پاکستان میں رواں ماہ کے اختتام پر ٹڈی دل کے بڑے حملے کا خدشہ

حکام نے خبردار کیا ہے کہ ٹڈی دل کے خلاف لڑائی کے لیے آئندہ ہفتہ انتہائی اہم ہوگا کیوں کہ رواں ماہ کے اختتام پر بڑے ٹڈی دل کے یہاں پہنچنے کا امکان ہے۔ انہیں یقین ہے کہ 1993 میں یہاں ہونے والے آخری بڑے حملے کے مقابلے میں ملک انتہائی سنجیدہ کیڑوں میں سے ایک سمجھے جانے والے کیڑے سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہے تاہم وسائل کی کمی اس پر قابو پانے کی کوشش میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (این ایل سی سی) میں سفارتی کورپس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے تین سے چار ہفتوں میں ٹڈیوں کا مسئلہ عروج پر پہنچ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اگلے 8 ہفتے، 15 جولائی سے 15 ستمبر کے درمیان مون سون اور حکومت کی کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کے ساتھ جاری وابستگی کی وجہ سے نہایت سخت ہوں گے’۔
پاکستان ٹڈیوں کے نقل مکانی کے راستے پر ہے اور یہاں موسم گرما اور بہار دونوں ہی کے افزائش کے علاقے یہاں ہیں لہذا یہ خاص طور پر ٹڈی کے حملوں کا ہدف ہے اور گزشتہ کئی سالوں میں اس وبا کا سامنا کرتا آرہا ہے۔ یمن، سعودی عرب اور عمان سے متصل جنوبی عرب جزیرے میں 2018 میں موسمیاتی تبدیلی سے بین الاقوامی ٹڈی کے بحران کے آغاز کے بعد پاکستان میں یہ اس کے حملے گزشتہ سال جون سے شروع ہوے تھے۔ اس سال توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان کے لیے 27 برسوں میں سب سے زیادہ خراب صورتحال ہوگی کیونکہ 2019 میں معمول کے مون سون سے زیادہ بارشیں اور سازگار حالات کی وجہ سے 3 نسلوں افزائش ہوئیں، گزشتہ سال اس ابھرتی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بہت کم تھی۔ دریں اثنا افریقہ، یمن اور خطے کے دیگر ممالک میں ٹڈیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے نے حملے کا شدید خطرہ پیدا کردیا۔ ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جارہا تھا کہ ٹڈی کے حملے جون سے شروع ہوسکتے ہیں تاہم اب تک ایسا نہیں ہوا۔
محمد افضل کا کہنا تھا کہ ’22 جون سے 10 جولائی تک ہماری توقع کے مطابق یہاں ٹڈیوں کی اتنی تعداد نہیں آئی اور جو بھی تعداد سامنے آئی ہے ان میں سے بیشتر بھارت کی جانب جاچکی ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکنہ طور پر موثر کنٹرول کے اقدامات، موسم بہار میں پیدا ہونے والی نسل کے بیشتر حصے کی بھارت کی جانب ہجرت نے اور جون کے دوران جنوبی ایران اور جنوب مغربی پاکستان میں نسبتا خشک حالات پیدا ہونے کی وجہ سے ہوا جس کی وجہ سے خاص طور پر بلوچستان میں پودے سوکھنے لگے تھے۔ این ایل سی سی کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر میجر جنرل سعید اختر نے کہا کہ ایران سے ہجرت حال ہی میں ختم ہوگئی ہے لیکن پاکستان ابھی بھی خطرے سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق ملک کے اندر خیبر پختون خوا کے کچھ حصوں میں بڑی عمر کے ٹڈی دل بن رہے ہیں جن علاقوں میں جون کے دوران ہلکی بارش ہوئی تھی۔
فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کی پیش گوئی کے مطابق اب ان جھنڈ کے چولستان کی جانب بڑھنے کی توقع کی جارہی ہے۔ مزید یہ کہ مون سون بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی پاک بھارت سرحد کے قریب علاقوں میں افزائش نسل کا آغاز ہونے کا امکان ہے۔ ایف اے او کو خدشہ ہے کہ اگر ٹڈی دل کا مقابلہ کرنے کے لیے اضافی اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ مون سون کے سیزن میں ٹڈیوں کی تعداد 20 گنا تک بڑھ سکتی ہے۔
دریں اثنا جنوبی افغانستان میں افزائش نسل کے ذریعے بننے والے چھوٹے گروپس کے پاکستان کی جانب آنے کا امکان ہے۔ اسی طرح ایف اے او نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے صوبہ سستان – بلوچستان اور جنوبی خراسان میں بھی محدود تعداد میں چھوٹے چھوٹے جھنڈ تشکیل پارہے ہیں جو پاکستان میں موسم گرما کے افزائش گاہوں میں منتقل ہوجائیں گی۔ تاہم سب سے بڑا خطرہ اس وقت شمالی صومالیہ میں مربوط جھیلوں سے ہے ، جن کی آئندہ چند ہفتوں میں یہاں پہنچنے کا آغاز ہونے کا امکان ہے۔

وزارت فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے سیکریٹری عمر حامد خان نے کہا کہ افریقہ سے آنے والے ٹڈی دل گزشتہ سال کی نسبت 400 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں۔ ان کو خدشہ ہے کہ جب تک مشرق وسطی، عمان، اور افریقہ سے کوئی معجزہ سامنے نہ آجائے یہ بڑے ٹڈی دل پاکستان کے ساحلی پٹی سے گزرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر چاروں طرف سے حملہ ہوسکتا ہہے اور یہ اگلے دو ہفتوں میں ہی ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ٹڈی دل بھارت میں داخل ہوے وہ واپس بھی مڑ سکتے ہیں جبکہ ایران اور افغانستان کی جانب سے متوقع ٹڈیوں کے حملے بھی ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ستمبر تک اور اس سے آگے تک بڑے پیمانے پر ان کا سامنا کر سکتے ہیں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button