پاکستان کے پختون خطے کو جنگ کی لیبارٹری کس نے بنایا ؟

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ھے کہ گزشتہ چالیس برس میں ملکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی جنگوں اور تجربات کیلئے پختون خطے کو میدان بنا رکھا ھے ۔یوں بدقسمتی سے پختون بیلٹ ایک لیبارٹری کی صورت اختیار کرگئی ہے ۔ اپنے ایک کالم میں سلیم صافی لکھتے ہیں کہ اس لیبارٹری میں ان منحوس تجربات کا یہ سلسلہ گزشتہ چالیس سال سے جاری ہے لیکن گزشتہ بیس سال کے دوران جو جنگ پختون بیلٹ میں وار آن ٹیرر کے نام پر لڑی گئی، اس کا صرف ایک پہلو یعنی ستر اسی ہزار انسانوں کا لقمہ اجل بن جانا ہی دنیا کے سامنے ہے ۔حقیقت مگر یہ ہے کہ اس جنگ سے پورے پاکستان اور بالخصوص پختون بیلٹ کے باسی کئی حوالوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس جنگ نے انکی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا۔سیاست اور اس کے کردار بری طرح متاثر کئے۔ انکے ادب اور شاعری کو غیرمعمولی حد تک متاثر کیا ۔ انکی تہذیب اور ثقافت اور سماجی رویوں کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا ۔لیکن دنیا اور باقی اہل پاکستان ان پہلوئوں سے بے خبر یا لاتعلق رہے ۔ یہ گندی اور زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرنے والی جنگ اگر دنیا کے کسی اور ملک میں لڑی گئی ہوتی تو اب تک اس پر سینکڑوں فلمیں بن چکی ہوتیں اور ہزاروں کتابیں لکھی جاچکی ہوتیں یا پھر جگہ جگہ اس کے میوزیم بنے ہوتے ,لیکن افسوس اس حوالے سے پاکستان میں جو کچھ لکھا اور کہا گیا وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو کچھ لکھا بھی گیا ہے وہ مغربی مصنفین نے لکھا ہے جبکہ ہمارے اپنے لوگوں کی کتابیں یا دستاویزی فلمیں وغیرہ نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ادب، شاعری اور موسیقی سے پختونوں کے لگائو کا یہ عالم ہے کہ آگ و خون کے یہ چالیس سال بھی انہیں ان چیزوں سے دور نہ کرسکے۔ البتہ ان جنگوں نے ان کے کلچر کے ساتھ ان چیزوں کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ہم نے یہ صورت حال بھگتی ہے کہ بم دھماکے میں زندگی کھونے والے کسی عزیز یا دوست کی فوتیدگی کی اطلاع انکا کوئی عزیز دیتا تو ساتھ ہی یہ بھی التجا کرتا کہ بس صرف آپ کو مطلع کرنا تھا باقی پلیز آپ جنازے میں نہ آئیں کیونکہ مزید دھماکوں کا خطرہ ہے اور آپ کے آنے سے ہمارے جنازے میں بھی دھماکے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کسی معاشرے کی اقدار کی تباہی اور کیا ہوگی کیونکہ پختونوں میں غمی شادی پر نہ جانے کو معاف نہیں کیا جاتا تھا لیکن اس دور میں اپنوں کی شہادت کی اطلاع دینے والا یہ تلقین بھی کرتا کہ آپ جنازے میں نہ آئیں۔ شاعری کے ان حالات سے متاثر ہونے کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ اس دوران مقبول نظمیں اور غزلیں وہ رہیں اور ہیں جو وار آن ٹیرر اور اس کے اثرات سے متعلق تھیں۔ مثلاً اس وقت سب سے زیادہ فضل سبحان عابد کی جو نظم مقبول رہی وہ اس منحوس جنگ سے متعلق تھی۔ نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ہمارے ہاں جو لغو اور بیہودہ قسم کے سی ڈیزگانے بنتے رہے، وہ بھی ان حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ مثلاً ایک بیہودہ گانا یہ رہا کہ خاتون بیہودہ ناچ کرتی ہوئی کہہ رہی ہے کہ ”خود کشہ دھماکہ یمہ خودکشہ دھماکہ“ یعنی میں خودکش دھماکہ ہوں۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ امریکہ بھی ہمارے خطے میں ڈبل گیم کررہا ہے ۔ وہ القاعدہ سے نمٹنے کیلئے یہاں آیا لیکن پھر ابتدا میں افغانستان کو مسکن بنا کر پڑوسی ممالک کو سیدھا کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ افغانستان کو پوری طرح سنبھالا نہیں تھا اور عراق میں جاگھسا ۔ اسی طرح امریکہ اور پاکستان نے مل کر سوویت یونین کے مقابلے میں جہادی کلچر کو پروان چڑھایا۔پھر مجاہدین میں پاکستان نے گلبدین حکمتیار کی سلیکشن کی اور ان سے دیگر مجاہد لیڈروں کو پٹوانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے خلق اور پرچم کے وابستگان کے علاوہ وہ مجاہد بھی پاکستان مخالف بن گئے ۔ پھر ھم نے گلبدین حکمتیار کے مقابلے میں طالبان کو سپورٹ کیا۔ پھر پاکستان نے نائن الیون کے بعد طالبان کے مقابلے میں امریکہ کا ساتھ دیا لیکن 2003 میں جب امریکہ نے پاکستان کی انڈیا سے متعلق تشویش پر توجہ نہ دی تو پاکستان نے پھر درپردہ طالبان کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔پاکستان ٹی ٹی پی سے بھی لڑتا رہا لیکن ٹی ٹی پی کے سرپرست افغان طالبان کو بھی سپورٹ کرتا رہا۔ ان بیس برسوں میں پاکستان امریکہ کا اتحادی بھی تھا لیکن دونوں کا ایک دوسرے سے رویہ دشمنوں والا بھی رہا ۔ اسی طرح پاکستان حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں کو باقی دنیا کی طرح تسلیم کرکے اس کا اتحادی بھی رہا لیکن بیس سال میں دونوں کا عملی رویہ ایک دوسرے کے ساتھ دشمن والا رہا ۔ طالبان کے کچھ لیڈروں کو پاکستان میں گرفتار بھی کیا گیا تھا اور اسکےساتھ پاکستان نے طالبان کو پناہ بھی دی ہوئی تھی ۔ گویا ایک گندی جنگ تھی جو عالمی اور علاقائی کھلاڑی پختون سرزمین پر لڑتے رہے ۔

Back to top button