پاکستان میں فلاحی اداروں کی کمر کیوں ٹوٹنے لگی؟

ایک طرف مہنگائی سے ستائے عوام فاقہ کشی پر مجبور ہیں تو دوسری طرف فلاحی اداروں کی ایسے افراد کی دادرسی کے لیے کوششیں بھی دم توڑتی جا رہی ہیں، عوام کی غربت کا عالم یہ ہے کہ امداد کے حصول کیلئے بچوں کی قربانی دینا پڑ رہی ہے۔
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی رہائشی ندا نے اپنی بیٹی امہ ہانی کو یاد کرتے ہوئے بتایا۔ امہ ہانی گذشتہ ماہ کراچی کے سائیٹ ایریا میں ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے زکوٰۃ کی تقسیم کے دوران مچنے والی بھگڈر کے نتیجے میں کچل کر چل بسی تھیں۔
ندا کی کہانی کے برعکس سدرہ کی باری آنے پر اُن کے بچوں کو ایک خیراتی ادارے کی جانب سے عید کے دو جوڑے دیے گئے اور کچھ راشن بھی، سدرہ لیاقت آباد میں کرائے کے گھر میں رہتی ہیں ان کے پانچ اور سات سال کے دو بچے ہیں، سدرہ ملازمت کرتی ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ ملازمت سے بھی گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔
کچھ ایسی ہی کہانی 50 سالہ شازیہ کی ہے۔ ایک فلاحی ادارے سے صدقے کی رقم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے والدین حیات نہیں جبکہ بھائی یا کوئی کفیل بھی نہیں اور وہ دو غیر شادی شدہ بہنیں ہیں۔
پاکستان سینٹر فار فیلنتھراپی (پی سی پی) کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں شہری ہر سال تقریباً 240 ارب روپے چیریٹی (صدقہ، خیرات، زکوٰۃ وغیرہ) کی مد میں مختلف خیراتی اداروں کو دیتے ہیں۔ یہ رقم ملک کے جی ڈی پی کا لگ بھگ ایک فیصد بنتا ہے۔ ماہ رمضان میں مذہبی فریضے کے طور پر مسلمان یہ رقوم عطیات کی مد میں دیتے ہیں۔
تاہم پاکستان کے محکمہ شماریات کے مطابق ملک میں مہنگائی اپنی بلند ترین شرح یعنی 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ایسی صورتحال میں سفید پوش اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی دستیاب وسائل میں گزارا نہیں کر پا رہے۔
سیلانی ویلفیئر کے سربراہ مولانا بشیر فاروقی حالیہ برسوں کو فلاحی کاموں کی ضمن میں ’کڑا وقت‘ قرار دیتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کبھی ایسا نہیں کہا تھا، لیکن پچھلے دنوں ہم نے یہ کہہ دیا کہ ہمارے پاس اب صرف چند دنوں کے پیسے بچے ہیں۔
دوسری جانب ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی بتاتے ہیں کہ اُن کے عطیات میں نہ اضافہ ہوا ہے اور نہ کمی، ’لیکن مہنگائی کے باعث قوت خرید آدھی ہو گئی ہے جس سے سروسز متاثر ہوں گی۔ ہر سال ماہ رمضان میں جو کراچی شہر کے لیے 40 لاکھ کا راشن لیتے تھے اب اس کی خریداری 80 لاکھ ررپے سے بھی زائد میں ہوتی ہے۔
جعفریہ ڈائلیسز سیل یعنی ’جے ڈی سی فاؤنڈیشن‘ بھی صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہے۔ تنظیم کے سربراہ ظفر عباس کہتے ہیں کہ اُن کے جتنے بھی ڈائلیسز سینٹر ہیں وہ فری ہیں مگر جس سینٹر کا پہلے ماہانہ خرچہ چالیس لاکھ روپے تھا تو اب وہ بڑھ کر ایک کروڑ روپے ہو گیا ہے۔اب اس صورتحال میں میں کس کے پاس مدد کو جاؤں۔
سیلانی فاؤنڈیشن کے سربراہ بشیر فاروقی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی بیشتر آبادی اپنی ضروریات کے لیے ان جیسے فلاحی اداروں کی جانب دیکھ رہے ہوتے ہیں، جیسے کہ عید، تہواروں، شادیوں، بیماری، تعلیم و صحت۔
ایک جانب جہاں پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی فلاحی اداروں سے توقعات بڑھ رہی ہیں تو وہیں فلاحی اداروں کو درپیش مسائل کے باعث یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ادارے بچ پائیں گے؟
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی بچت سے ایک ایمرجنسی فنڈ بنایا ہے، لیکن ہر فلاحی ادارے کے پاس یہ فنڈ نہیں ہوتے۔ چھوٹی سطح پر کام کرنے والے فلاحی ادارے ہمارے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں جن کے پاس اتنی بچت نہیں ہوتی۔ مگر اُن کی مشکلات سن کر خدشہ ہوتا ہے کہ ایسے ادارے اس صورتحال میں مشکل ہی سے بچ پائیں۔
پاکستان بھر میں 800 مراکز چلانے والی تنظیم کے سربراہ بشیر فاروقی کہتے ہیں کہ ’ہم نے اپنے شہروں کے مراکز کو کہہ دیا ہے کہ آپ کو اپنی سطح پر کام کرنا ہو گا۔ اس سے پہلے کراچی سب شہروں کو چلا رہا تھا، لیکن اب کراچی کے پاس اتنے وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ اب کراچی سے خیبر تک سب ٹرسٹی بورڈ ممبران کو کہہ دیا ہے کہ آپ کو اپنے مراکز خود چلانے ہوں گے۔

Back to top button