پاکستان میں مہنگائی کے دور میں شادی کتنی آسان ہے

تحریر: شجاع ملک
پاکستان میں موسمِ سرما کے آغاز سے ہی ’شادیوں کا سیزن‘ شروع ہو جاتا ہے۔ ڈھول، بینڈ باجا، جگمگاتی روشنیاں، دیگیں، ہر گلی محلے میں آپ کو ایسی ہی رونق نظر آنے لگتی ہے۔
ہمارے معاشرے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں جتنی برادریاں ہیں اتنی ہی اقسام کی روایات شادی سے منسلک بھی ہیں مگر ہماری ثقافت میں ایک بہت دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کی شادی کے اخراجات کی کئی سالوں تک منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ بڑی مشکل سے اس موقع پر اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھ پاتے ہیں اور کچھ لوگ دولت کو ایسے آگ لگاتے ہیں جیسے یہ سچ مچ کا میل ہے۔
مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں ان مختلف قسم کی شادیوں پر خرچہ ہوتا کتنا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے مختلف طبقات کے تین ایسے جوڑوں سے بات کی جن کی گزشتہ چند ماہ کے دوران شادیاں ہوئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں جوڑوں کا یہی کہنا تھا کہ شادی کے بڑے اخراجات میں چار اہم ترین خرچے ہوتے ہیں۔ جن میں بارات اور ولیمے کی تقاریب، دلہا دلہن کے کپڑے، زیور، اور دیگر ساز و سامان شامل ہیں۔
https://youtu.be/lSPFKFzLvDU
شادی میں سب سے بڑا خرچہ تقاریب کا ہے۔اس حوالے سے شادی کے بندھن میں بندھے والے یاسر سروش اور سدرہ وحید کے مطابق جب انہوں نے شادی کی پلاننگ شروع کی تو ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی مہندی اور بارات کی تقاریب ملا کر ایک ’شیندی‘ کر لیں گےمگر جب معاملہ خاندان کے سامنے آیا تو انھیں کہا گیا کہ یہ روایت کے مطابق نہیں ہے۔ یاسر اور سدرہ کی شادی کی تقاریب کے سٹیج اور ہال کی تزئین و آرائش دیکھیں تو آپ کو وہ کسی بالی وڈ فلم کے سیٹ سے کم نہیں معلوم ہوں گے۔ ہمارے بارات اور ولیمے دونوں پر تقریباً پانچ سے چھ لاکھ ڈیکور پر لگا اور تقریباً 10 سے 11 لاکھ کھانے پر، یعنی کل ملا کر فی تقریب 17 سے 18 لاکھ خرچ ہوا۔اس کے بعد جو مہندی وہ گُل کرنے کے چکر میں تھے، اس پر بھی ڈیکور اور کھانا ملا کر اضافی دس لاکھ لگ گیا۔یاسر اور سدرہ کی تقاریب پر تقریباً 44 سے 45 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔
دوسرا جوڑا فیضان سعید اور پلوشہ فیضان کا ہے ، فیضان ایک نجی بینک میں کام کرتے ہیں۔ فیضان اور ان کی نئی دلہن پلوشہ فیضان کا خیال ہے کہ تقاریب میں سب سے مزے دار مہندی کی شام ہوتی ہے۔اسی لیے انہوں نے مہندی کی شام ڈیکور پر زبردست خرچہ کیا اور دوسرے دنوں میں قدرے محدود بجٹ کے ساتھ کام کیا۔ ’ہمارا تینوں تقاریب کا تقریباً 15 لاکھ خرچہ آیا، جس میں آدھا کھانے کا تھا اور آدھا ہال کی سجاوٹ کا۔‘فیضان کو اپنے کچھ دوستوں کو اس بات پر قائل کرنا پڑا کہ اس موقع پر غیر ضروری اخراجات نہ کریں اور نہ کروائیں۔ان دونوں کی کی تقاریب کا کل خرچہ تقریباً 15 لاکھ روپے تک رہا۔
تیسرا جوڑا احمد علی اور ہما ابراہیم کا ہے ،نومبر 2019 میں شادی کرنے والے احمد علی اور ان کی نو بیاہتا دلہن ہما کے مطابق ان کی شادی کی تقاریب قدرے سادہ انداز میں منعقد کی گئیں مگر فیملی دوستوں اور مہمانوں کے جوش میں کوئی کمی نہیں تھی۔احمد بتاتے ہیں ’میری مہندی والے دن ہم نے ٹینٹ لگا کر تقریب کی تھی مگر وہاں پر بارش شروع ہو گئی۔ پلیٹوں میں کھانا بھی تھا اور پانی بھی ٹپک رہا تھا۔ پھر قریب میں ہی ہم نے ایک ہمسائے کی مدد لی اور خواتین کو ان کے گھر کے اندر منتقل کر دیا۔‘اسی طرح ہما بتاتی ہیں کہ ان کی مہندی کے روز ان کی بہنوں کا تو خوشی سے ناچ ناچ کر برا حال ہو گیا تھا۔ احمد اور ہما نے اپنی تقاریب پر کھانے اور سجاوٹ پر کل ملا کر تقریباً چار سے پانچ لاکھ روپے خرچہ کیا۔
دوسرا بڑا خرچہ زیور کا ہے ۔ اس حوالے سے یاسر اور سدرہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ برس جنوری سے زیور بنانا شروع کیا تو اس وقت انھیں یہ پریشانی تھی کہ تیزی سے سونے کی قیمت بڑھ رہی تھی۔
