وفاقی بجٹ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج کیون بن چکا؟

ایک ہفتے کی قلیل مدت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ کرنے والی شہباز شریف حکومت کو اب جو نیا چیلنج درپیش ہے وہ اگلا وفاقی بجٹ ہے جس میں مہنگائی کے مارے عوام پر مزید ٹیکس لگائے بغیر آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ممکن نہیں۔
مخلوط حکومت کو اقتصادی محاذ پر اس وقت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ، جاری کھاتوں کا خسارہ، تیزی سے گرتے زرمبادلہ کے ذخائر، اور روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر شامل ہیں۔ انھی وجوہات کی بنا پر ملک میں مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک جانب حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات کے ذریعے قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے کوشاں ہے تو دوسری جانب نئی حکومت کو پہلے دو مہینوں میں بجٹ پیش کرنے کے بڑے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں جون میں بجٹ پیش کرنے کی روایت ہے اور نئے مالی سال کا آغاز جولائی سے ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ کی تیاری ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک کا مالیاتی خسارہ بلند ترین سطح پر ہے اور معاشی ماہرین کے مطابق اس سال بجٹ خسارہ 3400 ارب روپے کی بجائے 30 جون 2022 تک 5000 ارب روپے تک پہنچ جائے گا اور اس بڑے خسارے کے ساتھ اگلے سال کا بجٹ بنانا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکومت کو بڑے بجٹ خسارے کے ساتھ جب بجٹ بنانا پڑے گا تو اس کا اثر پاکستان کے ترقیاتی اخراجات، دفاعی اخراجات اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی پروگرام پر پڑے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ابھی تک کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پائے، جس وجہ سے پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط ابھی تک جاری نہیں ہو سکی۔حکومت کو بجٹ بناتے وقت سب سے بڑا چیلنج آمدن اور اخراجات میں بڑھتا ہوا خسارہ ہے جو اس مالی سال کے آخر تک 5000 ارب روپے کی حد تک جانے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ حکومت کو خسارے کو کم کرنے کے ساتھ ملک کی معاشی شرح نمو کو بھی بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہیں تاکہ ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو سکیں اور اس کے ساتھ پیداواری عمل کے ذریعے عام آدمی کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جا سکے۔
ماہرِ معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ جو مالی خسارہ سامنے آ رہا ہے اس کے بعد جو پیسے باقی بچتے ہیں اس سے قرضے کی ادائیگی اور قسطوں کی ادائیگی کے بعد کچھ بھی نہیں بچتا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو 7000 ارب روپے تک کے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور اس کا مطلب ہے 2000 ارب اور اس کچھ زائد پیسے باقی بچتے ہیں۔
دوسری جانب قرضوں اور اُن پر سود کی ادائیگی 300 ارب کرنی پڑتی ہے۔ اب اس کے بعد ترقیاتی بجٹ، دفاعی اخراجات اور سروس کا انفراسٹرکچر چلانے کے لیے درکار رقم موجود نہیں ہو گی جس کے لیے حکومت کو ایک بار پھر بیرونی اور مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والے قرضوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔
معروف ماہر معاشیات حفیظ پاشا کے مطابق حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے بجٹ کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو پھر حکومت کے لیے اگلا بجٹ بنانا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ملک کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے بیرونی فنڈنگ نہیں ملے گی جو اس وقت ملک کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انکے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ مالیاتی خسارے کا ہی ہے۔ اس سال ملک کی آمدن چھ کھرب روپے کی متوقع ہے اور خسارہ پانچ کھرب سے بھی زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ ایسے عدم توازن کے ساتھ نیا بجٹ حکومت کے لیے بہت مشکل کام ہو گا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح چودہ فیصد کے لگ بھگ ریکارڈ کی گئی۔ حکومت کی جانب سے تیل مصنوعات کی قیمتوں میں تیس روپے فی لیٹر اضافے سے مہنگائی کی شرح میں مئی کے مہینے میں اضافہ ہوا۔ حفیظ پاشا کے مطابق تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح 16 سے 17 فیصد تک جا سکتی ہے۔
موجودہ حکومت کے لیے مہنگائی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اسے بجٹ کی تیاری میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
تاہم وفاقی حکومت کے پاس مہنگائی سے نمٹنے کا کوئی قلیل مدتی پلان نظر نہیں آتا کیونکہ اس کے پاس فسکل سپیس یعنی مالی طور پر اتنی استعداد اور گنجائش نہیں کہ وہ لوگوں کو سہولت فراہم کر سکے۔ پاکستان کو اس وقت بڑھتے ہوئے تجارتی اور جاری کھاتوں کے خسارے کا سامنا ہے اور اس کی وجہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بہت دباؤ ہے اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے جو بلند ترین سطح دو سو روپے کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ پہلے دس ماہ میں لگ بھگ چالیس ارب ڈالر ہے جب کہ پہلے نو ماہ میں جاری کھاتوں کا خسارہ تیرہ ارب ڈالر سے زائد ہے۔
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نےکہا کہ تجارتی اور جاری کھاتوں کا خسارہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس پر اگر قابو نہ پایا گیا تو ملک کے لیے بیرونی محاذ پر بے پناہ مسائل پیدا ہوں گے۔ انھوں نے کہا اس وقت بھی نئی حکومت کو یہی مسئلہ درپیش ہے جس کے لیے حکومت کو کوئی مربوط پالیسی اور سٹرکچرل ریفارمز کرنا پڑیں گی۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ یہ خسارے بلاشبہ بہت بڑے چیلنج کی صورت میں حکومت کو درپیش ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ پاکستان کو ان شعبوں میں ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں سے فنانسنگ مل جائے گی کیونکہ دنیا ایک ایسے ملک کو ان حالات میں نہیں چھوڑ سکتی کہ جو ایٹمی قوت ہو اور دیوالیہ ہو جائے۔ پاکستان کو جہاں دوسرے بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے، وہاں حکومت کے لیے خسارے کے بجٹ کے ساتھ ترقیاتی بجٹ اور دفاعی اخراجات کے لیے پیسے نکالنا ہے۔
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا چیلنج اس سلسلے میں اخراجات پر قابو پانا ہو گا۔ اس وقت موجودہ حکومت مخلوط حکومت ہے اور اتحادی چاہیں گے کہ ان کے تجویز کردہ منصوبوں کے لیے زیادہ ترقیاتی فنڈ رکھے جائیں تاہم دوسری جانب آئی ایم ایف سے معاہدے کی وجہ اخراجات پر قابو پانے کے لیے دباؤ ہوگا۔
