پاک بھارت سندھ طاس معاہدہ داؤ پر کیوں لگ گیا؟

ہمسایہ ملک بھارت کی جانب سے دریائی پانیوں کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے پر نظرثانی کے عندیے کے بعد یہ معاہدہ دائو پر لگ گیا ہے، چھ دہائیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگوں اور سفارتی تناؤ کے باوجود یہ معاہدہ برقرار رہا تاہم رواں برس جنوری میں بھارت کی طرف سے اس معاہدے پر نظرِ ثانی کے لیے پاکستان کو بھیجے گئے ایک نوٹس پر پاکستانی پالیسی ساز اور ماہرین کی تشویش بڑھ گئی ہے۔
پاکستانی حلقوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ بھارت کی جانب سے اس معاہدے پر نظر ثانی کے مطالبے کا مقصد نہ صرف پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے بلکہ پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں پر بھارت کے ڈیم بنانے کے منصوبوں پر اعتراض کو خاموشی میں بھی بدلنے کی کوشش ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نےگزشتہ ہفتے پریس بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر بھارتی خط کا جواب دے دیا ہے جس کی تصدیق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے بھی کی ہے۔ ارندم باگچی کے مطابق پاکستان کے خط کا جائزہ لے رہے ہیں اوراس بارے میں متعلقہ اسٹیک ہولڈر زسے مشورہ کیا جائے گا۔
بھارت کی طرف سے پاکستان کو ‘سندھ طاس’ معاہدے پر نظرِ ثانی کے لیے بھیجے گئے نوٹس کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم اس معاہدے کے تحت کوئی بھی فریق یک طرفہ طور پر معاہدے سے الگ نہیں ہو سکتا، معاہدے کےآرٹیکل 12 کے تحت معاہدہ فریقین کی رضامندی سے اسی صورت میں ختم ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک اس کی جگہ ایک نیا معاہدہ نہیں کر لیتے۔
عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کی درخواست پر غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرنے اور ثالثی عدالت کے سربراہ کی تقرری کے اعلان کے کچھ ماہ بعد بھارت نے پاکستان کو معاہدے سے متعلق نوٹس بھیجا تھا، ماہرین کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان اور کشیدگی کے پیشِ نظر معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کے لیے باہمی سطح پر بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی کہتے ہیں کہ بھارتی حکومت سندھ طاس معاہدے کو دوبارہ ری اوپن کرنا چاہتی ہے تاہم بھارت کی جانب سے تاحال یہ اشارہ نہیں ملا کہ وہ اس معاہدے میں تنازعات کے حل کے لیے دیے گئے طریقہ کار میں تبدیلی چاہتا ہے یا نیا معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
احمد بلال صوفی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے معاملے پر جنگ نہیں ہوئی۔ معاہدے میں کسی بھی فریق کی طرف سے باہمی اتفاق رائے کے بغیر اگر کوئی چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے تو یہ خطے کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر 2016 میں پانی کے معاملے پر ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔بعدازاں اس کمیٹی نے 2021 میں موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کا ذکر کرتے ہوئے اس معاہدے پر نظر ثانی کی تجویز پیش کی تھی۔
پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن کہتی ہیں اگر بھارت کو معاہدے پر تحفظات ہیں تو وہ کمیشن کی سطح پر یہ معاملہ اُٹھا سکتا ہے۔گزشتہ ہفتے پارلیمان کے ایوانِ بالا (سینیٹ )میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے معاہدے میں ترمیم کی تجویز کو مبہم قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کی رضا مندی کے بغیر اس معاہدے پر نظرِ ثانی نہیں ہو سکتی۔
ماہر ماحولیات علی توقیر شیخ کہتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان کو بھیجے گئے نوٹس میں جو معاملات اٹھائے ہیں وہ کبھی بھی انڈس واٹر کمیشن کی سطح پر نہیں اٹھائے گئے۔ان کے بقول، اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو اعتراضات پر مشترکہ طور پرایک الگ سے سے کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کو ری اوپن کرنا مسائل کا حل نہیں۔
توقیر شیخ کہتے ہیں کہ جب 1960 میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا تو اس وقت ان کےبقول غیر معمولی موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجۂ حرارت جیسے مسائل اتنے کھل کر سامنے نہیں آئے تھے، احمر بلال صوفی کے خیال میں دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے سفارتی تناؤ کی وجہ سے سندھ طاس معاہدے میں کوئی ترمیم نہیں ہو سکتی۔
اُن کے بقول بھارت کی جانب سے کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا ہے لیکن سفارت کاری وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر دونوں ممالک کشمیر، سرکریک، سیاچن اور پانی کے تنازعات حل کر سکتے ہیں۔
