کچے کا علاقہ ڈاکوئوں کا گڑھ کیسے بن گیا؟

صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلع راجن پور میں کچے کا علاقہ نوگو ایریا کی وجہ سے مشہور ہیں اور یہاں جرائم پیشہ افراد کی بڑی تعداد بھی موجود ہے جس کے خلاف پنجاب پولیس کا آپریشن جاری ہے، اور پولیس ابتدائی کامیابی کے دعوے کر رہی ہے۔
کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کی کارروائیاں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہیں۔ اس سے قبل بھی پولیس سمیت دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سےماضی میں وقتاً فوقتاً آپریشنز کیے جاتے رہے ہیں جن میں ڈاکوؤں کو ہلاک اور گرفتار کرنے کے دعوے بھی کیے گئے۔
پنجاب پولیس ان دنوں کچے کے جس علاقے میں آپریشن میں مصروف ہے وہ جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور اور ضلع رحیم یار خان میں واقع ہے۔ ضلع راجن پور کے ساتھ ہی صوبہ سندھ کا ضلع کشمور شروع ہو جاتا ہے۔ راجن پور کے مغرب میں کوہِ سلیمان ہے جس کے آگے بلوچستان کا ضلع ڈیرہ بگٹی شروع ہو جاتا ہے ، یوں اس علاقے کو ساحلی پٹی بھی کہتے ہیں۔
راجن پور ، رحیم یار خان اور گردونواح میں متعدد قبائل موجود ہیں، مزاری قبیلے کے ذیلی متعدد بڑے قبائل ہیں جن میں لاکھانی ، بالاچانی ، سرگانی ، سکھانی ، گورچانی اور لاٹھانی شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کا تعلق مزاری قبیلے کے ذیلی قبیلہ بالاچانی سے ہے جوکہ یہاں کے بڑے قبائل میں شمار ہوتا ہے۔
پنجاب پولیس کا آٹھ مختلف گینگز کے خلاف کچے کے علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ ان گینگز میں لاٹھانی گینگ ، لنڈ گینگ، سکھانی گینگ اور دولانی گینگ سرِفہرست ہیں۔ ان گروہوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی آپس میں بھی چپقلش چلتی رہتی ہے اور یہ ایک دوسرے پر بھی حملے کرتے رہتے ہیں لیکن اگر حکومت کی طرف سے ان کے خلاف آپریشن شروع ہو جائے تو یہ آپس میں مل کر پولیس سمیت سیکیورٹی فورسز کامقابلہ کرتے ہیں۔
ڈی پی او راجن پور کے مطابق کچے کے علاقوں میں پولیس دستوں کی پیش قدمی جاری ہے اور پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں، ناصر سیال نے بتایا کہ کچے کے علاقے کچہ جمال ، کچہ کراچی ، کچہ روجھان ، بنگلہ اچھا ، کچہ ماچکہ ، کچی عمرانی کے علاقوں میں پولیس آپریشن ہو رہا ہے جس میں 11 ہزار اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ آپریشن کے دوران چار ڈاکو ہلاک اور 16 ملزمان گرفتار کیے جاچکے ہیں ۔
کچے کے جس علاقے میں آپریشن ہورہا ہے وہ دریائے سندھ کا اندرونی حصہ ہے جو کہ ایک جزیرے کی مانند ہے اسے کچہ جمال کہتے ہیں اور اس کی لمبائی 10 سے 11 کلو میٹر اور چوڑائی دو سے ڈھائی کلو میٹر ہے، اب حالیہ پولیس آپریشن کے دوران جو حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے اس میں دریائے سندھ کے اندر کشتی پر پولیس پیٹرولنگ کرنا بھی شامل ہے۔
راجن پور میں جرائم کے گروہ اچانک سے وجود میں نہیں آئے بلکہ اس کے پیچھے کئی برسوں کے تنازعات ہیں جوکہ بڑھتے بڑھتے نسلوں کو ختم کرنے کی دشمنیوں تک پہنچ گئے۔ یہ تنازعات فصلوں کو پانی لگانے اور فصلوں سے جانور گزرنے جیسے معمولی معاملات سے شروع ہوئے اور پھر قتل و غارت تک پہنچ گئے۔
ماہرین کے مطابق کچے کے علاقے میں اسلحے کی فراوانی اور کمین گاہوں میں اچھی خوراک کی دستیابی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں موجود افراد کے پاس مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں اور وہ جس بھی ناجائز ذرائع سے پیسہ کما رہے ہیں، انہیں رقم مسلسل مل رہی ہے، یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ راجن پور ، رحیم یار خان ، کشمور اور صادق آباد کے اضلاع میں ڈکیتی ، اغوا برائے تاوان اور اجرتی قتل کی وارداتوں سے یہ لوگ رقوم حاصل کرتے ہیں۔اپریل 2016 میں کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کا طوطی بولتا تھا جس نے 22 پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا تھا۔غلام رسول عرف چھوٹو نے 2005 میں انڈس ہائی وے پر 12 چینی انجینئروں کو اغوا کیا جس پر اس کا نام ملکی سطح پر سامنے آیا۔
یہ چھوٹو گینگ بھی کچا جمال کے علاقے میں اپنی کمین گاہیں بنائے ہوئے تھا اور یہاں آپریشن ضربِ آہن کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ اور رینجرز نے بھی حصہ لیا ۔ تاہم جب پاک فوج نے آپریشن کی کمان سنبھالی تو چھوٹو گینگ نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیئے۔
فوج داری قانون کے ماہر شاہد اسلام ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں بار بار گروہوں کا بننا اور قانون کو ہاتھ میں لینا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرنا کافی نہیں بلکہ ان کے سرپرستوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقے کے 25، 30 برس کے حالات دیکھے جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مجرم پالنا یہاں کے سرداروں کی مجبوری بن چکا ہے۔ سرداری کو قائم رکھنے اور ناجائز دولت کمانے کے لیے اشتہاریوں کو استعمال کیا جاتا ہے، اُن کے بقول سب اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں تو ہی کچے کے علاقے میں امن قائم ہوسکے گا۔

Back to top button