ٹوئیٹر کا متبادل پلیٹ فارم بلیو سکائے کب لانچ ہوگا؟

ٹوئٹر صارفین پر آٹھ ڈالرز ماہانہ فیس عائد کیے جانے کے بعد اب لوگ اسکے متوازی پلیٹ فارم بلیو سکائے کی لانچ کے انتظار میں ہیں جسے ٹویٹر ہی کے ایک موجودہ شیئر ہولڈر جیک ڈورسی شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس وقت بہت سے لوگ یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی صارفین کے لیے کیا متبادل پلیٹ فارم لاتے ہیں۔ جیک اب بھی ٹوئٹر کے شیئر ہولڈر ہیں، اور انہوں نے اپنا علیحدہ سوشل میڈیا نیٹ ورک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جسے بلیو سکائے سوشل کا نام دیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم اس وقت آزمائشی مراحل میں ہے۔ بلیو سکائے کا مقصد ایک اوپن سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی فراہمی ہے جو واضح معیار پر مختلف سوشل نیٹ ورکس کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کا موقع فراہم کرے گا، اگر بلیو سکائے کا تجربہ کامیاب ہوگیا تو یہ ٹوئٹر کا ایک مضبوط حریف بن کر سامنے آئے گا۔ جس کے بعد صارف آسانی سے اپنے موجودہ مواد سمیت ٹوئٹر سے دوسرے پلیٹ فارم پر باآسانی منتقل ہوسکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا میں یہ پلیٹ فارم صارف پر مرکوز بالکل نیا ماڈل ہوگا اور شاید یہ روایتی پلیٹ فارمز کو مجبور کردے کہ وہ اپنے موجودہ ڈیٹا جمع کرنے کے ذرائع اور آن لائن اشتہارات کے طریقہ کار پر دوبارہ غور کریں، ٹوئٹر کے اس حریف کا سب کو بے صبری سے انتظار ہے۔
دوسری جانب ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک 44 ارب ڈالرز میں دنیا کا مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم خریدنے کے بعد اب پچھتا رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے بہت مہنگا سودا کیا ہے جس میں انہیں آگے نقصان ہی نقصان نظر آ رہا ہے۔ اسی لیے انہوں نے ادارہ سنبھالتے ہی ٹوئیٹر صارفین سے بلیو ٹک کے عوض ماہانہ 8 ڈالرز وصولی بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ماہرین کے مطابق ایلون مسک کو ٹوئیٹر کی بولی لگانے کے بعد اندازہ ہوا تھا کہ وہ کافی مہنگا سودا کرنے والے رہے ہیں۔ اس دوران انھوں نے اس عہدے سے راہ فرار اختیار کرنے کی بھی کوشش کی لیکن وہ قانونی کارروائی سے ڈرتے ہوئے ڈیل سے پیچھے نہیں ہٹ سکے، اب ایلون مسک اپنے نقصان کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بھی ایلون مسک نے ایسے پلیٹ فارم کے لیے کچھ زیادہ ہی رقم کی ادائیگی کردی ہے جو نہ اپنے سرمایہ کاروں کے معیار پر پورا اتر رہا ہے اور نہ ہی اپنے صارفین کی امیدوں پر، چیف ٹوئیٹ نے مالک بنتے ہی اعلیٰ عہدیداران بشمول سی ای او پراگ اگروال، سی ایف او نیڈ سیگل، قانونی معاملات دیکھنے والی وجیا گڈے اور جنرل کونسلر سین ایجیٹ کو فارغ کر دیا۔
ٹوئٹر کے مکمل اختیارات حاصل کرنے کے بعد ایلون مسک نے پہلا ٹوئیٹ کیا کہ ’پرندہ اب آزاد ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایلون مسک ٹوئٹر کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے کے حوالے سے اچھے اچھے بیانات دے رہے ہیں، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ اسے ایک بے مثال ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنانے کے لیے وہ کیا اصلاحات لائیں گے۔ ٹوئٹر کے نئے مالک نے مستقبل میں ’متنوع نقطہ نظر رکھنے والی کونٹینٹ ماڈریشن کونسل‘ کی تقرری کا بھی اشارہ دیا ہے جسے مواد پر نگرانی اور معطل اکاؤنٹس کی بحالی بارے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
کئی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اظہارِ رائے پر ایلون مسک کی اعتدال پسندی کی پالیسی ٹوئٹر پر نفرت انگیز مواد میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔ ایک تحقیق کے مطابق ایلون مسک کی ملکیت میں آنے کے بعد ٹوئٹر پر نفرت انگیز مواد میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹوئٹر پر ٹرولنگ سے زیادہ بڑا مسئلہ ایلون مسک کا رویہ ہے۔ انہوں نے امریکی ہاؤس اسپیکر نینسی پلوسی کے شوہر پال پلوسی سے متعلق ایک سازشی تھیوری ٹوئیٹ کی اور پھر اسے ڈیلیٹ کر دیا۔ ایلون مسک آن لائن مواصلاتی پلیٹ فارمز کے استعمال سے ابھرنے والے سماجی مسائل کے لیے ٹیکنوکریٹک حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں۔ یعنی مسک کا یہ خیال ہے کہ ٹیکنالوجی تک مفت رسائی ’آزادی اظہار‘ کی ثقافتی اور سماجی حدود کو ختم کر دیتی ہے۔ ٹوئٹر کا مالک بننے کے بعد ایلون مسک نے ٹوئٹر کو ہدایت کی کہ وہ بنیادی ڈھانچے کی سالانہ لاگت میں سے ایک ارب ڈالر بچائے جو کلاؤڈ سروسز اور سرور سپیس میں کٹوتیوں سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ ان کٹوتیوں کی وجہ سے غیر معمولی استعمال کے وقت ٹوئٹر کریش ہونے کے خطرات بڑھ جائیں گے، خصوصاً انتخابات جیسے مواقعوں پر اور اسی لیے ایلون مسک کا ٹوئٹر کو ’ڈیجیٹل ٹاؤن اسکوائر‘ بنانے کا نظریہ ناکام ہوجاتا ہے۔ اگر ٹوئٹر کو ایسا پلیٹ فارم بنانا ہے جہاں عوام کو آزادی رائے کا کھلا موقع فراہم کیا جائے تو پھر اس کے بنیادی ڈھانچے کو بھی اتنا مضبوط بنانا ہوگا جو اہم مواقعوں پر ٹوئٹر کی سروسز کو یقینی بنائے۔
