پاکستان اور طالبان مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار

پاکستانی عسکری حکام اور تحریک طالبان پاکستان کے مابین افغانستان میں ہونے والے امن مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ ایک مہینے کا فائر بندی کا معاہدہ 9 دسمبر کو ختم ہونے جا رہا ہے لیکن اب تک دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کا اگلا راؤنڈ شروع نہیں ہو پایا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی عسکری حکام کے لیے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ فائر بندی کے دوران بھی طالبان دہشت گردوں کی جانب سے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کے کئی واقعات پیش آئے۔ اس صورت حال میں فائر بندی کے معاہدے میں توسیع اور مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فائر بندی معاہدے کے فورا بعد بھی طالبان ترجمان نے کچھ ایسی باتیں کی تھیں جن کے نتیجے میں دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔ یاد رہے کہ طالبان ترجمان نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ طالبان جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے نہ کہا جائے۔ دوسری جانب حکومت پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے جو شرائط رکھی تھیں ان میں بنیادی شرط یہ تھی کہ تحریک طالبان کے جنگجو ریاست پاکستان کی رٹ تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیں گے اور غیر مسلح ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ افغانستان میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد گذشتہ ماہ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے جنگ بندی پر اتفاق رائے سے متعلق ٹویٹ کیا اور تحریک طالبان نے بھی اس کی توثیق کی تھی۔ اس ایک ماہ کے دوران ایک موقع پر وزرا کے بیانات پر تحریک طالبان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ نومبر کے آخری ہفتے میں دہشت گردوں نے شمالی وزیر ستان کے علاقے دتہ خیل میں فوجی پوسٹ پر حملہ کیا۔ حملے کے دوران دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں دو جوان ہلاک ہوئے جن میں ٹانک کے رہائشی 22 سالہ لانس نائیک عارف اور چترال کے رہائشی 27 سالہ لانس نائیک رحمان شامل تھے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ حکومت اور طالبان کی جانب سے مذاکرات میں کسی بھی پیش رفت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا جا رہا اور استفسار کے باوجود وزرا خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم قومی سلامتی کے معاملات سے متعلقہ حکام کے مطابق مذاکرات میں حکومت اور طالبان دونوں جانب سے ایک دوسرے کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکام نے بتایا کہ ’حکومت پاکستان یک نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کرنا چاہ رہی ہے کہ تمام مسلح طالبان ہتھیار پھینک کر معمول کی زندگی میں واپس آجائیں اور آئندہ کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔‘
‘دوسری جانب طالبان اپنے 100 سے زائد ساتھیوں کی رہائی اور افغانستان منتقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور غیر مسلح ہونے پر تیار نہیں ہیں لہٰذا مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔‘
حکام کے مطابق ’حکومت کی جانب سے ہتھیار پھینکنے والے طالبان کی رجسٹریشن کرنے، ان کے رشتہ داروں اور قبائلی عمائدین کی جانب سے ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے بوقت ضرورت بلائے جانے پر حاضری یقینی بنانے جیسی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ طالبان کی اعلیٰ قیادت اپنے اہم ذمہ داران کے لیے ان شرائط پر رضامند نہیں ہو رہی اور ان کا اصرار ہے کہ وہ کسی بھی صورت ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کی جانب سے ماضی میں گرفتار کیے گئے طالبان کمانڈرز کی رہائی کا مطالبہ تسلیم کرنا بھی ممکن نظر نہیں آرہا۔
اس کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ ’مذاکرات کو جاری رکھنے پر دونوں فریق رضامند ہیں اور امکان ہے کہ فائر بندی معاہدے میں مزید توسیع ہو جائے۔‘ تاہم ترجمان تحریک طالبان خراسانی کا کہنا ہے ابھی دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کی جانب سے کوئی ہدایات جاری نہیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج پر حملوں کا ٹی ٹی پی سے کوئی تعلق نہیں یے۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا پہلے بھی کوئی امکان نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد یہ بات طے ہو گئی ہے کہ تحریک طالبان کے کچھ دھڑے بات چیت کے خلاف ہیں اور شاید مذاکرات کرنے والے کچھ دھڑے بھی اس عمل سے باہر ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پریشان کن بات یہ ہے کہ مذاکرات میں افغان حکومت کے ضامن بننے کے باوجود فائربندی معاہدے کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز پر طالبان کی جانب سے حملے جاری رہے لہٰذا دونوں فریقین کے مابین کسی معاہدے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
