ٹرک والے جج کے کرپٹ اور بددیانت ہونے کی تصدیق

عدالت عظمی نے سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج پر کرپشن اور بددیانتی کے الزامات پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئےسپریم جوڈیشل کونسل نے مستعفی جج مظاہر علی نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے دیا ہے اور انہیں برطرف کرنے کی سفارش کردی ہے۔ جس کے بعد اب جہاں عمرانڈو جج کی پنشن اور دیگر مراعات سے محرومی یقینی ہے وہیں وہ نیب و دیگر اداروں کے نشانے پر بھی آ گیا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف 9 شکایات آئیں، انہیں مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عہدے سے ہٹانا چاہیے۔سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنی رائے صدر مملکت کو ارسال کردی ہے اور رائے پر صدر مملکت کارروائی کے مجاز ہیں۔دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے رول 5 میں ترمیم کردی ہے، رول 5 ججز کو شہرت سے بالاتر ہونے کا پابند بناتا ہے اور اس میں ترمیم کے بعد الزامات پر وضاحت دینے کا حق ججز کو دے دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 27 اکتوبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے اکثریتی بنیاد پر سپریم کورٹ کے اس کے وقت کے جج مظاہر علی اکبر نقوی کو مس کنڈکٹ کی شکایت پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور 14 روز میں جواب طلب کرلیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر شامل ہیں۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف 10 شکایتیں جمع کرائی گئی تھیں اور کونسل نے دو کے مقابلے میں 3 کی اکثریتی رائے سے شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر 14 روز میں انہیں جواب دینے کا کہا گیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے ججوں نے کہا کہ انہیں سابق جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایتوں کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

11 نومبر کو جمع کرائے گئے ابتدائی جواب میں سابق جسٹس مظاہر نقوی نے جانبدارانہ اور متعصب رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس طارق مسعود اور چیف جسٹس نعیم اختر کو خود کو بینچ سے الگ کر کے معاملے کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔

20 نومبر کو سابق جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کو بھی چیلنج کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کارروائی کا آغاز غیرعدالتی اور کسی قانونی اختیار کے بغیر تھا۔

اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے سابق جسٹس مظاہر کو ایک نیا شوکاز نوٹس جاری کر کے پندرہ دن کے اندر جواب داخل اور اپنا دفاع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

4 دسمبر کو سابق جسٹس مظاہر نے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور پہلے سے دائر آئینی پٹیشن کی پیروی کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ شوکاز نوٹس کو رد کرنے کی کوشش کی تھی۔

6 دسمبر کو انہوں نے سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ، 2023 میں درج مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود شوکاز نوٹس کے اجرا کو چیلنج کرنے والی اپنی درخواستوں پر خاموشی اختیار کرنے کی جانب تین سینئر ترین ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کی کمیٹی کی توجہ مبذول کرائی تھی۔

13 دسمبر کو جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے دیگر تمام ججوں کے نام ایک کھلے خط میں کہا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے مجھ سے روا رکھا گیا سلوک توہین آمیز ہے۔

یاد رہے کہ 2020 میں سپریم کورٹ کے جج بننے والے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا نام ایک مبینہ آڈیو لیک میں سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پاکستان بار کونسل سمیت دیگر کی جانب سے مس کنڈکٹ کے الزام پر متعدد شکایتی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر ججوں کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔

اسی طرح سے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل میاں داؤد نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر کے ان کے اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ جج نے اپنے بیٹوں اور بیٹی کی بیرون ملک تعلیم اور ایک تاجر زاہد رفیق سے ’مالی فائدہ‘ حاصل کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا، ’جج، پی ٹی آئی اور اس کے قائد عمران خان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کھلے عام ظاہر کرتے ہیں‘، وہ اپنی ذاتی رنجشوں کی وجہ سے دوسری سیاسی جماعتوں کے خلاف خطرناک ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔اس کے بعد قومی اسمبلی نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے جسٹس مظاہر علی نقوی کا کیس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھجوا دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں شکایات جمع ہونے پر سپریم جوڈیشل کونسل کے اس وقت کے سربراہ اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے جسٹس سردار طارق مسعود سے رائے طلب کی تھی۔

جسٹس مظاہر علی نقوی نے اس سے قبل سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے نام خط میں اپنے خلاف ہونے والی کارروائی کو بدنیتی پر مبنی مہم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ میرے خلاف فضول اور غیر سنجیدہ شکایات درج کی گئی ہیں جو عدلیہ کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم کا حصہ ہیں۔

تاہم اب سپریم جوڈیشل کونسل نےآئین کے آرٹیکل 209(6) کے تحت سپریم کورٹ کےسابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے کر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے ʼʼ سنگین مس کنڈکٹ ،ظاہری آمدن سے زیادہ اثاثہ جات اور آڈیو لیکسʼʼ سے متعلق شکایات پر اپنی حتمی رائے صدر مملکت کو ارسال کردی جس میں بتایا گیا کہ سابق جج کے خلاف 9شکایات آئیں، ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، انہیں عہدے سے ہٹایا جائے صدر مملکت کی منظوری کے بعد فیصلے کی روشنی میں مظاہر نقوی اپنے نام کے ساتھ جسٹس ریٹائرڈ لکھ نہیں پائیں گے اور تمام تر پنشن و مراعات سے بھی محروم ہوجائیں گے ،جبکہ نیب سمیت دیگر ادارے بھی ان کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھا سکیں گے۔
یاد رہے سپریم جوڈیشل کونسل میں مظاہر علی کبر نقوی کے خلاف متعدد شکایات درج ہوئی تھیں ،جن میں مبینہ طور پر ناقابل تردید ثبوت موجود تھے ،جس کی بناء پر انہوں نے اپنے خلاف جاری کاررروائی پر اثر انداز ہونے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے ،سب سے پہلے ہم خیال جج ،جسٹس اعجاز الاحسن کے ذریعے اظہار وجوہ کے نوٹس کو لٹکانے کی کوشش کی گئی ،جس میں ناکامی کے بعد اس کارروائی کوسپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ تاہم ان کا کوئی بھی ہتھکنڈہ کارگر ثابت نہ نہ ہوا۔

Back to top button