران جماعت کے اتحاد کے مابین ایک سینیٹ سیٹ کا فیصلہ ہونا ہے جس کے لیے چوہدری پرویز الٰہی بھی منحتف اراکین سمیت تمام جماعتوں سے بیک ڈور رابطے کر رہے ہیں۔ ق لیگ کے لئے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ وزیراعظم انہیں سینیٹ میں ایک سیٹ دلوانے کی یقین دھانی کرواچکے ہیں۔ اس سے پہلے سیپکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب میں بھی دس سیٹوں کے ساتھ ایوان میں شامل پی ٹی آئی کے اتحادی چوہدری پرویز الٰہی نے 200 سے زائد ووٹ لے کر 2018 میں سب کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن اب دیکھنا ہو گا کہ 2021 کے سینیٹ انتخابات میں پنجاب میں ق لیگ کیا دس سیٹوں کے ساتھ حکمران جماعت تحریک انصاف کی مدد سے اپنے واحد امیدوار کامل علی آغا کو سینیٹر منتخب کروا سکتی ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ ایوان بالا کی چھ سال کے لیے خالی ہونے والی 52 نشستوں پر رواں سال 6 مارچ یا اس سے قبل سینیٹ انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا جس کے لیے سب سے زیادہ دلچسپ صورتحال پنجاب اسمبلی میں ہو گی۔ ن لیگ کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے بچنے کے لیے اپنے کارڈز انتہائی سوچ بچار کے بعد کھیلنا چاہتی ہے تاہم ن لیگ کے سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی ٹکٹوں کے فیصلے کے ساتھ ساتھ ابھی دیگر جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے گئے ہیں تاہم شیر کے نشان پر پنجاب اسمبلی کے رک منتخب ہونے والے پانچ منحرف اراکین کے حوالے سے پارٹی قیادت تشویش میں مبتلا ہے۔اہم پارٹی رہنما نے نام نہ لینے کی شرط پر بتایا کہ ’ن لیگ کے پارٹی سے نکالے جانے والے پانچ منحرف ارکان سے کس حیثیت سے ووٹ مانگیں اس حوالے سے لیگی قیادت شش و پنج کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے پانچ منحرف ارکان کا ن لیگ کے بجائے حکمران جماعت کے امیدواروں کو ووٹ ڈالنے کا قوی امکان ہے تاہم حکمران جماعت کے حق میں ووٹ ڈالنے کے باوجود ن لیگ خفیہ رائے شماری کے باعث ان ارکان کے خلاف قانونی کارروائی سے قاصر ہو گی۔ پارٹی کی نائب صدر مریم نواز ان منحرف اراکین کے خلاف سخت الفاظ اور سزا کا پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں۔اس ساری صورتحال میں مسلم لیگ ن کے منحرف اراکین جن میں جلیل احمد شرقپوری، مولانا غیاث الدین، فیصل نیازی، نشاط ڈاہا اور اشرف انصاری شامل ہیں، ان سے سینیٹ انتخابات کے لیے ووٹ مانگنا مشکل ہوگا۔
دوسری جانب ن لیگ کے ان پانچ اراکین سے تحریک انصاف کی قیادت اور وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی رابطے تیز کر دیے ہیں۔ حکمران جماعت تحریک انصاف نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ منحرف اراکین نے ن لیگ کے مزید ووٹ تحریک انصاف کے حق میں ڈالنے کا عندیہ دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے کچھ حلقوں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ بیک ڈور رابطوں کے ذریعے منحرف اراکین سے ووٹ ڈلوایا جائے۔ ن لیگ کے منحرف رکن پنجاب اسمبلی اشرف انصاری کے مطابق ن لیگ تو ہمیں پارٹی سے نکال چکی ہے اور اب ہمیں کسی بھی طرح کے پارلیمانی و پارٹی معاملات میں نہیں بلایا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سینیٹ انتخابات میں ووٹ دیں گے لیکن الیکشن کی تاریخ طے ہونے کے بعد ہی اعلان کریں گے کہ وہ کس جماعت کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ اشرف انصاری نے بتایا کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے ن لیگ کی جانب سے ان سے باضابطہ طور پر رابطہ نہیں کیا گیا جس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ نون لیگ والے ان کے ساتھ کیے جانے والی بدسلوکی پر خود بھی شرمندہ ہیں اور منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔ تاہم سینئر مسلم لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا اب بھی یہی موقف ہے کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والے پانچ لیگی ممبران پنجاب اسمبلی گندے لوٹے ہیں اور ان کے ساتھ لوٹوں والا سلوک ہی کیا جانا چاہئے۔
