پاکستان بچانا ہے تو شہباز سپیڈ کو واپس ٹریک پر آنا ہے


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہرگز ایسی غلطیاں دوبارہ رونما نہ ہونے دیں جو سابق وزیراعظم عمران خان کے اوّلین سو دنوں میں ہوئیں اور جن کی ہی وجہ سے اب بطور وزیراعظم عمران خان کا مکمل ٹریک ریکارڈ داغدار ہو چکا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ موجودہ کابینہ کے چند وزرا روایتی بیوروکریٹک انداز سے وزارتیں چلانے کے علاوہ سیاسی سست روی کے عمل کا شکار ہیں۔ لہٰذا بطور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف جس طرح اپنی ٹیم کو چوکس اور مستعد رکھنے کے ماہر کے طور پر پہچانے جاتے رہے ہیں، بطور وزیر اعظم بھی اپنی ٹیم میں وہی روح پھونکے جانے کا انتظار ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حالات بہت خراب ہیں اور بہتری کی فی الحال کوئی فوری صورت نظر نہیں آتی۔ انہی حالات کی وجہ سے لیجنڈری ’شہباز سپیڈ‘ بھی فی الحال اپنی پرانی پیس نہیں پکڑ رہے، لیکن جب اوکھلی میں دیا سَر تو موسل کا کیا ڈر ۔۔۔۔اب جبکہ معیشت کی خودُکش جیکٹ سیاسی ٹائمر کے ساتھ باندھ ہی لی ہے تو جان مار کر کوشش کرنی ہے کہ بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنا کر اس دھماکے کو ہر صورت روکا جائے۔
لیکن اس کے لیے چند ایک بڑی اھم تبدیلیاں وقت ضائع کیے بغیر درکار ہیں تاکہ شہباز سپیڈ واپس ٹریک پر آ سکے اور بھلے ایک متوازن رفتار سے ہی سہی مگر پاکستان سپیڈ میں ڈھل کر ملک کو ترقی اور خوش حالی کے ہمواراور دیرپا مستحکم سفر پر روانہ کر سکے۔ غریدہ کے بقول، وزیراعظم شہباز شریف یہ سب کر سکتے ہیں۔ رہ گئے عمران خان، تو وہ بھلے اتوار کی چُھٹی کے روز ہی سہی، جتنے مرضی احتجاج کر لیں، عوام اب اُن کی کال پر نکلنے والے نہیں، نہ ہی وہ اپنی موجودہ حکمتِ عملی سے حکومت کی چُھٹی کروا سکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بطور وزیراعظم تو عمران خان پر ناکامی کا ٹھپّہ لگ چکا ہے۔

غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اس وقت پاکستان اور اس کے عوام کے لیے حالات بظاہر بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔ مہنگائی عوام کا خون نچوڑتے آکاس بیل کی مانند اوپر ہی اوپر آسمان کی جانب بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ڈالر کے بارے میں خدشات ہیں کہ اڑھائی سو تک تو ضرور جائے گا۔ جب روپیہ دھوبی پٹڑے کی مانند مسلسل منہ کی ہی کھاتا رہے گا تو کیا مہنگائی کنٹرول ہو گی اور کیا معیشت بہتر ہو گی۔ ڈالر ریٹ وزیراعظم کی فوری ہنگامی توجہ کا طلب گار ہے۔ اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کو نہ صرف لاعلم رکھا جا رہا ہے بلکہ غلط معلومات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیراعظم صاحب کو کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ وزارت خزانہ میں کون کون اس گورکھ دھندے میں ملوث ہے اور کس طرح ڈالر کے ریٹ کومصنوعی طور پر بڑھا کر کون کون کروڑوں اربوں ہتھیا رہا ہے۔ روپے کی قدر کو مستحکم رکھنا کوئی طوفانی کام یا راکٹ سائنس نہیں۔ نا ہی اس کے لیے عالمی مارکیٹ کی پابندیوں کی محتاجی ہے۔ یہ مسئلہ مقامی عناصر کا پیدا کردہ ہے اور اس کا حل مقامی اقدامات ہی ہیں۔ جب تک ڈالر کے ریٹ کو قابو نہیں کیا جاتا، روپے کو استحکام کی طرف نہیں لایا جاتا، مہنگائی کنٹرول کرنے کا کوئی تصور کرنا بھی محال ہے۔ اس ایک معاملے کی طرف تو حکومت کو ہنگامی توجہ دینی ہو گی۔

غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ دوسری جانب، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں فی الحال تو ’اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے‘ کے مصداق بمطابقِ حکومت جس پیسے پر خرید ہورہی ہے اُسی پیسے پر عوام کو بیچی جا رہی ہے۔ لیکن ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، جب تک روس کا یوکرین سے بھِڑنا ٹھہرتا نہیں تب تک نہ عالمی مارکیٹ میں اور نہ ہی پاکستانی عوام کے لیے ریلیف کے کوئی اثرات نظر آتے ہیں۔ ایک موہوم سی امید پیدا تو ہوئی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہونے کے ارادے رکھتے ہیں۔ معاملات اگر بہ احسن طریقے سے طے ہو گئے تو سعودی عرب کا نہ صرف پاکستان جیسے غریب برادر ممالک کے لیے احسانِ عظیم ہو گا بلکہ کُل عالم کی مارکیٹ کے لیے اچھی خبر ہو گی اورعین ممکن ہے تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں۔ لیکن یہ سب فی الوقت تو پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ کے برابر ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں بڑی گھمبیرتائیں حائل ہوا کرتی ہیں جن کے مابین راستہ نکالنے کے لیے وقت اور دِقّت دونوں درکار رہتی ہیں۔

