پاکستان واپسی پر نواز شریف کا بیانیہ کیا ہو گا؟

4 سال بعد نواز شریف کی 21 اکتوبر کو وطن واپسی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ ملک میں جہاں ایک طرف نون لیگی قیادت نے پارٹی قائد کے استقبال کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ وہیں ملک کو درپیش مہنگائی اور بے روزگاری سمیت دیگر چیلنجز کے درمیان نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ایسے میں یہ سوال بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ سابق ملٹری و جوڈیشل قیادت کے احتساب کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والے نواز شریف وطن واپسی پر کیا بیانیہ اپنائیں گے؟ کیا اُن کی پارٹی ملک کے معروضی حالات میں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنانے کی متحمل ہو سکتی ہے؟

خیال رہے کہ نواز شریف کی آمد سے قبل اُن کی صاحبزادی مریم نواز اور سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لاہور کے مختلف علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں بھی شروع کر رکھی ہیں۔ جس میں ان کی جانب سے انتقام یا احتساب کی بجائے عوامی خدمت اور معیشت کی بحالی کے ایجنڈے کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد لگتا ہے کہ نون لیگی قیادت سابق عسکری و عدالتی قیادت یعنی جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل فیض حمید، جسٹس ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس عمر عطا بندیال کے احتساب سے پیچھے ہٹ چکی ہے جبکہ قائد مسلم لیگ نون بھی واضح اعلان کر چکے ہیں کہ ان کا پہلا اور آخری ایجنڈا صرف اور صرف ملکہ معیشت کی بحالی ہے۔

دوسری جانب سیاسی ماہرین کے مطابق نواز شریف کو اُن کی جماعت کے لوگوں کی جانب سے یہ پیٖغام دیا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی صورت میں اُنہیں اور اُن کی جماعت کو نقصان ہو سکتا ہے۔سینئر صحافی اور تجزیہ کار افتحار احمد کہتے ہیں کہ کوئی بھی سیاست دان ملک سے باہر رہ کر اپنا سیاسی بیانیہ نہیں بنا سکتا۔ اُن کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم لندن میں بیٹھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب تو کرتے رہے ہیں، لیکن عوام میں آ کر بات کرنا مختلف ہوتا ہے۔افتحار احمد کے بقول نواز شریف یا اُن کی جماعت کا کوئی منشور جاری ہو گا تو اصل میں وہی اُن کا بیانیہ ہو گا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی سمجھتے ہیں کہ نواز شریف اپنا بیانیہ ملکی معروضی سیاسی حالات کہ وجہ سے نہیں  بنا پائے کیونکہ پاکستان کی سیاست میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔اُن کے بقول نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے بعد متاثر ہوا۔اُن کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ سے شکایات تھیں، لیکن عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔اُن کے بقول نواز شریف کے لیے بیانیہ تشکیل دینا کافی مشکل تھا کیوں کہ ایک طرف نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے شکایات تھیں تو دوسری طرف عمران خان صاحب کے خلاف جو تحریک عدم اعتماد تھی وہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حق میں بھی ووٹ دیا جس پر سوال اُٹھے تھے۔مجیب الرحمن شامی کے بقول ان حالات میں نواز شریف کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ لے کر میدان میں اُتریں۔

اُن کے بقول ‘پاور پالیٹکس’ میں اپنے حریف کو گرانے کے لیے سب کچھ کیا جا سکتا ہے اور نواز شریف نے بھی ایسا ہی کیا۔مجیب الرحمٰن شامی کے بقول شہباز شریف نواز شریف کی مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔اُن کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کے دور میں ملک کے حالات میں بہتری آئی تھی اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر مسلم لیگ (ن) عوام میں جا رہی ہے۔اُن کے بقول سی پیک، موٹرویز، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور دہشت گردی میں کمی بلاشبہ نواز شریف کے دور میں ہی آئی تھی۔مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ شہباز شریف اسی بنیاد پر نواز شریف کے لیے عوام کی پرانی محبت دوبارہ جگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ نواز شریف لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک اپنے متعدد بیابات میں کہہ چکے ہیں کہ چند طاقت ور شخصیات کا احتساب ہونا چاہیے جن پر وہ اکثر و بیشتر نام لے کر تنقید بھی کرتے رہتے ہیں۔گزشتہ ماہ نواز شریف نے اپنی جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق آئی ایس آئی چیف جنرل (ر) فیض حمید، سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ اور ثاقب نثار قوم کے ‘مجرم’ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔نواز شریف کے اِس خطاب کے محض چند دِن بعد ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما جاوید لطیف نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جج صاحبان اور جنرل صاحب کا احتساب نہیں چاہتی۔

تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے بقول اِس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ وہ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب اِس طریقے سے جلسوں میں تو نہیں کر سکتے۔اُن کے بقول اِسی طرح اگر وہ ریٹائر ہونے والے جرنیلوں پر برسیں گے تو اُس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور حاضر سروس جرنیل کی ناراضگی مول لینا ویسے ہی مشکل ہے۔

Back to top button