وردی والے سندھ پولیس کی اتھارٹی کیوں نہیں مانتے؟


کراچی میں 24 مئی کو نیوی افسران کے ہاتھوں سندھ پولیس کے اہلکاروں کی دھلائی کے واقعے نے ایک مرتبہ پھر رینجرز کے ہاتھوں آئی جی سندھ کے اغوا کی یاد تازہ کر دی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اب سندھ پولیس کی یہی اوقات رہ گئی ہے کہ وہ کبھی رینجرز اور کبھی نیوی والوں سے اپنی عزت پامال کرواتی رہے۔
تازہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان نیوی سے تعلق رکھنے والے کچھ افسران نے اپنی خاندانوں کے ہمراہ پکنک منانے کے لیے ہاکس بے سے آگے فرینچ بیچ پر جانے کی کوشش کی۔ لیکن چونکہ کرونا ایس او پیز کے تحت تمام تفریحی علاقوں میں لوگوں کا داخلہ بند ہے اس لیے سندھ پولیس کے اہلکاروں نے نیوی والوں کو آگے جانے سے روک دیا جس پر انہوں نے جھگڑا شروع کر دیا جو بڑھتے بڑھتے تصادم کی صورت اختیار کر گیا۔ اس چپقلش کا انجام پولیس والوں پر تشدد کی صورت میں ہوا جس سے کئی اہلکاروں کے سر پھٹ گے اور انہیں جسم کے دیگر حصوں پر بھی زخم آئے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج وائرل ہے اور صارفین اس ننگی بدمعاشی پر نیوی والوں کی مذمت کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی میں پولیس اور پاکستان نیوی کے اہلکاروں کے درمیان تصادم اور تشدد کے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
سندھ پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز ماڑی پور تھانے کی حدود میں پولیس اور نیوی کے اہلکاروں کے درمیان ناخوشگوار واقعے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس ناخوشگوار واقعے میں ملوث پائے جانے پر ذمہ دار اہلکاروں کےخلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ پیر کی دوپہر سے واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پر ایک منٹ کی ویڈیو شیئر ہوئی جس میں نظر آتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار ڈنڈا اٹھائے ہوئے ہے جبکہ اس کے سامنے ایک مسلح باوردی اہلکار ہے۔چند لمحوں کے بعد مزید باوردی اہلکار آتے ہیں اور آوازیں آتی ہیں کہ مار اس کو پکڑ کے جس کے بعد ایک باوردی اہلکار اپنی بندوق کا بٹ گھما کر پولیس اہلکار کو مارتا ہے، یہ پولیس اہلکار اپنی بندوق اس اہلکار کو مارتا ہے جس کے بعد باوردی اہلکار ایک اور پولیس اہلکار کی ٹانگوں پر بندوق مارتا ہے۔
یہ ویڈیو کسی عام شہری نے بنائی جس میں یہ بھی آواز آ رہی ہے کہ پولیس اہلکار زخمی ہو گیا، سر پر چوٹ لگی ہے۔ ویڈیو میں موچکو تھانے کا بورڈ بھی نظر آتا ہے۔اس تصادم کے دوران کئی کاریں اور موٹر سائیکلیں بھی رکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس ویڈیو کے بعد ایک دوسری ویڈیو سامنے آئی جس میں نظر آتا ہے کہ پیچ کلر میں شرٹ اور خاکی پینٹس پہنے ہوئے ایک نوجوان کار میں سوار ہے جبکہ ساتھ میں خواتین ہیں۔ ایک پولیس اہلکار گاڑی کی سامنے اور سائڈ سے ویڈیو بنا رہا ہے جبکہ اسی دوران ایک پولیس اہلکار کی آواز آتی ہے کہ بدمعاشی کر رہا ہے۔ایک مسلح پولیس اہلکار گاڑی کا دروازہ کھول کر اس نوجوان کو اترنے کے لیے کہتا ہے اور ایک دوسرا اہلکار زبردستی کھینچ کر اتارنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایک اور اہلکار اسے روک دیتا ہے۔ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود یہ نوجوان موبائل فون پر مسلسل بات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعد میں گاڑی سائڈ پر لگا کر بھی کسی سے بات کر رہا ہوتا ہے۔ اسی دوران پولیس اہلکار جو سڑک پر عام تلاشی لے رہے ہیں وہ بھی ایک طرف ہو جاتے ہیں۔
سندھ پولیس کے ذرائع سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ یہ لوگ ہاکس بے کے ساحلِ سمندر پر جانا چاہ رہے تھے جنھیں روکا گیا کیونکہ حکومت سندھ نے کورونا کے باعث پابندی عائد کر رکھی ہے۔ پاکستان نیوی کا اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف یا اعلامیہ سامنے نہیں آیا تاہم نیوی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا افسر فیملی سمیت اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا جس کو پولیس نے روکا اور زبردستی گاڑی سے اتارنے کی کوشش کی، اور واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ لیکن پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فرینچ بیچ پر صرف گیسٹ ہاوزز ہیں اور نیوی والوں کاکوئی رہائشی علاقہ نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں پولیس اور فوجی اہلکاروں کے درمیان چپقلش اور ہاتھا پائی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ چند ماہ پہلے سندھ رینجرز کے ایک دستے نے آئی جی سندھ کو ان کی سرکاری رہائش گاہ سے اغوا کرنے کے بعد اپنے کمانڈر کے حضور پیش کر دیا تھا جس پر سندھ پولیس نے احتجاج کیا تھا اور آئی جی چھٹی پر چلے گے تھے۔ بعد ازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس واقعے کی انکوائری کروائی اور اس میں ملوث رینجرز اور آئی ایس آئی کے افسران کو معطل کر دیا تھا۔
اس سے قبل مئی میں ہی اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے ایک فوجی میجر کو کرونا ایس او۔پیز کے باعث اپنے خاندان سمیت دامنِ کوہ کے تفریحی مقام پر جانے سے روکنے پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔اسی طرح 2016 میں بھی فوجی اہلکاروں کے موٹروے پولیس کے اہلکاروں پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔ زیادہ تر واقعات میں آرمی، نیوی، فضائیہ اور رینجرز کے اہلکار زیادتی کرتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ پولیس کی اتھارٹی تسلیم کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔

Back to top button