گذشتہ دنوں بڑا چرچا رہا کہ پاکستان نے روس سے سستے تیل کے لیے معاہدہ کر لیا تھا لیکن اس بے پیندے کے کلیم کا بھانڈا بھی بیچ چوراہے پھوٹ گیا۔ مگر راستہ تو بہرحال اب بھی موجود ہے۔ حکومت کے پاس آپشن تو پھر بھی باقی ہے کہ روس سے تیل خریدا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی حکومتِ پاکستان کے پاس ایک اور سنہرا موقع ایرانی تیل کی صورت میں موجود ہے۔ فی الحال ایران سے براستہ بلوچستان پاکستان میں ایرانی تیل صرف سمگل ہو کر ہی آتا ہے جس سے قومی خزانے کو ایک سو ارب روپے کا نقصان پڑتا ہے۔ لیکن فی الحال ایرانی تیل سمگلنگ سے جو فائدہ بےروزگار اور محروم بلوچ طبقات کو ہو رہا ہے، اُس سمگلنگ کو ختم کر کے اور ایرانی تیل کی درآمد کو قانونی قرار دے کر نہ صرف بلوچستان کے عوام کی خوشحالی میں بڑا مثبت کردارادا کیا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان کی تیل کی ضروریات بھی بڑی حد تک پوری کی جا سکتی ہیں۔

بقول غریدہ فاروقی، بلوچستان کے 22 لاکھ لوگوں کو ایرانی تیل کی سمگلنگ سے فائدہ حاصل ہوتا ہے لیکن اس سمگلنگ کو روک کر اور ایرانی تیل کو قانوناً پاکستان میں درآمد کروا کر 100 ارب روپے کے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کو بچایا جا سکتا ہے اور یہ پیسہ بھی بلوچستان کی ترقی اورخوشحالی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فی الوقت پاکستان تیل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور جنوبی افریقہ سے درآمد کرتا ہے۔ ایرانی تیل نہ صرف قیمت میں سستا بلکہ وافر دستیاب ہے اور درآمد کرنے کی ٹرانسپورٹ لاگت بھی کم پڑتی ہے۔ ایران کے ساتھ تیل درآمد کرنے کا پاکستان کو ایک اور فائدہ چین اور سی پیک کے ساتھ بھی معاون اور مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال چین ایران سے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس کے علاوہ بھارت بھی ایران سے تیل ’بارٹر ٹریڈ‘ کے اُصول کےتحت خریدتا ہے۔ کچھ تیل ایران، شام اور وینزویلا کو بھی فراہم کرتا ہے۔ لیکن چین اور بھارت جیسی بڑی عالمی قوتیں اگر امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل خرید سکتی ہیں تو پاکستان بھی موجودہ ملکی اور عالمی حالات کے تناظر میں اپنے قومی مفادات کومدِّنظر رکھ کر فیصلہ کرنے میں خودمختار ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کو بھی اعتماد میں لیا جا سکتا ہے۔ یہ کام کچھ ایسا ناممکن بھی نہیں بس اس کا آغاز کرنے کے لیے ہمت، حوصلہ، وژن اور قومی مفاد کے مقدم ہونے کا احساس درکار ہے۔ شہباز شریف حکومت کو اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی سے اس معاملے پر پہلا قدم بڑھانا چاہیے۔

غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کی کارکردگی بھی سکروٹنی کی متقاضی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ہرگز وہ غلطی نہ کریں جو سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے اوائل چند ماہ میں کی۔ تب بڑے فین فئیر کے ساتھ اسد عمر کو وزیرِ خزانہ بنا کر لایا گیا لیکن اُن کی فیصلہ سازی کی تاخیر اور نااہلی کا خمیازہ پاکستان نے بڑے کڑے انداز میں بھگتا۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ موجودہ وزیرِ خزانہ کی کارکردگی کسی طور اسدعمر کی کارکردگی سے بھی بہتر نہیں۔ اس سے قبل کہ تاخیر ہو جائے اور مفتاح اسماعیل موجودہ حکومت کے لیے اسد عمر ثابت ہوں، وزیراعظم کو ان کی کارکردگی کی کڑی جانچ کرنی ہو گی۔ مشکل فیصلہ لینے میں تاخیر کا خمیازہ آج پاکستان کے عوام یکمشت قیمتوں اور مہنگائی میں ہول ناک اضافے کی صورت برداشت کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ المناک معاشی حالات کی ذمہ دار عمران خان کی سابقہ حکومت ہے لیکن مخلوط حکومت کے قیام کے ساتھ ہی مشکل فیصلوں کے تسلسل کا آغاز ہو جانا چاہیے تھا جس میں وزیرِ خزانہ کی تاخیر آج منفی خمیازہ دکھا رہی ہے۔
صرف یہی نہیں، مسلم لیگ ن کے اندر بھی مفتاح اسماعیل کو بھرپور اعتماد حاصل نہیں اور پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما اور کئی اراکینِ پارلیمان وزیرِ خزانہ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

Back to top button