وفاقی حکومت نے سخت لاک ڈاؤن کا امکان مسترد کردیا

ملک میں کورونا وائرس کے ہزاروں نئے کیسز اور کئی اموات کی تصدیق کے بعد حکومت نے اسپتالوں کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کی طرف جانے کا کوئی فوری ارادہ نہیں ہے۔
ملک میں کورونا وائرس کی عالمی وباء اور ٹڈیوں کی صورت حال کا جائزہ لینے کےلیے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث کچھ بڑے شہروں کے اسپتالوں پر دباؤ کی اطلاعات ہیں لیکن مجموعی طور پر اسپتالوں میں صورت حال اطمینان بخش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے شرکاء اور وزیراعظم کو کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد، حقائق اور ملک کے اسپتالوں کی حالت اور تیاری سے متعلق آگاہ کیا گیا۔
میڈیا میں اسپتالوں پر دباؤ میں اضافے سے متعلق میڈیا رپورٹس کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کچھ اسپتالوں پر دباؤ عوام میں شہر کے ایک یا 2 بڑے اور معروف اسپتالوں میں جانے کے رجحان کی وجہ سے دباؤ ہے اور ان میں سے کچھ اسپتالوں کی60 فیصد جگہ بھرگئی ہوگی۔ شبلی فراز نے کہا کہ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ملک میں 404 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جن میں سے 161 وینٹی لیٹرز پر ہیں جس کا مطلب ہے کہ مریضوں کےلیے وینٹی لیٹرز بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اس سلسلے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہمارے پاس طبی آلات وافر تعداد میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اب بھی اس سے قبل لگائے گئے تخمینے سے کم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شبلی فراز نے عوام کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا کہ لیکن کہا کہ ملک میں ‘سخت لاک ڈاؤن’ کے نفاذ کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ضرورت سے متعلق حکومت یا وزیراعظم کے ذہن میں کوئی کنفیوژن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 15 کروڑ سے زائد غریب آبادی پر مشتمل ملک میں لاک ڈاؤن پائیدار نہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ صورت حال مشکل ہے، ہم حقائق اور اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو بنیادی طور پر ہماری رہنمائی کریں گے۔
مزید برآں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ کورونا وائرس سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کا اگلا اجلاس یکم جون (پیر) کو ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button