ٹرمپ کے دورہ بھارت سے قبل حافط سعید کوسزا

امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کے دورہ بھارت اور 16 فروری کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شروع ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس سے قبل جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو 11 سال قید کی سزا اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے.
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے دو مقدمات میں 11 سال قید کی سزا سنائی ہے.حافظ سعید کو یہ سزا فنڈ ریزنگ اور منی لانڈرنگ کیس میں سنائی گئی ہے۔انسداد دہشت گردی کے حافظ سعید سے متعلق دئیے گئے اس فیصلے کو مختلف تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سنایا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ بھارت قریب ہے جبکہ دوسری طرف ایف اے ٹی ایف بھی پاکستان پر منی لانڈرنگ کے حوالے سے گہری نظر رکھی ہوئے ہے،کیونکہ یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے موثر اقدامات نہیں کر رہا. فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس 16 فروری کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہورہا ہے. ایف اے ٹی ایف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں لانے کا فیصلہ 19 یا 20 فروری کو کرے گا. پاکستان کو وائٹ لسٹ میں آنے کیلئے مزید7 ووٹ درکار ہیں. اگر پاکستان مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور وائٹ لسٹ میں آگیا تو اس کے بعد پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے مزید 3 ماہ دئیے جائیں گے، دوسری صورت میں پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھا جائے گا۔
دوسری طرف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر24 فروری کو نئی دہلی پہنچیں گے،امریکی صدر کا یہ دو روزہ 24 تا 25 فروری کو ہوگا۔ ممکنہ طور پر حافظ سعید کی سزا کا فیصلہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خوش کرنے اور مودی کا منہ بند کرنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے تاکہ پاکستان پر پریشر کو کم کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ ماہ قبل یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو حوصلہ افزا سمجھتے ہیں۔ لہذا پاکستان کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے یہ فیصلہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ یہ بیان بھی دے چکے ہیں کہ حافظ سعید کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا۔مائیکل کگلمین کے خیال میں امریکا پاکستان کو لے کر ایف اے ٹی ایف سے متعلق پاکستان کے حوالے سے سخت ہے،امریکا پاکستان کو اس فہرست سے باہر نکالنے پر آمادہ نہیں ہو گا جب تک پاکستان ایسے اقدامات نہیں اٹھایئے گا جن سے پیچھے ہٹنا ممکن نہ ہو۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم بھی کئی بار پاکستان پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے حوالے سے کاروائی نہیں کرتا تاہم اب حافظ سعید کو سزا سنائے جانے کے بعد مودی کے پاس پاکستان کے خلاف امریکی صدر کو کہنے کے لیے کچھ نہیں ہو گا،حافظ سعید کے حوالے سے فیصلہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موقف کی تائید کرتا ہے. تجزیہ کارحافظ سعید کو انسداد دہشت گردی عدالت سے سنائی گئی سزا کو بہت بڑی خبر قرار دے رہے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ اب پوری دنیا کو اطمینان ہوگا کہ پاکستان اب جو کہ رہا ہے اس پر عمل کررہا ہے دنیا اس کو خوشگوار خبر گردانے گی اور اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button