یاسر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ تو ان کے ساتھ ایسا بھی ہوا کہ انھوں نے اپنی دلہن کے لیے ایک سونے کا سیٹ چنا ہوا تھا اور گھر والوں کے ساتھ مشورے کے بعد انھوں نے فون پر اس کا آرڈر دیامگر شاید ہماری بات میں کچھ ابہام رہ گیا تھا۔ اگلے روز جب میں نے فون کیا تو جیولر نے کہا کہ جی سونے کا فی تولہ ریٹ دو سے ڈھائی ہزار بڑھ گیا ہے یعنی آپ کے سیٹ کی قیمت میں کافی فرق آ گیا ہے۔جس کے باعث ان کو زیور پر تقریباً 60 لاکھ کی رقم خرچ کرنا پڑی۔
دوسری طرف پلوشہ کہتی ہیں ’زیور ہم نے ابھی تھوڑی بنایا تھا۔ یہ تو ہمارے امی ابو نے پتا نہیں کب سے لے کر رکھا ہوا تھا۔‘ مگر اگر ان کے کل زیور کا آج کے ریٹ کے حساب سے قیمت کا اندازہ لگایا جائے تو پلوشہ کہتی ہیں کہ ’میرا کیلکیولیٹر وہاں پھنس جاتا ہے،فیضان اور پلوشہ کے زیور کا کل خرچ تقریباً 30 سے 35 لاکھ تک ہوا۔
تیسرا جوڑا یعنی احمد اور ہما کہتے ہیں کہ زیور کے معاملے میں انھیں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بس مل کر ہی کر لیا تھا۔ نہ لڑکے والوں نے جہیز کا کوئی مطالبہ کیا اور نہ ہی لڑکی والوں نے کسی زیور کا۔احمد کہتے ہیں کہ ایک جگہ جہاں انہوں نے پھر بھی اپنی دلہن کو زیور دینا ضروری سمجھا وہ تھا منھ دکھائی کا موقع، تاہم احمد اور ہما کے زیور کا کل خرچ تقریباً ایک لاکھ تک ہوا۔
تیسرا بڑا خرچہ شادی کے ملبوسات پر کیا جاتا ہے، اس حوالے سے سدرہ کہتی ہیں کہ انہوں نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ ان کی شادی کا جوڑا کتنے کا تھا۔ ’میں یہ سوچ رہی تھی کہ اگر میں نے کسی کو بتایا کہ میں نے شادی کے جوڑے پر کتنے پیسے لگا دیے ہیں تو سب کہیں گے کہ تم پاگل ہو! میری بارات کی شام کا جوڑا ہی صرف دس لاکھ روپے کا تھا۔جب یاسر اور سدرہ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے شادی کی تقاریب کے لیے دلہا دلہن کے کپڑوں پر کل کتنے پیسے خرچے تو یاسر کہتے ہیں میرے آپ نہ بھی گنیں تو خیر ہے۔یاسر اور سدرہ کے شادی کے ملبوسات کا کل خرچ 18 لاکھ تک ہوا۔
دوسری طرف پلوشہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی تھیں کہ کسی ڈیزائنر سے اپنا شادی کا جوڑا بنوائیں مگر فیضان اس بات میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے پلوشہ کو سمجھایا کہ ’دلہن کا جوڑا تم نے زندگی میں ایک مرتبہ پہننا ہے اس پر اتنا خرچہ نہ کرو۔تاہم پلوشہ بھی اس کا کریڈٹ کچھ اس طرح لیتی ہیں،’دیکھیں میں نے بات مانی نا۔۔۔ اب میں روز اس جوڑے کو الماری میں دیکھتی ہوں کہ کب اسے پہنوں گی۔فیضان اور پلوشہ کے شادی کے ملبوسات کا کل خرچ 5 سے 6 لاکھ تک گیا۔
اسی طرح ہما کہتی ہیں شادی پر میری کوشش تھی کہ عروسی جوڑا زیادہ مہنگا نہ ہو۔ اور دیگر کپڑوں میں میں تعداد کم کر دوں مگر کپڑے اچھے لوں۔ میں نے اپنی شادی کا جوڑا 35 ہزار میں بنوایا تھا مگر اس پر زیادہ کام نہیں کروایا۔ میرے جوتوں پر تقریبآً دس ہزار لگے اور دیگر کپڑوں کو شامل کر کے تقریباً 60 ہزار تک خرچہ ہو گیا۔احمد اور ہما کے شادی کے ملبوسات پر تقریباً 90 ہزار روپے خرچ ہوئے۔
ان تین طرز کی شادیوں میں اخراجات کی نوعیت کے علاوہ ایک اور چیز جو ایک جیسی تھی وہ یہ تھی کہ چاہے تینوں جوڑوں نے مختلف انداز میں شادیاں کی ہوں، تینوں کی خوشیاں ایک جیسی تھیں۔
ہما اور احمد کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے خرچہ منصوبہ بندی کے تحت کیے اور جو کچھ ہوا وہ اس سے بہت مطمئن ہیں۔احمد کہتے ہیں کہ اگر وہ اس سے زیادہ خرچہ کر بھی سکتے تو شاید نہ کرتے کیونکہ ان کی کوشش تھی کہ وہ شادی سادگی کے ساتھ کریں۔
اسی طرح فیضان اور پلوشہ کہتے ہیں کہ شادی پر خرچہ ایک ایسی چیز ہے جو جتنی بڑھائیں بڑھ سکتی ہے۔ ’آپ نے شادی کرنی ہے تو آپ کم بجٹ میں بھی کر سکتے ہیں اور زیادہ میں بھی۔۔۔ یہ آپ پر منحصر ہے۔‘
یاسر اور سدرہ کہتے ہیں کہ شادی کے دنوں میں تو شاید وہ تیاریوں کے انبار سے قدرے پریشان تھے مگر ان دنوں سے وہ بہت اچھی یادیں سمیٹ سکیں ہیں۔

بشکریہ: بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button