وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی

وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے۔
تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی ہے جس پر 14 ارکان اسمبلی کے دستخط ہیں، جن میں بلوچستان عوامی پارٹی کے جام کمال، ظہوربلیدی، عارف محمد حسنی، سلیم کھوسہ، نوابزادہ طارق مگسی، مٹھاخان کاکڑ اور سرفرازڈومکی، تحریک پر عوامی نیشنل پارٹی کے اصغراچکزئی، نعیم بازئی اورشاہینہ کاکڑ جبکہ پی ٹی آئی کے سرداریارمحمد رند، بی بی فریدہ، نعمت زہری اورمبین خلجی کے دستخط ہیں۔
دریں اثنا تحریک انصاف کےرہنما یار محمد رند کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ نمبرپورے ہیں، تحریک عدم اعتماد پرساتھیوں نےدستخط کردیئے ہیں، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی۔
انہوں نے کہا عبدالقدوس بزنجوسےبلوچستان کےعوام اورارکان اسمبلی مایوس ہیں، بلوچستان کےعوام چاہتےہیں عبدالقدوس بزنجوکومنصب سےہٹایاجائے۔
یار محمد رند نے کہا سب سے پہلا مرحلہ عبدالقدوس بزنجوکوعہدے سےہٹانا ہے، تمام جماعتیں مشاورت کرکےوزیراعلیٰ بلوچستان نامزدکریں گی۔
واضح رہے کہ 25 اکتوبر 2021ء کو بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اپنی پارٹی کے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی تاہم اس تحریک سے قبل ہی وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
یاد رہے کہ9 جنوری 2018ء کو پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی انہوں نے تحریک سے قبل ہی عہدہ چھوڑ دیا تھا،ثناء اللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد موجودہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اس وقت نے وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس وقت مسلم لیگ ن صوبے میں سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔
