طالبان سے مذاکرات پر فوج پارلیمنٹ کو کیوں نہیں پوچھ رہی؟


پاکستانی حکام کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ جاری مذاکرات پر نہ صرف پشتون قوم پرست رہنما نالاں ہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بھی شدید تنقید کی جارہی ہے۔ مذاکراتی عمل پر بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ منتخب پارلیمنٹ کو اس حساس معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا جا رہا اور کسی کو یہ معلوم نہیں کہ مذاکرات کن شرائط پر ہو رہے ہیں اور پارلیمنٹ سے پوچھے بغیر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کس نے کیا ہے؟

سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں فوجی حکام کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی سربراہی میں کابل میں جاری مذاکرات پر اعتراض کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق نے پوچھا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکراتی جرگہ کس نے بنایا، اس کی سربراہی کون کررہا ہے، اس کا مینڈیٹ کیا ہے، اور اس جرگے نے جو شرائط پیش کی ہیں وہ کیا ہیں، انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ ٹی ٹی پی نے پاکستانی جرگے کو جو شرائط پیش کی ہیں وہ کیا ہیں؟ ان سوالات کا ابھی تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ اب حکومتی اتحاد میں شامل اہم جماعت پیپلز پارٹی نے بھی جرگے کے مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے ’صرف پارلیمنٹ ہی بہترین فورم ہے اور اسے اعتماد میں لیا جائے۔

جرگے میں شامل باجوڑ قبائلی ضلع سے تعلق رکھنے والے پیپلیز پارٹی کے رہنما اخوندزادہ چٹان نے امریکی نشریاتی ادارے سے انٹرویو میں کہا تھا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکررت کے لیے جرگہ پشاور کے کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل فیض حمید نے بھیجا تھا۔ پیپلز پارٹی نے قبائلی ضلع کرم سے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری سے جرگے میں شرکت پر وضاحت طلب کی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مطالبہ بالکل جائز ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات جیسے اہم معاملے کے لیے پارلیمنٹ ہی سب سے مناسب فورم ہے۔ پاکستان میں اس طرح کے معاملات کو سکیورٹی سے جوڑ کر پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کو یا تو بائی پاس کیا گیا ہے یا اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ سیاسی قیادت نے بھی اکثر یہ معاملات سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کیے ہیں۔ یہ روایت اب ختم ہونی چاہیے اور فیصلے منتخب ادارے کریں یا پارلیمنٹ اور سیاسی قیدات کا مساوی رول ہونا چاہیے۔ اب دیکھنا ہے کہ پیپلز پارٹی ٹی ٹی پی مذاکرات والا معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے اگے لے جا سکے گی یا معاملات جوں کے توں رہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی  کا یہ فیصلہ بھی جائز قرار دیا جانے رہا ہے کہ پارٹی اتحادی جماعتوں سے رابطہ کر کے آگے بڑھنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کرے گی۔ جماعت نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق جن رہنماوں کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا ہے ان میں ایاز صادق، اختر مینگل، ایمل ولی خان، اسد محمود، آفتاب شیرپاو، عبدالمالک بلوچ، محمود اچکزی، خالد مقبول صدیقی، محسن داوڑ، شاہ زین بگٹی، چوھدری سالک حسین اور خالد مگسی شامل ہیں۔

پاکستانی فوجی حکام کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے مذاکراتی جرگے کے رابطہ کار بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ جن معاملات پر گفتگو ہوئی تھی ان میں ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کی اپنے علاقوں میں واپسی اور ان کی سکیورٹی شامل ہیں کیونکہ شدت پسندی کے دوران ہونے والے بہت سے واقعات کی وجہ سے کسی نہ کسی انداز میں تلخی موجود ہے۔ سیف کے بقول کالعدم ہونے کی وجہ سے ٹی ٹی پی کے نام کی تبدیلی کا معاملہ بھی زیر بحث تھا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات سیف کے مطابق طالبان سربراہ نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی پرانی حیثیت یعنی فاٹا ان کے لیے ’سرخ لکیر‘ ہے اور گروپ فاٹا کی بحالی کے مطالبے سے دسبردار نہیں ہوگا۔نانہوں نے بتایا کہ جرگے میں ان کا موقف تھا کہ ڈائیلاگ میں سرخ لکریں نہیں ہوتی۔ جبکہ طالبان امیر کا موقف تھا کہ فاٹا کو خیبر پختوانخوا میں اس وقت ضم کرلیا گیا تھا جب ٹی ٹی پی کے لوگ اپنے علاقوں میں موجود نہیں تھے اس لیے وہ اس فیصلے پر بالکل بھی خوش نہیں۔

بیرسٹر سیف کے مطابق جرگے نے ٹی ٹی پی کا موقف متعلقہ اداروں تک پہنچانے کے لیے تین ماہ کا وقت مانگ لیا ہے لیکن جرگہ ممبران نے کہا کہ انضمام کے لیے آئین میں ترمیم ہوچکی ہے اور ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت موجود تھی۔ اس کے علاوہ عوام کی بھی ایک خاصی بڑی تعداد انضمام کی حامی تھی۔ رابطہ کار کے بقول طالبان امیر سے سوال ہوا کہ کیا وہ انگریزوں کے وقت کا قانون 40 ایف سی ار کی بحالی کی حامی ہیں جس میں قبائل کے پاس فیصلے کا اختیار بھی نہیں تھا۔  ٹی ٹی پی کی قیادت کو مشورہ دیا گیا کہ گروپ کا نام تبدیل کردیں کیونکہ یہ پاکستان میں کالعدم ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی  دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی ہے۔ اس پر ٹی ٹی پی کے رہننماوں نے کہا کہ تجویز پر مشورے کیے جائیں گے۔ 

بیرسٹر سیف نے بتایا کہ جرگہ ممبران نے کہا کہ ٹی ٹی پی کا افغاستان میں رہنا اور کارروائیاں کرنا افغان طالبان کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا کیونکہ افغان طالبان کا دنیا سے وعدہ ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ سیف کے مطابق ٹی ٹی پی کے امیر نے فائر بندی سے متعلق کہا تھا کہ اگر حملے کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے تو فائر بندی ختم بھی ہوسکتی ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے جرگے سے خطاب میں اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی طالبان پر وہ کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے کیونکہ دونوں نے امریکہ اور نیٹو کے خلاف مشترکہ مسلح مزاحمت کی ہے۔ رواں ماہ ٹی ٹی پی کے ساتھ جرگے کے مذاکرات کی میزبانی افغان طالبان نے کی جو مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں شائد توقع تھی کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی پر کسی حد تک دباؤ ڈال کر مذاکرات میں پیش رفت ہوسکے گی۔ لیکن حقانی کے بیان سے یہ مسئلہ تو واضح ہوگیا کہ فیصلہ ٹی ٹی پی اور پاکستانی ریاستی اداروں نے ہی کرنا ہے۔ افغان طالبان کے کئی رہنماوں کا یہ موقف درست ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے میزبانی کسی حد تک یہ ثابت کرتی ہے کہ افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کے معاملے پر کچھ نہ کچھ دباؤ ضرور ہے۔ افغان مشرقی صوبے خوست میں پاکستانی مبینہ بمباری بھی افغان طالبان کے لیے ایک واضح موقف تھا کہ پاکستان اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کسی حد تک جاسکتا ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان پر دباؤ اس لیے بڑھایا ہے کہ پاکستانی فوج کے مطابق سرحد پار سے چیک پوسٹوں پر حملوں اور سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان میں اضافہ ہوا تھا۔ 

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات پر پاکستان میں لوگوں کی رائے منقسم ہے لیکن اگر ریاستی اداروں نے مذاکرات کا آغاز کیا ہے تو یہ اہم ہے کیونکہ تشدد کے خاتمے کا حل مذاکرات ہی ہیں۔ ٹی ٹی پی اب افغانستان میں پہلے سے زیادہ منظم اور محفوظ ہے۔ نہ امریکی ڈرون حملوں کا خوف اور نہ اشرف غنی حکومت والی فورسز کی کاروائیوں کا ڈر۔ افغان طالبان کے گذشتہ سال اگست میں جیلوں پر حملوں کے دوران ٹی ٹی پی کے تمام گرفتار رہنما اور جنگجو رہا ہوچکے ہیں اور پاکستان کے لیے ماضی کی نسبت سکیورٹی خطرات زیادہ ہیں۔

Back to top button